ڈیجیٹل مسلم دشمنی اورلوگوں کو غلام بنانے کی سازش

16

چاردن پیشتر تقریباً ہر اخبار میں ایک شہ سرخی لگی ہوئی تھی کہ ہندوستان میں فیس بک نے مسلم مخالف پوسٹس کو ہٹانے سےانکار کیاہےان پیغامات بیانات کو نہ ہٹانے کی جو وجہیں اس نے بتائی ہے پہلی یہ کہ فیس بک کپمنی کا خسارے میں پڑنے کا ڈر، اوردوسری وجہ حکومت سے تعلق خراب ہوجانے کاڈر،
واضح ہو کہ امریکی اخبار جنرل دا وال اسٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق خسارے کے خوف سےفیس بک حکام نے بی جے پی لیڈران اور انتہاپسند ہندوؤں کے پیغامات سوشل میڈیا ویب سائٹس سے ہٹانے سے انکار کردیا، ان لوگوں کی اور گروپوں کی جانب سے دیئے جانے والا بیان پوری طرح سے تشدد اور مسلم مخالف پوسٹ ماناگیا، اسکے باوجود بھی ان کا دفاع کیا جاتارہا،
امریکی اخبار کافیس بک ملازمین کےحوالے سے یہ کہناہے کہ ہندوستان میں فیس بک پبلک پالیسی کی آفس انچارج انکھی داس نے حکمراں جماعت کا مسلمانوں کا کٹر دشمن ٹی راجاسنگھ ،یوگی ادیتیہ ناتھ ودیگر لیڈران کے مسلم مخالف پوسٹ، اشتعال انگیز بیانات کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کردیا تھا، انکھی داس کا ڈربول رہاہے کہ بی جے پی کے دوغلے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مودی حکومت سے تعلقات خراب ہوجائیں گے،اور ہندوستان میں کمپنی کا کاروبار متاثر ہوگا،
مگر یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اگر ہم ہندوستان میں، کسی سیاسی جماعت، مودی، امت شاہ، یوگی موہن بھاگوت کے خلاف یا انکے حکومتی اداروں کے خلاف کوئی پوسٹ ڈال دیں، تو ہندوستان فیس بک کے ملازمین پہلے ہی ڈلیٹ کروادیتےہیں، اور ڈلیٹ کرنے کی جو وجہ بتائی جاتی ہے وہ یہ کہ آپ کا پوسٹ ہماری سماجی پالیسی کے معیار کے مطابق نہیں ہے، اور آج فیس بک کی پبلک پالیسی کی انچارج انکھی داس حکومت سے گھبرائی ہوئی ہیں،

جب کہ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ بی جے پی اور آر آر ایس ایس کے قبضے میں ہندوستان فیس بک اور وہاٹس اپ ہیں، اور اسکے ذریعے سےفیک نیوز اور نفرت پھیلائی جارہی ہیں،
اور ماہرین ڈیجیٹل سوشل سائٹس کا مانناہے کہ فیس بک اب ایک اوپن ٹروٹھ ہے،ایک کھلی ہوئی سچائی ہے، اس سے کوئی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتاہے فیس بک "اب فیس اور بُک تک ہی محدود نہیں رہ گیاہے بلکہ یہ کسی بھی شخص کی سماجی اور سیاسی چہرے کو بیان کرتاہے،
پورے ہندوستان میں فیس بک 50% فیصد استعمال کرنے والوں کی عمر 25 سال سے کم ہے، وہاٹس اپ کا پھیلاؤ فیس بک بھی سے زیادہ خطرناک اور سنگین ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں مشہورومعروف اورسیاسی لیڈران اور اہم شخصیات کا لوگوں کے مابین بہترین تعلقات استوار کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں،

