پروپیگنڈہ مشنری کے منھ پر عدلیہ کا طمانچہ

26

بامبے (ممبئی) ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت کے غیر ملکی اراکین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے جن پر ٹورسٹ ویزا کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہلی میں واقع مرکز حضرت نظام الدین کے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شامل ہونے، الگ الگ مساجد میں رہنے اور لاک ڈاون کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جبکہ تبلیغی اراکین کا کہنا ہے ا کہ وہ ہندوستان کی حکومت کے ذریعہ جاری ویزا پر ہندوستان آئے تھے، تاکہ وہ ہندوستان کی تہذیب، مہمان نوازی اور کھانے کا تجربہ کرسکیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر ان کی جانچ کی گئی اور جب وہ نگیٹیو پائے گئے تبھی انہیں باہر آنے دیا گیا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ احمد نگر پولیس افسر کو آنے کی اطلاع دی تھی، لیکن 23 مارچ کو لاک ڈاون نافذ کئے جانے کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی، ہوٹل اور لاج بند ہونے کی وجہ سے انہیں مسجد میں رہنا پڑا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ کسی بھی طرح سے ضلع مجسٹریٹ کے حکم کی خلاف ورزی میں ملوث نہیں تھے اور مرکز میں بھی سوشل ڈیسٹنسنگ کے ضوابط پر عمل کیا گیا تھا، معاملے کی سماعت کے بعد کورٹ نے اپنے فیصلے میں پایا کہ ریاستی حکومت نے سیاسی مجبوری کے تحت کام کیا اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف ایف آئی آر کو بدقسمتی مانا جاسکتا ہے، جسٹس نلوڑے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب وبا یا پریشانی آتی ہے تو حکومت بلی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ اس بات کے آثار ہیں کہ غیر ممالک کو بلی کا بکرا بنانے کے لئے منتخب کیا گیا، میڈیا میں تبلیغی جماعت کردار کشی کی تنقید کرتے ہوئے جسٹس نلوڑے نے کہا، ‘دہلی مرکز میں شامل ہونے آئے غیرملکی شہریوں کے خلاف پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بہت پروپیگنڈہ چلایا گیا اور ایسی تصویر بنانے کی کوشش کی گئی کہ یہی لوگ ہندوستان میں کووڈ 19 پھیلانے کے ذمہ دار تھے، ان غیرملکی شہریوں کو مجازی طور پرہراساں کیا گیا، مزید انہوں نے کہا کہ، ہندوستان میں انفیکشن کی سابقہ اور موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ ان عرضی گزاروں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی، غیرملکی شہریوں کے خلاف کی گئی اس کارروائی کے بارے میں افسوس کرنے اور اس کارروائی سے نقصان کی بھرپائی کے لیے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے لیے یہ صحیح وقت ہے، آخر میں ، پرانی ہندوستانی کہاوت ’’آتیتھی دیوو بھوا‘‘ (ہمارے مہمان ہمارے خدا کے مثل ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس نلوڈے نے کہا کہ موجودہ معاملے کے حالات ایک سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اپنی اس عظیم روایت اور ثقافت پر عمل کررہے ہیں ؟ کووڈ۔۱۹؍ وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران ، ہمیں مزید رواداری برتنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے مہمانوں خصوصاً موجودہ درخواست دہندگان کی جانب زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ الزامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان کی مدد کرنے کے بجائے ان پر الزامات لگا کر جیلوں میں یہ کہتے ہوئے قید کررہے ہیں کہ وہ سفری دستاویزات کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور وائرس وغیرہ کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں.
