نئی تعلیمی پالیسی اور اُردو زبان

15

جب سے نئی تعلیمی پالیسی موضوع بحث بنی ہے اردو کے حوالے سے تشویش بڑھتی جارہی ہے۔اردو کے ماہرین اور محبان اردو کا خیال ہے کہ غیر محسوس طور پر اردو کو ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے،مختلف قومی بحران اور (covid_19) جیسی خطرناک وبا کی صورت حال کے درمیان عجلت میں بغیر کسی بحث کے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو پیش کرنا ہر ایک شہری کو شک میں مبتلا کرنا ہے۔ شاید حکومتی حلقوں نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ پورے زور شور کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت اردو کی بقاء اور فروغ کے لئے سنجیدہ ہے۔وزیر ممکلت براۓ تعلیم سنجے دھوترے کا کہنا ہے کہ "اردو ہمارے لئے محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری مشترکہ وراثت ہے ہمیں اردو زبان کو ملک کے تمام شہریوں تک پہنچانا چاہئے اور خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کو اس زبان کے فروغ و ترقی کیلئے استعمال کرنا چاہئے”۔
قومی کونسل براۓ فروغ اردو زبان کی گورننگ کونسل کے25 واں سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی،اپنے صدارتی خطاب میں کونسل اور ڈا ئریکٹر کی کار کردگی کے تیئس اظہار اطمینان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستان کی دیگر زبانو ں کے ساتھ اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے حوالے سے بھی سنجیدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے جو نئی تعلیمی پالیسی تیار کی گئی ہے اس میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا خاص خیال رکھا گیا ہے کیونکہ اردو ہندوستان کی ایک ایسی زبان ہے جس کے الفاظ کم و بیش اس ملک کی ہر زبان میں پائے جاتے ہیں اور خود اردو میں بھی ہندوستان کی مختلف زبانو ں کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔اس پالیسی کے تحت آئین کے آٹھویں شیڈو ل میں درج اردو سمیت سبھی زبانوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی اور اس مقصد سے اکیڈمیوں کا قیام کیا جائے گا اور ساتھ ہی ان کی تر ویج و ترقی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی جانب سے خصوصی اقداما ت کئے جائیں گے ۔ان کا احساس تھا کہ نئی نسل کے درمیان اردو کو عام کرنے کی خاص ضرورت ہے کچھ ایسا انتظام کیا جانا چاہئے کہ جو لوگ اردو رسم الخط اور اردو الفاظ سے نا واقف ہیں ان کے لئے بھی اردو الفاظ کے معنی و مفہوم کو سمجھنا ممکن ہو سکے۔انہوں نے خاص اس مقصد سے ایک کا ر گر میکا نزم تشکیل دینے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو زبان کو شہروں کے ساتھ گاؤں تک لے جانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے کچھ ایسے گاؤں کی نشاندہی کی جانی چاہئے جہاں کونسل کی جانب سے اردو کے دلکش پروگراموں کا انعقاد کیا جائے اور وہاں کے اردو جاننے والے لوگوں کی ہمت افزائی کر کے ان کے اندر اردو لکھنے پڑھنے کے تیئس مزید ذوق و شوق پیدا کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کے فروغ کیلئے وزراتِ تعلیم نئی تجا ویز پیش کی جائیں تاکہ اردو کے فروغ میں تیزی لانے کے ساتھ اس کے لئے نئے وسائل بھی اختیار کئے جا سکیں ۔
دھر اردو ڈیولپمنٹ آرگنا ئز یشن نے مرکزی حکومت سے مطا لبہ کیا کہ مذکورہ نئی پالیسی بغیر پارلیمٹ میں بحث کئے بغیر پاس نہ کیا جائے تاکہ قوم کو اعتماد میں لیا جا سکے۔نئی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کو اہمیت دی گئی ہے مگر اردو زبان کو مادری زبان کے طور پر شامل نہیں کیا گیا ہے جو یقینا ًتشو شناک ہے جبکہ شیڈول آٹھ میں اردو شامل ہے۔اردو کا ز کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قومی کونسل براۓ فروغ اردو زبان کے دائر یکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کا دعوی ہے کہ "موجودہ حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی میں کہیں بھی اردو کی مخالفت نہیں کی ہے اور نہ ہی بنیادی تعلیمی نظام سے اردو کو خارج کرنے کا کوئی ذکر ہے اسی کے ساتھ ڈاکٹر عقیل نے کہا کہ اردو داں کو کسی بھی طرح کے خدشات دل سے نکالنے ہونگے ۔