نجی شعبے میں ملازمت ہی نہیں ، تو پھر 75 فیصد ریزرویشن کہاں سے دیں گے

14
ہریانہ کانگریس کی صدر کماری شیلجا نے آج ہریانہ حکومت کے نجی شعبے میں مقامی نوجوانوں کے لئے 75 فیصد ریزرویشن کے دعوے کے بارے میں کہا کہ نجی شعبے میں ملازمتیں ہی نہیں بچی ہیں تو ریزرویشن کہاں دیں گے۔ ہریانہ کابینہ کے کل کے اجلاس میں حکومت نے اس مقصد کے لئے ایک آرڈیننس لانے کا اعلان کیا۔ ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کا یہ انتخابی وعدہ تھا۔
کماری شیلجا نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست میں بے روزگاری بے حد بڑھ رہی ہے۔ نجی شعبے میں کوئی نئی ملازمت نہیں بچی ہے اور کووڈ۔19 اور لاک ڈاؤن کے بعد برسوں سے کام کرنے والے لوگوں کو بڑے پیمانے پر کام سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکیڈمی کی تازہ ترین اعداد و شمار اس کے گواہ ہیں۔
انہوں نے اس پر بھی سوال اٹھایا کہ نجی شعبے میں 50 ہزار سے زیادہ ماہانہ تنخواہ والی ملازمتوں پر 75 فیصد ریزرویشن کیوں نہیں لاگو ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی کے صنعتی مقاصد کے لئے استعمال کے لئے زمین کے استعمال کی تبدیلی کی اجازت محکمہ ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ دیتا ہے اور اس کے ویسے ہی التزام ہے کہ تکنیکی کاموں کو چھوڑ کر 75 فیصد ملازمت ہریانہ کے رہائشیوں کو دی جائے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت عمل درآمد کو یقینی کیوں نہیں بناتی ہے۔
کماری شیلجا نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کانفرنسوں کے انعقاد کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے، لیکن ریاست میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی سرمایہ کاری کہاں جاتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ محض دکھاوا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس کی حکمرانی کے دوران ریاست میں لاکھوں چھوٹی اور بڑی صنعتیں مصروف عمل تھیں، لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صنعتوں کو بند کیا جارہا ہے۔ کمپنیاں ریاست سے باہر جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سرکاری ملازمتوں کی بھی صورت حال خراب ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے کہا تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کو ایک سال سے بند کیا جارہا ہے اور کانگریس کی مخالفت کے بعد اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر وہ مجبور ہوئے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے علاوہ لوگوں سے معاش چھینا جارہا ہے۔ مختلف محکموں سے ملازمین کو برطرف کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت’جملے بازی‘ چھوڑ کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