ماہِ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ

42

ماہِ مُحرّم* اسلامی سال ( ہجری کیلینڈر) کا پہلا مہینہ ہے،اسی مہینہ سے اسلامی جنتری کی شروعات ہوتی ہے، نبیٔ اکرم ﷺ نے اس مہینہ کو ’’اللہ کا مہینہ‘‘ فرمایا ہے، اور فضلیت و عظمت میں رمضانُ المُبارک کے بعد اسی مہینے کا درجہ ہے۔ صحابیٔ رسول سیدناحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیٔ اکرم ﷺ کا ارشادہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے،(مسلم شریف) اسی مہینہ کی پہلی تاریخ کو خلیفۂ دوم،فاروقِ اعظم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی، اور دسویں تاریخ کو نواسۂ رسول،جگر گوشۂ بتول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔

*شہادت غم کا سبب ہے؟*

واضح رہے کہ واقعۂ شہادت کی وجہ سے نہ تو محرم کا مہینہ غم کا مہینہ ہے، اور نہ ہی محرم کی دسویں تاریخ غم کی تاریخ ہے،اگر شہادت کی وجہ سے کسی مہینہ کو غم کا مہینہ یا کسی تاریخ کو غم کی تاریخ قرار دی جائے تو سال کے ہر مہینے کو غم کا مہینہ اور ہر تاریخ کو غم کی تاریخ قرار دینی پڑے گی،کیونکہ سال کا کوئی مہینہ یا کوئی تاریخ ایسی نہیں ہے جس میں کسی کی شہادت کا واقعہ پیش نہ آیا ہو، اسلام کی تاریخ تو شہیدوں کی شہادت سے بھری پڑی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت غم کا سبب نہیں ہے بلکہ شہادت تو ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ ہر مؤمن کو اِس کی تمنا ہونی چاہئے، خود نبیٔ اکرم ﷺ بھی شہادت کی تمنا فرماتے تھے، چنانچہ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میری تمنا ہے کہ میں اللہ کے راستے میں شہید ہو جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں(بخاری شریف، مسلم شریف)شہادت اگر غم کا سبب ہوتا تو نبیٔ اکرم ﷺ اِس کی تمنا کیوں فرماتے؟

