غم حسین خدا سب کو سرفراز کرے

59

محرم الحرام کا مہینہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، سال کا اختتام حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے تذکرہ کے ساتھ ہواتھا. سال کے ابتداء وانتھاء میں قربانی ہمیں دعوت غور و فکر دے رہی ہے. اب چونکہ ماہ محرم الحرام چل رہا ہے پوری دنیا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں محافل منعقد ہورہی ہیں، اس لیے کچھ ذکر حسین کرکے یوسف کے خریداروں کی فہرست میں اپنا نام بھی درج کراتے ہیں. اللہ تعالٰی اپنی راہ میں قربان ہونے والوں کے حوالے بیان فرماتا ہے
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
ترجمہ :اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں ) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنادو

یزید نے تخت نشینی کے بعد امام عالی مقام کو مدینے شریف کے حاکم کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا کہ امام عالی مقام میرے ہاتھ پر بیعت کر لیں، لیکن مدینے شریف کے حاکم نے اس پیغام پر توجہ نہیں دی، اسکے بعد امام عالی مقام تک بات پہنچی تو آپ نے مسلم بن عقیل اور انکے صاحب زادے کو کوفہ روانہ کیا۔

امام عالی مقام نے مسلم بن عقیل کو اور آپ کےصاحب زادےکو کوفہ روانہ کیا اور جیسے ہی ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ مسلم بن عقیل کوفہ میں ہیں اور مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کی، جیسے ہی یہ اطلاع ابن زیاد کو ملی وہ کہنے لگا :جو مسلم بن عقیل کی وفاداری چھوڑدیں گے اس کو ہماری طرف سے امن وامان دیا جائیگا۔
مسلم بن عقیل کوجب معلوم ہوا کہ ابن زیاد آپ کی تلاشی تمام کوفہ میں کروایا جب مسلم بن عقیل محب اہل بیت ہانی بن عروہ کے ہاں تھے جیسے ہی ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ مسلم ہانی بن عروہ کے پاس ہیں تو ہانی کو بلا کر قید میں ڈال دیا انکے ساتھ ظلم کیا ۔ ابن زیاد کے لشکر نے چاروں طرف سے گھیر کرمسلم بن عقیل کو زخموں سے چور چور کردیا۔ چنانچہ محمد بن اشعث کو آپ پر رحم آیا اور وہ آپ کوقید کر دیا ۔ جب ابن زیاد کو معلوم ہواکہ آپ قید کیےہوے ہیں پس آپ کو قتل کرنے کا حکم نافزکردیا۔