کورٹ کے اس فیصلے کے بعد گودی میڈیا میں ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے, ایک سناٹا طاری ہے, بے قصور اراکین جماعت کو گرفتار کرنے والا پولیس محکمہ بھی کچھ تبصرہ کرنے سے گریز کر رہا ہے, صوبائی یا مرکزی حکومتوں کے ترجمان یا وزراء میں سے کسی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے, کیونکہ دراصل یہ سارا تانا بانا انہی لوگوں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا اور کورٹ کا فیصلہ ان سب کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے, دراصل پہلے پولیس نے بغیر کسی تحقیق کے چند او قوانین کو بنیاد بنا کر تبلیغی جماعت کے اراکین کو گرفتار کر لیا تھا, اس کے بعد پروپیگنڈہ مشنری یعنی گودی میڈیا نے بھی وہی روش اختیار کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کو سیاسی سماجی اور معاشرتی طور پر بد نام کرنے کی پوری کوشش کی, خبروں میں کرونا متاثرین کی تعداد بتاتے وقت جماعت کی تعداد کو الگ سے بتایا جانے لگا, اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کرونا متاثرین کا ٹھیکرا تبلیغی جماعت کے سر پھوڑنے کی پوری کوشش کی گئی، مختلف پرانے ویڈیوز کو تبلیغی جماعت سے جوڑ کر ان کی شبیہ خراب کرنے کی مذموم کوشش کی یہاں تک کہ اسے کرونا جہاد بتا دیا گیا، مذہبی رنگ دینے، ہندو مسلم کے اتحاد کو تار تار کرنے، مسلمانوں کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، کورٹ نے اپنے فیصلے میں میڈیا کے اس منفی کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا، اس کے ساتھ ہی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا کردار بھی متنازع جانبدار اور ذات پات پر مبنی رہا ہے، کیونکہ میڈیا کے اس رویہ پر حکومت خاموش تماشائی بن کر ان کی تائید کرتی رہی جو کہ افسوسناک ہے، کورٹ کے فیصلے میں بھی اس کا اشارہ ملتا ہے، در اصل کورونا وائرس کے معاملے میں تبلیغی جماعت والوں کا نام آنے کے بعد انڈیا میں تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے بارے میں فیک نیوز اور افواہوں کا سیلاب سا آ گیا ہے۔ اور اس کا دائرہ صرف اتر پردیش اور ہندی میڈیا تک محدود نہیں ہے۔ ملک کی دوسری ریاستوں اور زبانوں میں بھی ایسی خبریں عام کی جا رہی ہیں، جس کے ذریعے کورونا کی وبا کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹہرایا جا سکے۔
دلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور سماجی تجزیہ کار پروفیسر اپورو آنند اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے ایک خاص نفسیات کام کر رہی ہے، جس کی بنیاد مسلم مخالفت ہے، ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فیک نیوز اور افواہیں نہ صرف ’ایک قسم کی سماجی بیماری ہے بلکہ اس نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی ہے، یہ خبریں خوب چلتی ہیں، اور خبر نویس ایسی خبریں نہ صرف لکھتا ہے بلکہ گڑھتا ہے، ایڈیٹرز اور مالکان ایسی خبریں تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان سب کو ایک متبادل نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس پر اندھا دھند یقین کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، معروف وکیل محمود پراچہ نے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے اس کے متعلق کہا "ممبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت شاندار اور تاریخی ہے، آگے انہوں نے کہا کہ” اب ان چینل والوں کے ہی نہیں بلکہ جوائنٹ ہیلتھ سیکریٹری’ وزیر صحت’ وزیر داخلہ اور وزیراعظم تک کے خلاف مقدمات قائم ہونے چاہئیں” جناب پراچہ نے مزید کہا کہ” اب میں ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں چینلوں اور حکومت کے خلاف مقدمات لڑنے کو تیار ہوں لیکن جب تک تبلیغی جماعت کی قیادت سامنے نہیں آئے گی کچھ نہیں ہوسکتا”