قارئین کرام! آپ کو شاید یادنہ ہو مگر مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے راجستھان کے شہر کوٹا میں اپنے کارکنان اور سوشل میڈیائی سیل کو خطاب کرتےہوئے بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا تھا کہ ان کا سوشل میڈیائی نظام اتنا مضبوط اور طاقتور ہے کہ وہ جیسا چاہیں ویسا پیغام عوام تک پہنچا سکتے ہیں، مزید انھوں نے کہا تھا کہ یوپی میں 32 لاکھ لوگوں کا وہاٹس اپ گروپ ہے جس میں ہر پیغام نیچے سے لےکر اوپر تک اور اوپر سےلےکر نیچے تک پارٹی کے ہر کارکنان تک پہنچایا جاتاہے، انھوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کی اس طاقت کے بَل پر من چاہی پیغامات عوام تک پھیلا اور پہنچا سکتے ہیں،پھر زور دے کر کہا تھا کہ تم جو چاہو وہ پیغام عوام تک پہنچا سکتے ہو، فیک نیوز ہو، کھٹاہو یا میٹھاہو، جھوٹا ہو یا سچ،
جس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں، وہ اسی فیک نیوز اور نفرت بھرے بیانات سے دنیا میں نفرتوں کا بازار گرم کرتے ہیں جس سے کشیدگی اور تشدد کو پھَلنے پھولنے کا مزید موقع ملتاہے، جب کہ بی جے پی کے ٹی راجاسنگھ نے فیس بک پوسٹ پر لکھاتھا کہ، روہنگیا مسلمانوں کو گولی مار دینی چاہئے، مسلمان ملک کے دشمن ہوتے ہیں اور انکی مسجدوں کو گرا دینا چاہئے،
اس پوسٹ کی رپورٹ ہونے پر فیس بک کے ملازمین نے اسے کمپنی کے اصولوں کے خلاف مانا اورجب پوسٹ پر ایکشن لینا چاہا تو ہندوستان میں موجود کمپنی کی انچارج انکھی داس نے ایکشن لینے سے منع کردیا، جب کہ اسکے برعکس یوگی، مودی امت شاہ، موہن بھاگوت کے خلاف فیس بک پر پوسٹ کرنے پر
پتہ نہیں کتنے مسلمانوں اور دلتوں کو جیل کے اندر ظلم وتشدد وبربربیت کا نشانہ بنایاگیاہے،
ابھی کچھ دن پہلے مشہور دلت صحافی اور سوشل ایکٹوسٹ پرشانت کنوجیا جی کو یوگی پولیس نے اٹھا لیا ہے،
قارئین کرام اب آپ خود اس پر فیصلہ کرسکتے ہیں، غوروفکر کرسکتے ہیں، کس طرح سے تاناشاہی چلائی جارہی ہے، 2018 میں "امریکی ہف پوسٹ بلاگ” کےلئے کام کرنےوالے ‘خیرا اور امن سیٹھی” نے بڑی عرق ریزی اور محنت ومشقت کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی، جس میں ‘اے بی ایم دا ایسوسی ایشن آف بلین مائنڈس’نامی سنستھا کی پوری جانچ پڑتال کی گئی تھی،اس رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا تھا کہ 166 لوگوں کی ایک ٹیم ہے جو دیش کے 12جگہوں پر اپنا دفتر رکھتی ہے اس کا خصوصی کار یہ ہے کہ بی جے پی کی کامیابی میں وہاٹس اپ کے لئے میم کارٹون تیار کرنا، چناؤکے وقت نیوزویب سائٹ کی شکل میں فیک ویب سائٹ لانچ کرنا، مخالف پارٹی کو بدنام کرنے اور افواہ پھیلانے کا اجتماعی پروگرام چلانا، جس میں گمراہ کن وفیک خبریں اور جھوٹ سے پُر نیوز ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنا، جس دن "کیمبرج اینالی ٹیکا”کا پردہ فاش ہوا تھا اسی دن "دا گارڈین” میں جولیا کیری اونگ’نے اپنے آرٹیکل میں لکھا تھا کہ ڈیٹا کے اس طرح استعمال نے دنیا کوتو بدل دیا لیکن فیس بک نہیں بدلا، در اصل بی ہیویئر سائیکلوجی کے مطالعے کے مطابق اب ووٹ کرنے والے کو دماغ کو پوری طرح سے بدلاجا سکتاہے ہندوستان میں سیاسی جماعتوں میں بی جے پی اس معاملے میں دوسری جماعتوں سے میلوں آگے ہے ،اس نے دونوں انتخابات جیتنے کے لئے انہی ٹیموں اور انہی طریقوں کا استعمال کیا تھا،