امام عالی مقام جب اپنا سفر کوفہ کی طرف لیجانے لگے تو اہل مکہ ومدینہ نے اس سفر سے باز رکھنے کی کوششیں کی لیکن آپ کو روکنے میں اہل مکہ ومدینہ ناکام ثابت ہوے ۔ابن عباس نے فرمایا کہ آپ تنہا جاںٔیں آپ کے اہل خانہ کو نہ لے جاںٔیں مجھے خوف ہیکہ کہیں آپ کے اہل خانہ کے ساتھ ظلم وزیادتی ہو۔
لیکن آپ نے ان تمام کی ترغیب کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہے بالآخر آپ 3 / ذوالحجہ/60ھ کے دن آپ اپنے اہل وعیال کے ساتھ مکہ مکرمہ سے کوفہ کا سفر طے کیا ۔ آپ کی روانگی کے بعد آپ کے چچا زاد بھائی نے آپ کو خط لکھا اور فرمایا جس جگہ آپ جا رہے ہیں وہاں اہل بیت کے لئے خطرہ ہے۔ آپ کے چچا زاد بھائی اور حاکم مکہ نے بھی آپ کو کوفہ جانے سے روکا آپ نے فرمایا "لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں قضاء الہی آسمان سے اتری اللّٰہ جو چاہتا وہی ہوتا ہے”۔
امام عالی مقام کے قاصد قیس کو ابن زیاد کے آدمیوں نے گرفتار کر لیااور آپ کے قافلے کو مقام بیضہ پر روک دیا چنانچہ آپ نے مقام بیضہ پر خطبہ دیا آپ اپنے مقاصد کی وضاحت کی۔ چنانچہ آپ وہیں پر اپنا خیمہ لگا لیا ۔
دشمنان اسلام کو جوابات دیتے گئے آخر میں جب اپنے نانا کی
شریعت پر بات آئی تو آپ نے تن،من،دھن سب کچھ لُٹا دیا۔
واقعہ یکم/محرم الحرام 61ھ تا 9/محرم الحرام/61ھ: یکم/محرم الحرام/٦١ھ کےدن ہی سے آپ پر طر ح طرح کے ظلم کرتے گئے صرف آپ کے خیمے ہی سے دشمنی تھی۔
بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے تھے لیکن دشمنان اسلام کو بچوں پر بھی رحم نہیں آیا آخر میں پاس کی وجہ سے بچوں کی زبانیں لبوں کے باہر آگئی۔ آخر میں جب بھوک آور پیاس کی وجہ سے کمزوری آگئی۔ یزید نے جنگ کی دعوت دی آپ نے اپنے بھائی کے لختِ جگر جنگ کے لیے گئے ۔جب آپ میدان میں جنگ کرنے کے لیے گئے تو آپ کے جلال کو دیکھ کر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا آخر میں آپ کو پیچھے سے وار کیا آپ شہید ہو گئے یوں ہی تمام جا نثارِ امام عالی مقام شہید ہوگئے۔ صرف اب خیمہ میں امام عالی مقام اور امام زین العابدین تھے۔
10/محرم الحرام کی صبح صرف آپ کے خیمہ میں امام زین العابدین نے فرمایا اب مجھے اجازت دی جیے میں جاؤنگا۔امام عالی مقام نے فرمایا اب ہماری نسل آپ ہی سے باقی رہنے والی ہے آپ مت جا نا میں جاؤنگا۔ تاریخ میں آتا ہے کے اس وقت امام زین العابدین کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے آپ کو جنگ کی اجازت نہیں ملی۔
واقعہ امام عالی مقام میدان کربلامیں
تاریخ میں آتا ہے کہ جب امام عالی مقام جب میدان کربلا پہنچے پس آپ کے چہرے کو دیکھ کر ایسا دکھ رہا تھا جیسے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے امام عالی مقام کا چہرئے انور ہو بہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دکھتا تھا۔
امام عالی مقام سے مقابلہ کے لیے آتا تو بچکر نہیں جاتا لیکن آپ کے تمام اہل خانہ کے سروں کو تن سے جدا ہوگئے آخر میں آپ تنہا تھے۔ دوپہر تک آپ کا پورا گھر لٹ گیا۔ آپ کو لشکرنے چاروں طرف سے نرغے میں لے لیا لیکن آپ کو شہید کر نے کسی کی جرت نہیں ہوی چنانچہ ایک بدبخت( زرعہ بن شریک تمیمی )نے بالآخر آپ کو پیچھے سے وار کیا ۔آپ کا سر انور تن سے جدا ہو گیا۔
شہدائے کربلا کے سروں کو گھوڑوں کے نیزے کی نوک پر رکھ کر ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا۔ اور بعد میں یزید کے دربار میں پیش کیا اسکے بعد یزید نے کچھ اشعار پڑھےاس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔” کاش آج بدر میں مرنے والے میرے بزرگ ہوتے (جو کفار کے طرف سے جنگ کئے) تو خو شی سے اچھل جاتے۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی
امہات المومنین بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے کربلا کی مٹی دی۔
فرمایا جب میرے نواسے کی شہادت ہو گی اس وقت مٹی سرخ ہوجائیگی (یہ مٹی خون میں تبدیل ہوجائیگی) سمجھ جانا میرا بیٹا حسین شہید ہوگیا۔ آپ کی بیٹی اس دن امہات المومنین سے ملنے گئی آپ زارو قطار رونے لگیں اور فرمایا ابھی حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم میرے خواب میں آپ کی داڑھیے مبارک پر گرد لگی ہوی تھی میں نے پوچھا آپ کہاں سے تشریف لائے آپ نے فرمایا میں کربلا سے آرہا ہوں میرا بیٹا حسین شہید ہوگیا۔ جیسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نیند سے بیدار ہوی آپ نے اس مٹی کو دیکھی تو وہ مٹی جون میں تبدیل ہو چکی تھی۔
اہل بیت اطہار کی شام کو روانگی
اب آپ کے خیمہ میں جو بچ گئے تھے انہیں ملک شام میں یزید پلید کے کے پاس لے گئے اور امام عالی مقام کے اہل بیت کے سامنے آپ کے سر جو تن سے جدا تھا اس کے لبوں پر ابن زیاد اپنی چھڑی سے مار رہا تھا۔یہ سیاہ بخت انسان حالت خستہ ہونے کے باوجود بدتمیزی سے پیش آرہا تھا۔ وہاں موجود صحابی رسول حضرت زید بن ارقم نے فرمایا تو اپنی چھڑی اس پاک لبوں سے ہٹا لے ۔”قسم ہے اس زات کے جسکا کوئی معبود نہیں ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لبوں کو چومتے تھے”۔ ابن زیاد فرمایا اے بوڑھے اگر تو بوڑھا نہ ہوتا تیری عقل سٹھیائی ہوی نہ ہوتی تو میں تیرا سر بھی تن سے جدا ہو جاتا۔اس ظلم کو دیکھتے ہی زید بن ارقم اٹھے اور کہنے لگے۔”اے لوگوں سن لو تم لوگ آج سے غلام بن گئے ہو۔ تم لوگوں نے زہرا بطول کے لخت جگر کو قتل کر نے والے کو اپنایا”۔ جسکا رویہ اچھوں کے ساتھ برا اور بروں کے ساتھ اچھا تھا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں امام عالی مقام کے تن من دھن کی قربانیاں مقبول ہوی انشاءاللہ تا قیام قیامت تک ہر صدی کے علماء اس عظیم قربانی سے فیض یاب ہوتے رہینگے۔

اہل حق باطل کے آگے مات کھا سکتے نہیں
سر کٹا سکتے ہے لیکن سر جھکا سکتے نہیں