*یومِ عاشوراء*

محرم کی دسویں تاریخ کو ’’یومِ عاشوراء‘‘ کہا جاتا ہے، یہ فضیلت وعظمت والا دن ہے، مگر یاد رہے کہ اس فضیلت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دن سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی جیسا کہ بعض عوام کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شہادت کا واقعہ پیش آنے سے پہلے اس دن کی کوئی فضلیت نہ ہوتی،حالانکہ واقعۂ شہادت سے پہلے بلکہ حضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے زمانۂ جاہلیّت میں بھی اس دن کی فضیلت مُسلَّم تھی، چنانچہ اسی فضیلت و عظمت کی وجہ سے مُسلِم شریف کی رِوایت کے مُطابق مکّہ مُکرمہ میں کُفّارِقُرَیش اور مدینہ مُنورہ میں یہودی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے،اور خود حضور ﷺ بھی جب تک مکہ مُکرَّمہ میں رہے اس دن روزہ رکھتے رہے، اور جب ہجرت فرما کر مدینہ مُنَوَّرہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رِضوانُ اللہ علیہم اَجمَعِین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا،اس سے ثابت ہوا کہ یومِ عاشوراء کی فضیلت نواسۂ رسول کی شہادت کا واقعہ پیش آنے سے پہلے ہی سے ہے،لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ اس فضیلت والے دن میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ہے نہ کہ واقعۂ شہادت کی وجہ سے اس دن کو فضیلت حاصل ہوئی ہے۔حضرت ابن ِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور ﷺ (مکہ سے) ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھاکہ وہ یومِ عاشوراء یعنی دسویں محرم کو روزہ رکھتے ہیں ،حضور ﷺ نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم لوگ جو اس دن روزہ رکھتے ہو تو اس کی وجہ کیا ہے؟یہودیوں نے بتلایاکہ یہ بہت بڑادن ہے ، اسی دن اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو( فرعون جیسے ظالم و جابرباشاہ کے ظلم وستم سے) نجات دے کر فرعون اور اس کی قوم کو (دریا میں) ڈبویا تھا تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا تھا انہی کی اتباع میںہم لوگ بھی روزہ رکھتے ہیں،حضور ﷺ نے فرما یا کہ میں تو تمہارے مقابلے میں موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں(کیونکہ وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں،جب تم لوگ روزہ رکھتے ہو تومجھے تو بدرجۂ اولیٰ ر وزہ رکھنا چاہیے) چنانچہ حضور ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابۂ کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری شریف،مسلم شریف) ویسے تو حضور ﷺ ہجرتِ مدینہ سے پہلے مکہ ہی میں یومِ عاشوراء کو روزہ رکھتے تھے جیسا کہ مسلم شریف کے حواکے سے اوپر گذرا، مگر مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکراًاس دن روزہ رکھا ہے تو اس روزے کا اور زیادہ اہتمام فرمانے لگے یہاں تک کہ خود تو روزہ رکھتے ہی تھے حضرات صحابۂ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا تاکید کے ساتھ حکم فرماتے تھے،چنانچہ حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (خود بھی) عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور ہم سب کو بھی اس پر ابھارتے تھے،اور ہم سب کی نگرانی (بھی) فرماتے تھے (کہ کس نے روزہ نہیں رکھا) (مسلم شریف)رمضان کا روزہ فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ واجب تھا،رمضان کا روزہ فرض ہوجانے کے بعد اِس کا وُجوب ختم ہوکر مُستحب ہوگیا،یعنی جس کا جی چاہے روزہ رکھے، جس کا جی چاہے نہ رکھے،جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’نبیٔ اکرم ﷺ رمضان کی فرضیّت سے پہلے اِس (عاشوراء) کے روزے کا حکم فرمایا کرتے تھے، پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تویہ حکم ہوا کہ جس کا جی چاہے وہ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے‘‘ (مسلم شریف)

*یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت*

یومِ عاشوراء کا روزہ مُستحب ہے، اِس دن روزہ رکھنے سے پچھلے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں،حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یومِ عاشوراء کے روزے کے مُتعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پچھلے ایک سال (کے گناہوں) کو مٹا دیتا ہے (مسلم شریف) رمضان کے روزے فرض ہو جانے کے بعد بھی نبی ٔ اکرم ﷺ کا معمول یہی تھا کہ ہر سال عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی روایت بتاتی ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ (دنوں میں) عاشوراء کے روزے کودوسرے دنوں کے روزے پراور (مہینوں میں) رمضان کے روزے کو (دوسرے مہینوں کے روزے پر) فضیلت دیتے تھے (بخاری شریف، مسلم شریف) حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ (محرم ۱۱ ھ میں )جب آپ ﷺ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھااور اس کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ اس دن کی تو یہود و نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں(یعنی اس دن روزہ رکھنے سے یہود و نصاری کی مشابہت ہو رہی ہے، جبکہ ان سے مخالفت کاحکم آچکا ہے)تو رسول اللہ ﷺ نے فرما یا کہ جب اگلا سال آئے گا تو ہم ان شا ء اللہ نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے، راویٔ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ابھی اگلا سال آنے نہیں پایا تھا کہ (ربیع الاول ۱۱ ھ ہی میں) آپ ﷺ وفات پا گئے(مسلم شریف) اس حدیث شریف کی وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ عاشوراء کے روزے کے ساتھ ساتھ ۹ ویں محرم یا ۱۱ ویں محرم کا بھی روزہ رکھ لیا جائے، تاکہ یہود نصاریٰ کی مشابہت لازم نہ آئے۔