ماہ محرم اور اس کے دو روزے کی فضیلت

27

۔     اسلام نے ہمیں ایک سسٹم،طریقہ اور ضابطہ سکھایا،ہر ہر قدم پر ہماری رہبری کی،اسلامی طرزندگی بتایا،زندگی کے ہرشعبےمیں ہماری رہنمائی کی،غلط، صحیح حلال و حرام میں فرق بتایا،افضل اور غیر افضل میں تمیز بتائی،بعض ایام،گھڑیاں،ہفتے اور مہینے کو افضل ٹھراکر ان ایام کی عبادت کواپنے لئے خاص کیا،ان کے درجات اورمقام و مرتبہ کو بلند کیا،ان ہی میں سے ایک مہینہ محرم الحرام بھی ہے،ہجری تقویم کے پہلے مہینے کو ہم محرم الحرام کے نام سے جانتےہیں،اس کی ابتدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے واقعہ ہجرت سے ہوئی تھی،یہ مہینہ حرمت اور عظمت والا ہے،لائق احترام اور مقدس ہے،اس مبارک مہینے میں بالخصوص ظلم و زیادتی،قتل و غارت  کرنا حرام ہے۔

۔       سترہ ہجری میں ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی توجہ دلانے پر عمرفارق رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے مشورےسےرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے واقعے ہجرت کو اسلامی سال کی ابتدا قرار دیا،چونکہ مدینہ منورہ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت کا آغاز ماہ ذوالحجہ کے آخر میں ہوا تھا،اس کے بعد جو چاند نئے مہینے کا طلوع ہوا،وہ محرم کا چاند تھا،اس لئے اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قراردیاگیا،قرآن کی سورہ توبہ آیت نمبر 39 اور دیگر بہت سارے دلائل ہیں جو اس بات پر دال ہے کہ محرم،حرمت و تعظیم والا مہینہ ہے،دور جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے تھے،اور جنگ و جدل،قتل و غارت گری سے اجتناب کرتے تھے

۔   رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،میں نے رمضان المبارک کے علاوہ،سوائے محرم کےروزے کے خصوصا یوم عاشورہ،دس محرم کے روزے کا جتنا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کرتے دیکھا،کسی اور روزے کا اہتمام کرتے نہیں دیکھا،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری مدینہ میں ہوئی تو دیکھا کہ یہودی روزہ رکھتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کہ آپ دس محرم کا روزہ کیوں رکھتے ہیں،تو یہودیوں نے جواب دیا کہ اس دن اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو اور اس کی قوم کو فرعون کے ظلم و زیادتی سے نجات دی تھی،اور فرعون کو نیست و نابود کردیاتھا،تو ہم اللہ کا شکر بجالانے کیلئے یہ روزہ رکھا کرتے ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم تمہاری نسبت موسی سے  زیادہ قریبی اور تعلق کے حق  دار ہیں،پھر آپ نےخود بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا،اور فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہاتو نو محرم کا روزہ بھی رکھوں گا تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہوسکے (بخاری 2002مسلم 1125)

۔    اس طرح اس کی اور بھی فضیلت حدیث میں وارد ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا فرمان ہے کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اس مہینے کے ہیں جسے تم محرم کہتے ہو

۔     قارئین:زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے،اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ہجرت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا،جب آپ صلی اللہ علیہ سلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو خود بھی اس دن کا روزہ رکھتے اور دوسروں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے،لیکن جب ماہ رمضان کے روزے فرض کردیے گئےتو آپ نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کے اہتمام کو ترک کردیااور فرمایا جو چاہے اس دن کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے ترک کردے(بخاری 2002مسلم 1125)اس روزہ سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،اس لئے جہاں تک ممکن ہوسکے،نویں اور دسویں،ایک روایت کے مطابق دسویں اور گیارہویں محرم کے روزے کا اہتمام کیجیے،اس کی فضیلت سے بھرپور فائدہ اٹھائیے،رب کو خوش کیجیے اور اپنے اعمال کا جائزہ لیجئے چونکہ ہمارا مقصد ہی عبادت الہی اور اس کیلئےہی جینا اور مرنا ہے،اللہ ہم سب کو صراط مستقیم کی ہدایت دے اور نیک اعمال میں پیش پیش رہنے کی توفیق دے آمین یارب العالمین