یہ آزادی کے بعد سے ہی ہوتا آرہاہے کہ پہلے بغیر کسی خطا گناہ اور جرم کے کسی فرد گروپ جماعت یا تنظیم کو بلی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے، پھر پروپیگنڈہ مشنری کو اس کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے، کچھ افراد اور ادارے بھی اس معاملے میں معاونت کرنے کے لئے آگے آجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم کو عدالت سے باہر ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے، پھر مختلف نعرے لگوانے، دیش بھکتی کا ثبوت مانگنے، مار پیٹ اور موب لنچنگ کا دور شروع ہوجاتا ہے، پھر شروع ہوتا ہے کوٹ اور کچہری کا چکر، جہاں اقتدار کے نشہ میں بدمست قوتوں کے ذریعے انہیں مجرم ثابت کرنے اور بے گناہوں کو خود کا دفاع کرتے کا ایک طویل سلسلہ چلتا ہے، پھر مہینوں کبھی سالوں اور بعض اوقات دو تین دہائیاں گذرجانے کے بعد وکلاء کی بحث اور ثبوت یا عدم ثبوت کی بنیاد پر جج صاحب فیصلہ دیتے ہیں کہ یہ سب بکواس ہے، پروپیگنڈہ ہے، پولیس نے قابل قبول ثبوت پیش نہیں کیا وغیرہ وغیرہ، لہذا باعزت بری کیے جانے کا آرڈر ریلیز کیا جاتا اور ادھر سب کچھ برباد اور ختم ہو چکا ہوتا ہے، اور عمر کا ایک بڑا حصہ ضائع کر دینے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا، مسلم نوجوانوں اور تنظیموں کے خلاف میڈیا ٹرایل کس انداز کا ہوتا ہے، ہر ایک کو بخوبی معلوم ہے، دلال متعصب اور نفرت باز نام نہاد پترکار اور گودی میڈیا اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے کیاکیا کر گذرتے ہیں سب کو معلوم ہے، خیر ان کو تو اسی کام کے لئے وہاں رکھا ہی گیا ہے، مگر ہم بارہا ان کی زد میں آنے اور نشانہ بنائے جانے کے باوجود کوئی فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات نہیں کرتے اس لئے بار بار ڈسے جاتے ہیں، حالیہ دنوں میں ڈاکٹر کفیل خان کی تازہ مثال سامنے ہے، بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بچوں کی اموات کو لے کر انہیں کتنی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا، لیکن جب رپورٹ ان کے حق میں آئی اور عدالت سے کلین چٹ مل گئ تو کسی اور بہانے سے ڈاکٹر کفیل کو ستایا جارہا ہے، اس لئے اگر بے لگام اور غیر ذمہ دار میڈیا پر شکنجہ نہیں کسا گیا تو یہ صرف مسلمانوں ہی نہیں پورے ملک کے لئے تباہ کن ہوگا۔
ان پروپیگنڈہ مشنریوں سے قانونی طور پر مقابلے کے لئے ہمیں خود کو ایمان اور اعمال صالحہ کی طاقتوں سے بھی خود کو لیس کرنا ہاگا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کو وہ امن امان سے بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں” (النور:55)، بعض نے اس وعدہ الٰہی کو صحابہ کرام کے ساتھ یا خلفائے راشدین کے ساتھ خاص قرار دیا ہے لیکن اس کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ قرآن کے الفاظ عام ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عہد خلافت راشدہ اور عہد خیر القرون میں، اس وعدہ الٰہی کا ظہور ہوا، اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا۔ اپنے پسندیدہ دین اسلام کو عروج دیا اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا، پہلے مسلمان کفار عرب سے ڈرتے تھے، پھر اس کے برعکس معاملہ ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو پیش گوئیاں فرمائی تھیں وہ بھی اس عہد میں پوری ہوئیں۔ مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا حیرہ سے ایک عورت تن تنہا اکیلی چلے گی اور بیت اللہ کا آ کر طواف کرے گی، اسے کوئی خوف خطرہ نہیں ہوگا۔ کسریٰ کے خزانے تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا (صحیح بخاری) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا "اللہ تعالٰی نے زمین کو میرے لیے سکیڑ دیا "پس میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصے دیکھے ، عنقریب میری امت کا دائرہ اقتدار وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک میرے لیے زمین سکیڑ دی گئی”(مسلم)، حکمرانی کی یہ وسعت بھی مسلمانوں کے حصے میں آئی ، اور فارس وشام اور مصر افریقہ اور دیگر دور دراز کے ممالک فتح ہوئے اور کفر وشرک کی جگہ توحید وسنت کی مشعلیں ہر جگہ روشن ہوگئیں اور اسلامی تہذیب وتمدن کا پھریرا چار دانگ عالم میں لہرا گیا۔ لیکن یہ وعدہ چونکہ مشروط تھا، جب مسلمان ایمان میں کمزور اور عمل صالح میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے اور اللہ نے ان کی عزت کو ذلت میں ، ان کے اقتدار اور غلبے کو غلامی میں اور ان کے امن واستحکام کو خوف اور دہشت میں بدل دیا۔