کورونا جی کی ناگریتا کا فیصلہ

37

آج ممبئی ہائی کورٹ نے "کرونا” جی مہاشے کی ناگریتا طے کردی.. ہندوتوا میڈیا نے ان کی "مت” بدل دی تھی، اور اصرار تھا کہ یہ مسلمان ہیں.. اور تبلیغی جماعت نے مہاراج کو باہر کی دنیا سے آیات کیا ہے،. جیسے ہزاروں لاکھوں گنیش جی، کالی جی، رام جی اور ان کے بھگت اور سیناپتی ہنومان جی کو بھارت ہرسال پوجا کے موسم میں چین سے آیات کرتا ہے..
ممبئی ہائی کورٹ نے آج فیصلہ کردیا ہے کہ، "کرونا” جی مہاشے بھی ہمارے ہی ہیں اور یہ باہری نہیں ہیں… یہ بات بھی بڑے تعجب کی تھی، کہ جب ہم بھارتی ہر چھوٹی بڑی بیماری کو دیوی دیوتا کا روپ دیتے ہیں، ان کو نمن، پوچن اور وندنا کرتے ہیں.. اور ماتا کا درجہ دیتے آئے ہیں.. جیسے چیچک خسرہ، اور ذہنی امراض،، سب کے لئے ہم "ماتا” اور "جی” کا شبد استعمال کرتے ہیں.. تو آخر "کرونا” نے ایسا کیا پاپ کیا تھا کہ اسے اس روایتی تکریم سے محروم کیا جاتا.. یہ بھی ایک اہمیت دی جانے والی مہاماری ہے، تو اسی کو تنہا کیوں اسلام دھرم کے ساتھ باندھ دیا جائے.؟
سچی بات ہے کہ ہمارے لئے چنداں اس بات کی اہمیت نہ تھی نہ ہے کہ "کرونا” ہندو ہے یا مسلمان، اس کو کس نے پھیلایا؟ ہمارے لئے یہ اہمیت رکھتا تھا اور رکھتا ہے کہ ہمارا دیش اس مہاماری سے جتنی جلد ہوسکے چھٹکارا پائے.. 30 کروڑ کی ورکنگ فورس ورک فیلڈ میں لوٹے..سڑکوں پلوں، مکانات اور ملک کی تعمیری سرگرمی لوٹے.. یومیہ مزدور روٹی کمائیں اور گھر چلائیں.. بچے اسکول لوٹیں،، جو پڑھنے کے کلچر سے دور ہوگئے ہیں.. بچوں کی جھلاہٹ اور بندشوں سے اکتاہٹ اب نفسیاتی پیچیدگی تک پہونچ رہی ہے.. ملک آباد ہو خوشحالی آئے.. رونقیں بازار سے لے کر کھلیان تک ہوں…
ہائی کورٹ کے فیصلے سے ہماری بطور مسلمان کوئی جیت نہیں ہے.. اور ہو بھی تو ہم اس کو تبلیغی جماعت کے مظلوم، اور اب معزز عدالت کے فیصلے کے بعد، قانون شکنی کے ہر الزام سے معصوم، لوگوں کی طرف سے اپنے دیش اور دیش واسیوں کو سمرپت کرتے ہیں.. دیش اس کا مستحق بھی ہے، آخر عدالت عالیہ اسی کا حصہ تو ہے..
بدنیتی پر مبنی شورشرابے والے میڈیا کے سبھی دیش بھگت بندھو، مون برت پر ہیں.. چیخنے والے کے کان سب سے پہلے بند ہوتے ہیں،، اس لئے یہ فیصلہ أرنب گوسوامی، روبیکا لیاقت، دیوگن کے کانوں تک نہیں پہنچ پایا.. لیکن آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عدالت عالیہ نے ان کے کان اپنے فیصلے کی ابزرویشن میں خوب پکڑے ہیں اور اچھا خاصا مروڑا بھی ہے.. یہ اور بات کہ بے غیرتوں کے کان نہیں، بانہہ مروڑی جاتی ہے، تب وہ بات سمجھتے ہیں.. اے کاش کی عدالت عالیہ ان بدمعاش، ضمیر فروش میڈیا گھرانوں سے معافی منگواتا اور دانستہ کردار کشی اور بے قصور مہمانوں کی اہانت پر ان پر علامتی سہی جرمانے عائد کرتی.. جنھوں نے پیڈ پروپیگنڈہ کرکے بھارت کے مہمان کی بے عزتی کرنے کا داغ دیش کے ماتھے پر لگایا.. اور باہر کی دنیا میں دیش کو اور اس کی سدبھاونا کی سنسکرتی کو کلنکت کیا.. کاش کوئی غیر مسلم، منصف مزاج، این جی او..، اس بے مثال جری، اور انصاف کے فیصلے کی روشنی میں، ان مہمانوں کی طرف سے ہتک عزت کا دعوی کرکے، ان میڈیا گھرانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرے…. یہ میری خواہش ہے..