اب وہ ٹیمیں ان سنستھاؤں کے ذریعے سے ڈاٹا سائنس کے مختلف طرح کے ڈاٹاکے اندرونی معلومات ریکارڈ کرکے الگ الگ ٹرینڈ کا مطالعہ کرتی ہیں، اور پھر فیس بک کے ذریعے سےیوزرس(یعنی فیس بک استعمال کرنےوالے) کی پروفائلنگ کرتی ہیں، مزید یوزرکے پرسنل ڈاٹا کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس کی پسندناپنسد، سیاسی پسنداور ناپسند کو دیکھتے ہوئے اس سے جڑی ہوئی ہی پوسٹ دکھتی ہےیا باربار دکھائی جاتی ہے (جس طرح آپ جب یوٹیوب پر کسی چیز کے بارے میں سرچ کرتے ہیں تو وہاں پر اسی کے جیسے یا اس چیز سے ملتے جلتے ساری معلومات آپ کو یوٹیوب فراہم کرتاہے، مطلب یہ کہ وہ سمجھ جاتاہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے اور آپ کی پسند اور ناپسند کیاہے، سچ کہاہے کسی نے، کہ کمپیوٹر اور موبائل آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، یا ان کو چلانے والے آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جوکہ آپ کے دماغ کو پڑھ لیتے ہیں) یہ پوسٹ طویل وقت تک دکھتی ہے، نیز طویل وقت تک ایسی پوسٹ دیکھنے سے اس انسان کا رجحان کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف ہوجاتاہے، یہ سب data Enclose کے ذریعے ہوتاہے، اسکے لئے فیس بک کےپبلک پالیسی میکرس کو سیٹ کیا جاتاہے، میونکھ یونیورسٹی میں ڈیجیٹل سیاست سکھانے والی "سہانا اڈوپّا” نے کہا کہ سیاسی انتخابات کا پرچار کرنے کے لئےڈیٹا اینلی ٹیکس کمپنیوں کا استعمال کرنے سے دنیا بھر میں نفرت، ظلم وتشددکا اثر بڑھا ہے، مزید "سہانااڈوپّا”نے کہا کہ ڈیٹا نگرانی کرنےوالی کمپنی اور سیاسی طاقتوں کے بیچ یہ معادلہ جمہوریت کے لئے بہت بڑا خسارے کا باعث ہے، کیونکہ ووٹ کرنےوالوں کے باہمی تعلقات کا پتہ لگایا جاتا ہے اور سازش رچی جاتی ہے اور پھر ایگزٹ پول کے ذریعے سے آنے والی چیزوں کے بارے میں غلط معلومات دی جاتی ہے اور ان پر نقل کی جاتی ہے،

مگر قارئین کرام! اب سوال اٹھتا ہے کہ یہ سب تو ہو ہی رہاہے ہم اور آپ اس میں کیا رول ادا کرسکتے ہیں؟؟تو شاید آپ کو معلوم نہ ہومگر میں بتادوں کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ فیس بک وہاٹس اپ، ٹوئیٹر،بلاگر،استعمال کرنےوالے ہندوستان کےہی لوگ ہیں، اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کی مودی حکومت میں اتنی طاقت ہے کہ وہ فیس بک کے مالک ‘مارک زکربرگ’کو نوٹس جاری کرے، اسے ہندوستان میں بلائے اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے لئے کہے ،کیوں کہ ایسے ہی معاملے میں امریکی کانگریس کے سامنے تو مارک زکربرگ بھیگی بلی بن کر کئی بار پیش ہوچکاہے تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مودی حکومت ایسا کچھ نہیں کرسکتی کیونکہ اسکے پاس ایسا کرنے کی طاقت وقوت ندارد ہے،اور کون سا یہ معاملہ انکے گھر کاہے، یہ مسئلہ ہمارا اپنا ہے،
مگر اس مسئلے کا حل ہمارے پاس کیاہے، تو اس بارے میں ماہرین فیس بک، اور ڈیجیٹل صحافت کےمایرین کا کہناہے کہ ہم اگر آج فیس بک سے باہر ہوجاتے ہیں یا کَل کو وہاٹس اپ سے بھی باہر ہوجائیں، یا سوشل سائٹس،فیس بک وہاٹس اپ،ٹویئٹر، بلاگر، کو اپنی زندگی سے باہر نکال کر پھینک دیں مگر ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ کے اس اقدام سے اور 15 سے 20 لاکھ(روزآنہ استعمال کرنے والے افراد) ایکٹو استعمال کرنےوالوں کے سوشل سائٹس سے باہر ہوجانے سے بھی سوشل سائٹ کمپنیوں پر کوئی فرق نہیں پڑنےوالا، ہم فیس بک گوگل، ٹوئیٹرجسی بڑی تکنیکی کمپنیوں سے کوئی بھلائی کی امید نہیں رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ میں کوئی تبدیلی لے کر