اور مو جودہ حکومت کے تیئس کشادہ قلبی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاتما گاندھی انٹر نیشنل یونیورسیٹی کے داخلہ نوٹیفکیشن۔ سے اردو کو حذف کئے جانے کے سلسلے میں ہم یو نیورسیٹی کے وا ئیس چا نسلر کو خط لکھ رہے ہیں کہ یونیورسیٹی میں شعبہ اردو بر قرار رکھا جائے ۔اسی طرح کو نسل کی جانب سے مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسیٹی مو تہاری( بہار) کے وائیس چانسلر کو بھی خط بھیجا جا رہا ہے کہ وہاں شعبہ اردو قائم کیا جائے کیونکہ اردو ہمارے ملک کی بائیس شیڈ ول زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے اس نے ہندوستان کی تاریخ و تہذیب کو سنوار نے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے اور ہماری مشترکہ و سیکولر شقا فت کا گرا ں قدر سرمایہ اس زبان میں محفوظ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ آئین کے آٹھو یں شیڈول میں درج سبھی زبانوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی اور اس مقصد سے اکیڈ میوں کا قیام کیا جائے گا ۔سا تھ ہی ان کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں ہر ممکن اقداما ت کئے جائیں گے ۔ملک کا آئین جب مادری زبان میں بنیادی تعلیم کی وکلالت کرتا ہے تو پھر ملک کی تعلیمی پالیسی میں اس کے خلاف ورزی کیسے ہو سکتی ہے ؟انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ شرو ع سے پانچویں کلاس تک لازمی طور پر آٹھو یں کلاس تک اختیاری طور پر ذریعہ تعلیم مادری اور مقامی زبان ہوگی۔ اس سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جن طلبہ کی مادری زبان اردو ہے وہ اردو میں ہی تعلیم حاصل کرنے کے مجاز ہونگے۔اس پالیسی کے تحت ملک کے تمام زبانوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کیلئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹرا نسلیشن اینڈ انٹر پر ینیشن (آئ آئ ٹی آئ) کے قیام کے سا تھ ساتھ پالی فارسی اور پرا کت جیسی زبانو ں کے فروغ کیلئے قومی سطح کے اداروں کی بھی تشکیل کی جائےگی ۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اس لئے بھی بہتر ہے کہ اس میں فرسودہ نظام تعلیم کو ختم کر کے نئے انداز میں تعلیم دینے کی بات کی گئی ہے طالب علموں کو بنیادی سطح پر ہی ووکیشنل تربیت دی جائے گی انہیں کو ڈ نگ سیکھا ئی جاۓ گی ۔اور درجہ چھ6 سے ہی انٹرن شپ کا موقع فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کتابی علم سے زیادہ خود سے کرنے اور سیکھنے پر توجہ دی جائے گی ۔
آن لائن نظام تعلیم اور چو ئل کلاسسز کا سسٹم بہتر کیا جائے گا ۔ حکومت کا مقصد ہے کہ 2030 تک ملک میں خواند گی کی شرح فیصد تک پہنچائی جاۓ ۔یہی نہیں 2020 میں اسکول چھوڑ چکے 2 کروڑ بچوں کو دوبارہ اسکول سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی ۔اعلی تعلیمی نظام میں مضامین منتخب کرنے کی آزادی ہوگی ،چنا نچہ اگر ہندی ،سماجیا ت یا فلسفے کے ساتھ کوئی حساب یا علم حیوانات پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح علم کیمیا کے ساتھ تاریخ بھی پڑھ سکتا ہے اردو والے اپنی دلچسپی کا کوئی سبجکیٹ منتخب کر سکتے ہیں۔نئی تعلیمی پالیسی میں طالب علم خود کو ہی اپنی جانچ اور تعین قدر کر سکیں گے۔ ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اس پالیسی میں ڈی پی کا 6 فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کی بات کہی گئی ہے ،اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ملک کا ایک بڑا طبقہ جو تعلیم سے دور تھا وہ بھی مین اسٹریم سے جڑے گا اور تعلیم کے جانب راغب ہوگا۔بہر حال قومی پالیسی کے بعد اردو کو لیکر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے ایسے میں دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ اردو کے تحفظ کے لئے اردو کی ترقی کے شعبہ کوئی اہم کردار کرتے ہیں یا پھر محض دعوے اور اعلانات کے ذریعہ اُردو والوں کو بہلا نشتن گفتن بر خواستن والا معا ملہ سامنے آتا ہے۔ !!