شان عمر بزبانِ خیر البشر

38

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت واقعه فیل کے تیرہ (١٣) برس بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی. آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ھاشم تھا. آپ کے سلسلے نسب میں مؤرخین کا اختلاف ہیں، چند تذکرہ نگاروں نےآپ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے، لیکن جمہور کا کہنا ہے کہ آپ کا سلسلۂ نسب نویں پشت میں جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے.

آپ کا نام عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے.
آپ حق اور باطل میں فرق کرنے والے ہیں اس لیے آپ کو فاروق کہا جاتا ہے.جیساکہ حضرت ایوب بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللّٰهَ جَعْلَ الْحَقَّ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَوَقَلْبِهِ وَهُوَ الْفَارُوْقْ فَرَّقَ اللّٰهُ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلْ
ترجمہ:- بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کے دل اور زبان پر حق کی کو جاری کر دیا اور وہ فاروق ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے حق اور باطل میں فرق کر دیا.
کنیت رکھنا سنت ہے اور یہ سلسلہ صحابہ اکرام تابعین تبع تابعین سے چلا آ رہا ہے اور آج بھی جاری ہے، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کنیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابو حفص)رکھی ہے. جنگ بدر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ عباس کو ہمارے خلاف لڑنے کیلئے ابھارا گیا ہے لہذا جنگ کے دوران ان پر وار نہ کیا جائے یہ سن کر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہمارے متعلقین کو قتل کرے اور عباس کو نہ کرے ہم ضرور قتل کرینگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا يَا اَبَا حَفْصْ يُضْرَبُ وَجْهُ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلّىَ الّٰلهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِالسَّيْفِ؟
ترجمہ:- اے ابو حفص کیا رسول اللہ کے چچا پر تلوار سے وار کیا جائے گا؟ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ آپ حکم دیجۓ میں ابھی حذیفہ کا سر قلم کرتا ہوں! بعد میں حضرت حذیفہ اپنی اس بات پر بڑے نادم ہوئے.
آپ کے ایمان لانے سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی أَللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحُبِّ الرَّجُلَىْنِ إِلَيْكَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطّاَبْ أَوْ بِأَبِى جَهْلِ بْنِ الْهِشَامْ (مسند احمد،ترمذی ،بیہقی )
ترجمہ:- اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جھل بن ہشام أن دونوں میں سے جس کو تو پسند کرتا ہے اس کے ذریعے دین کو سر بلندی اور عزت عطا فرما.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ذریعے دین کو سر بلندی عطا فرمائی۔اسی لئے تمام صحابہ کو مرید رسول اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مراد رسول کہا جاتا ہے.
شاعر کہتا ہے:
عمر بن خطاب جب فاروق بن کر آ گیا
محفل کفر وشرک پر سناٹہ چھا گیا
آ گیا وہ خالق اکبر سے رشتہ جوڑ کر
مصطفی کے حکم سے کفر وشرک چھوڑ کر.

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ عدل و انصاف کرنے والے ہیں. حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
أَبُو بَكْرٍأَرَقُّ أُمّتِى وَأَرْحَمُهَاوَعُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ أخْيَرُ أُمَّتِى وَأَعْدِلُهَا وَعُثْمَانُ أَحْىَ أُمَّتِى وَ أَكْرَمُهَا وَعَلِىُّ بْنُ أبَى طَالِبٍ أَلُبُّ أُمَّتِى وَأَشْجَعُهَا
ترجمہ:- میری امت میں ابوبکرسب سے زیادہ نرم اور رحم دل والے عمر فاروق سب سے بہتر اور زیادہ انصاف کرنے والے اور عثمان سب سے زیادہ حیاء اور عزت والے اور علی سب سے زیادہ عقلمند اور بہادری والے ہیں،
آپ نے عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر ظلم کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اور حاجت مند بلا شبہ آپ سے ملنے آ سکتا تھا آپ کے عدل و انصاف کو دیکھ کر عالم اسلام کے بادشاہوں نے حکمرانی سیکھی اس لئے آپ کو امام العادلین کھا جاتا ھے.
آپ کی عظمت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی شان میں فرمایا
١) جس راستہ سے عمر گزرتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے (بخاری،مسلم)
٢) عمر کی زبان پر اللہ نے حق کو جاری کر دیا (بیھقی)
٣) میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتداء کرو(مشکوة)

دور خلافت میں آپ ہی نماز پنجگانہ میں امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے. حسب معمول ٢٧ ذی الحجہ ٢٣ھ کو نماز کیلئے کھڑے ہوئے اور ایک فیروز نامی منافق زہر آلود خنجر لیکر آپ کی اقتداء میں کھڑا ہوا اور موقع ملتے ہی، اس خنجر سے آپ کے جسم مبارک کو زخمی کر دیا اور آپ نے امامت کیلئے عبدالرحمن بن عوف کو آگے کیا اور اپنی نماز اشاروں سے ادا کی اس حادثے کے بعد آپ تین دن شدید تکلیف کے عالم میں با حیات رہے اور یکم محرم الحرام24ھ کو شہادت کا جام نوش فرمایا إِنَّ الِلّٰهَ وَإنَّ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنْ
آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون کیا گیا.