نہیں آنے والی، اب ہمیں خود ہی چوکس اور ہوشیار ہونا پڑےگا، ہمیں ان کو انکے ہی ہتھیار سے مات دینا ہوگا، ہمیں یہاں ڈٹ کر مقابلہ کرناہوگا، کہ جوبھی خبریں آپ تک پہنچیں آپ پہلے اس کی اچھی طرح سے چھان بین کریں اور اسکے بعد ہی اس پر اپنا ردعمل ظاہر کریں، اس بارے میں ہم حکومت سے تو نہیں مگر فیس بک کے مالک مارک زکربرگ سے امید کرتے ہیں کہ وہ مسلم دشمن پوسٹ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہندوستان کی فیس بک پبلک پالیسی کی انچارج انکھی داس کو عہدے سے برخواست کرے، اوراپنے اصول وقوانین کے ضابطے کے مطابق منافرت، ظلم وتشدد اوردہشت پھیلانے والی پوسٹس، بیانات، پیغامات، اپنے فیس بک. اکاونٹ سے فوراً ڈیلیٹ کروائے،

ادھر اڑتے اڑتے ہوئے ایک بہت ہی بری خبر آرہی ہے کہ ڈیجیٹل صحت عامہ ادارہ کی ڈیٹیل آنی شروع ہوگئی ہے در اصل یہ پورا مشن WHO کی ڈیجیٹل صحت عامہ قوانین کے ہی طریقے سے تیار کیا جارہاہے جس کی آخری کوشش انسانیت کے اوپر ظلم وتشددہے، وہ یہ کہ مائکرو چِپ کو انسانی جسم میں اپلوڈ کرنا، اور اب سویڈن شہر میں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور یورپ میں بھی اس تکنیک پر کام شروع ہوگیاہے
ویسے بھی آنےوالے وقت میں 5 جی آنے کی وجہ سے دنیا بہت ہی تیزی کے ساتھ بدلنے والی ہے، اب انٹرنیٹ آف تھنگس کا زمانہ آنے والاہے، اس میں آرٹ فیشیل انٹلیجنس پورے شباب پر ہوگا، مشینیں آپس میں باتیں کریں گی، اور مشینیں آپ ہی سے بات کرکےکوئی بھی فیصلہ لے سکنے کی قوت سے لیس ہونگی یہ سب اسی کی تیاریاں ہیں، فی الحال ہندوستان میں ڈیجیٹل صحت مشن کے تحت ہر ایک فرد کو ایک خاص صحت کارڈ پہنچان نمبر ہیلتھ آئی ڈی دی جائے گی،یہ بھی آدھارکارڈ کی طرح نمبروار ہوگا، ہیلتھ آئی ڈی ایجاد ہونے کے بعد پیدا ہونےوالے بچوں کے ٹیکہ لگوانے سے لےکر دیگر معالجات تک کے سبھی ریکارڈ اسی طرح سے یونیک نمبر کے ساتھ جڑے رہیں گے، ہندوستان کے حکومتی طبی اداروں کا دعوی ہے کہ ایک بار کسی شخص کا رجسٹریشن ہونے پر اسے ایک یونک ہیلتھ آئی ڈی مل جائے گی، جس سے مریضوں یا ڈاکٹروں کے ذریعے علاج ومعالجہ کی مختلف اسکیموں کا غلطہ استعمال نہیں ہوپائےگا، اس قدم سے ہیلتھ آرگنائزیشن لابی میں بہترین نکھار آئے گا اور دھوکہ دھڑی پر لگام لگے گی،جب کہ یہ دعوی بلکل غلط بےبنیاد اور وقوفوں والا دعوی ہے جب اسکے لئے پہلے سےہی حکومت کی جانب سے ‘آئیوش مان بھارت’جیسا بہترین قانون نافذ کرہی دیاگیاہے تو عوام کو یہ نیا لالی پاپ کیوں دیا جا رہا ہے، جب ہمارےپاس آدھارنمبر بھی موجود ہے تو پھر یہ نئی آئی ڈی کیوں بنوائی جارہی ہے، کہیں نہ کہیں اسکے پس پشت کوئی بڑی سازش کی آہٹ محسوس ہورہی ہے، اور ان سب سے صاف صاف سمجھ میں آرہاہے کہ یہ عالمی سطح پر ID2020 کے پلان کا ہندوستانی عوام پر چپ کے ذریعے کنڑول حاصل کرناہےابھی اس قانون کو نمونے پروجیکٹ کے طور پر چھ حکومتی صوبوں میں نافذ کیا جارہاہے، ڈیجیٹل ہلیتھ کارڈ 14 ڈیجٹ نمبر کا بنایا جائےگا، جس میں ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی کارڈ مشتمل ہوگا، لیکن اس کارڈ کوساتھ میں رکھنے یا اپنےپاس رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، ڈیجیٹل آئی ڈی کے ذریعے بھی آپ کا کام ہوسکےگا،
