تنظیم تعاون اسلامی Organisation of Islamic cooperation سے OIC تک

42

OIC کو بعض لطیف طبع لوگ، oh, I see. بھی کہتے ہیں.. ظاہر ہے پڑھے لکھے لوگوں میں طباعی زیادہ ہوتی ہے.. وہ بات بات میں نکتہ آفرینی کرلیتے ہیں.. خاص طور سے لکھنے والے لوگ ایسے کام بہت چابک دستی سے کر جاتے ہیں.. لکھ پڑھ کر انسان ذہین تو ہو ہی جاتا ہے.. لکھنا پڑھنا ہی دراصل انسانی ذہن کا استعمال ہے اور سوئی ہوئی فطری صلاحیتوں کی جلا ہے.. اب لوگوں کے لکھنے، بولنے پر تو کوئی پابندی لگ نہیں سکتی، سوائے عربستان کے..میرے پڑھے لکھے کارپوریٹ سیکٹر کے سعودی دوست، اپنے پڑوسی ملک بحرین کو "متنفس” کہا کرتے تھے.. جب میں ان سے ویک انڈ پر رسی توڑا کر بحرین کی طرف سرپٹ دوڑنے کی وجہ پوچھتا تو کہتے کچھ سانس لینے کے لئے جارہے ہیں. باقی جہان تو کچھ نہ کچھ کھلی فضا رکھتے ہیں، سوائے ہمارے ملک کے .. اور لوگ باگ جو چاہتے ہیں کہہ لیتے ہیں.. اور زیادہ ملکوں کے باشندوں نے یہ "کچھ کہہ لینے” کی آزادی خون دے کر حاصل کی ہے.. اس لئے، اگر کوئی پڑھا لکھا OIC کو oh, I, see کہتا ہے، تو اتنی سادہ بات بھی نہیں ہوتی.. یہ بڑی بامعنی، تہ دار اور لفظوں کے ایندھن سے سلگائی ہوئی آگ ہوتی ہے.. 57 اسلامی ملکوں کی اتنی بڑی تنظیم کو
Oh, I see,
جیسے چھوٹے سے، بات بے بات بولے جانے والے جملے کی رٹ میں قید کردینا، کوئی ایسی بات نہیں، جس سے آپ یوں ہی لاابالی پن سے گزر جائیں.. یہ تو دہانیوں سے اس تنظیم کی کارکردگی کو، اگر کچھ ہو، بایک نظر، بیدار ذہن سے اور بھاری دل کے ساتھ دیکھنے پرکھنے جانچنے ٹٹولنے کے بعد ایک مستحکم تجزیہ کی ترقیم ہے.

او آئی سی بہت پہلے سے ایک بے جان لاشہ ہی تھا.. مسلمانوں کے کسی سیاسی یا اجتماعی مسئلے کے حل میں سالوں سے اس کا کوئی کردار نہیں رہا، تاہم بیانات کا اجراء، وزرائے خارجہ کی سطح کے اجلاس، نام ہی کی سہی، قراردادیں، تو پاس کرہی لی جاتی تھیں.. لیکن عرب اور خصوصاً خلیجی ملکوں کی مالی سرپرستی اور جدہ سعودی عرب میں اس کا صدر دفتر ہونے کی وجہ سے، اس پر عرب لیگ کی خصوصیات کا سایہ پڑگیا.. دہائیوں سے جس پھس پھسے تنظیمی ڈھانچے کے یہ ممالک عادی رہے ہیں، اسی ڈھرے پر اس وسیع تنظیم کو بھی لے گئے.. مشرقی تیمور کی اندونیشیا سے علاحدگی، سوڈان کی تقسیم، ایران عراق جنگ، شام کی خانہ جنگی اور اس میں بیرونی مداخلت، عرب اسپرنگ کے نتائج، یمن کی مسلکی اور قبائلی تقسیم، ہرجگہ ہرمحاذ پر اس تنظیم کا کوئی وجود نہیں رہا.. تنظیم کے اپنے طے کردہ اہداف کے عین مطابق، اہم اسلامی ملکوں کے انتہائی بنیادی ایشوز پر یہ تنظیم طویل عرصے تک کوئی اجلاس تک بلانے میں ناکام رہی ہے.. پاکستان جیسا بڑا اور واحد مسلمان ایٹمی ملک، ایک سال سے کشمیر پر اجلاس منعقد کرنے کا سخت مطالبہ کرتا رہا، لیکن امریکہ کے سخت دباؤ اور ہندوستان سے خلیجی ملکوں کے معاشی پروجیکٹس میں شراکت داری کی وجہ سے اجلاس نہیں بلایا گیا.. کشمیر کو ایجنڈہ پر نہیں رکھا گیا، کیونکہ ہندوستان میں کم وبیش سو بلین ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری اور بیس بلین ڈالر کی اماراتی سرمایہ کاری کو رسک میں نہیں ڈالنا تھا.. بلکہ کشمیر کی سیاسی اور انتظامی حیثیت کی تبدیلی، اور کشمیریوں سے ریاستی جبر کے ذریعہ نمٹنے کے اعلان کے فوراً بعد ہی امارات، بحرین اور سعودی عرب نے ہندوستانی وزیراعظم کو اپنے یہاں کے اعلی ترین سویلین اعزاز عطا کئے.. ادھر ترکی کی زمین پر سعودی امریکی صحافی جمال خاشقجی کے ہیبتناک قتل، نے تنظیم کے دوسرے سب سے اہم ملک کے ساتھ آپسی تعلقات متاثر کئے.. الزام تو یہ بھی ہے کہ تعلیمی اور تحقیقی میدان میں ملیشیا اور پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت، کوعربوں کی طرف سے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی.. جب کہ یہ تنظیم کے معلنہ مقاصد واہداف تھے…تابوت کا آخری کیل امارات اور اسرائیل کا سفارتی تعلقات کا معاہدہ، اور کچھ عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ مجوزہ تعلقات ہیں.. جو امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کے صدی معاہدہ امن کا حصہ ہیں.. حد تو یہ ہے کہ اس معاہدہ کی اطلاع ان متعلقہ ملکوں کے بجائے، صدر امریکہ نے ٹویٹ کر کے دی.