یعنی بات بلکل عیاں اور بیاں ہے کہ انہیں اس لئے آدھار کے سوا ایک آئی ڈی چاہئے، لیکن یہ الگ سے آئی ڈی کیوں چاہئےیہ نہیں بتارہے ہیں
لہذا یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے، اس پر ہر شخص کو غوروفکر کرنے کی بہت ضرورت ہے،دراصل اسے کوروناویکسینیشن سے جوڑنے کا پلان ہے اس لئے آپ اسے ضروری ہی مانئے ،
آج اگر آپ کو یہ بتا دیا جائےگا، تو آپ چوکنّے اور خبردار ہوجائیں گے اس لئے حکومت کی جانب سے دھیرے دھیرے تھوڑے تھوڑے کرکے بتایا جارہاہے،
اور اس بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ یہ تکنیک صرف ہیلتھ سےجڑے اسکیموں اور فائدوں کےلئے نہیں بلکہ موجودہ حکومتی مشینری اس تینکیک کا استعمال آپ کے سرویلنس اور آپکے لوکیشن اور ساتھ ہی ساتھ ہیلتھ ڈیٹا کے طور پر استعمال کریں گی، جسے آگے کبھی بھی آپکےخلاف ثبوت کے
طور پر پیش کرسکیں اور استعمال کرسکیں، مزید انشورنش کمپنیز اس ڈیٹا کو اپلوڈ کریں گی، پورا سسٹم آپکے ڈیجیٹل فون کے اسٹیج 2 جیسا ہے جوکہ ہم سب کے لئے بہت زیادہ خطرناک اور سنگین ہے، ماں اور بچے کو پہلے ہی ایک یونک آئی ڈی مل جاتی تھی باقی کے اہل خانہ سروے میں دے دیا جاتا ہے، راشن کارڈ میں بھی یونک آئی ڈی لگی ہوئی ہے جو خوردونوش اشیاء سے جڑاہواہے، اسی سسٹم کو صحیح ڈھنگ سے برداشت کرلو تو بہت ہے،
لوگوں کو ایک بار پھر سے ہر کام کے لئے لائن لگانا پڑےگا اور نوٹ بندی کی طرح لائن میں کھڑا ہونا ہوگا، 9/11 حملے کے بعد تحفظات کے نام پر جیکب کے اہل خانہ کو سب سے پہلے یہ لالی پاپ ملاتھا، یہ تو چلتے پھرتے آزاد لوگوں کو غلام بنانے کا پلان بنایا جا رہا ہے،
اگر آپ کے پاس یہ آئی ڈی نہیں ہوگی تو کھلے عام جگہوں پر، جیسے ریل سفر ہوائی سفر وغیرہ کی چھوٹ نہیں ملے گی، اسپتالوں کی ساری مفت میں ملنے والی فوائد چھین لئے جائیں گے تو آپ کو مجبوراً یہ آئی ڈی لینےہوگی، چِپ کے ذریعے سے انسانوں کو کنٹرول کرنے کا پورا پلان بنا لیا گیاہے، اگر ایسا ہوجاتاہے تو دنیا برباد ہوجائے گی، ایک انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا نظر آئے گا، دنیا میں قتل وغارت گری، خون ریزی، کا سیلاب آ جائے گا،
عزرائیل کا یہ نیا ورلڈ وار ہے، یہ دنیا دجالی فتنوں کے زیرنگین ہونےوالی ہے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ اس پروگرام کو لوگوں کو اچھی طرح سے سمجھانے کے لئے John Hopekins نے یوٹیوب سے لے کر ہر جگہ سوشل پلیٹ فارم پر اس کی فری معلومات اور فری ٹریننگ کے لئے موادبھی فری میں موجود کرا رہاہے، جب کہ لوگوں کو اس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جارہی ہے، سبھی ملک اپنی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو اس بارے میں جانکاریاں دےرہی ہیں، کچھ ممالک میں لوگوں کو ٹریس کرکے پکڑنے اور زبردستی ویکسین لگانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں،
السلام عليكم ایڈیٹرصاحب،
امیدکہ مزاج عالی بخیر ہونگے، آپکے اخبارکے لئے ایک مضمون برائے اشاعت، فیس بک کا مسلم دشمنی، اور لوگوں کو غلام بنانے کی سازش: کےتعلق سے ارسال کر رہاہوں، امید قوی ہے شامل اشاعت فرماکر ایک بار پھر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے،

مضمون نگار۔روزنامہ شان سدھارتھ سدھارتھ نگرکے صحافی اور تجزیہ نگار ہیں،