حیرت ناک بات یہ ہے، کہ فلسطین کے سوا، تمام مسائل کا تذکرہ عمومی ہے، اور فلسطین اور اہل فلسطین کا تذکرہ تنظیم کے بنیادی بیانیہ میں خصوصی ہے. حتی کہ تنظیم کا مستقل دفتر القدس میں قائم کرنے کی بات اس کے منشور میں درج ہے.. پھر بھی اس اہم موضوع پر تنظیم نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے.

تنظیم کی اپنی سائٹ سے لئے گئے ذیل کے اقتباس کیا کہتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں. آپ کو لگے گا کہ بغداد کی ہزار رات داستان الف لیلہ ولیلہ پڑھ رہے ہوں یا سندباد کی سیر پر ہوں.

(1) "دعم كفاح الشعب الفلسطيني الخاضع للاحتلال الأجنبي وتمكينه من الحصول على حقوقه غير القابلة للتصرف، بما في ذلك حقه في تقرير المصير وإقامة دولته ذات السيادة وعاصمتها القدس الشريف، مع المحافظة على طابعها التاريخي والإسلامي وعلى الأماكن المقدسة فيها "

(2) . المادة الحادية والعشرون.
"يكون مقر الأمانة العامة في جدة إلى أن يتم تحرير القدس الشريف لتصبح المقر الدائم للمنظمة.”
تنظیم کے میٹاق میں اس کے بنیادی مقاصد میں، فلسطین پر غاصب اجنبی قبضہ کے خلاف فلسطینی قوم کی جدوجہد، اپنے ناقابل تنسیخ حقوق کی بازیابی، حق خودارادیت کے حصول اور بااختیار آزاد ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، کو سپورٹ کرنے کی ضمانت دی گئی ہے… یہاں تک کہ یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ :
تنظیم کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہوگا، جب تک کہ بیت القدس آزاد نہ ہوجائے، پھر بیت المقدس ہی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر ہوگا…
اس حوالہ بالا سے اندازہ کیا جاسکتا ہے، او آئی سی کے قیام میں مسئلہ فلسطین کو کس قدر مرکزیت حاصل تھی.. لیکن وقت کے دریا میں اتنی تیزی سے پانی نہیں بہا، جتنی تیزی سے عرب اور خلیجی ممالک کا خون سفید ہوا.

آج تو سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کا بیان حد درجہ سبکی کا سبب بنا جس میں انھوں نے مشرق وسطی امن معاہدہ، سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا ہے، اور امارات اسرائیل معاہدہ کو سراہا ہے، اور کہا ہے کہ اس معاہدہ کی وجہ سے، مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کا منصوبہ ختم ہوگیا ہے، جب کہ اسی رپورٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نتنیاہو کا بیان ساتھ رپورٹ ہوا ہے،کہ انضمام ہمارا حتمی، اور ناقابل نظرثانی منصوبہ ہے.. اس سے دستبرداری کا سوال ہی نہیں ہے.. پتہ نہیں اب یہ بازیگر کیا کرنا چاہتے ہیں… کل ایک سعودی مفتی کا بیان تھا کہ "فلسطین کی آزادی کوئی شرعی فریضہ نہیں ہے”… "رجال الریال” سے سب کچھ ممکن ہے… محمد بن سلمان کی جارحانہ بددین پالیسی پر برصغیر کے اسپانسرڈ داعی کچھ نہیں کہتے… جب کہ ایک پرماننٹ امریکی مغنیہ رقاصہ اور فاحشہ نے جدہ کا کنسرٹ محض اپنے مزعوم آزادی نسواں کے اصول کے نام پر منسوخ کردیا تھا.. ولایت امر، کی مطلق تابعداری کے رسیا مولوی، کفر بواح کی نئی تعبیر تراشنے کی جستجو میں ہیں.. جو شاید آگے مورتی پوجا میں مرتکز ہوجائے.. کچھ عجب نہیں..اس ہنگام بود وہست میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا بیان اچھا لگا کہ، اسرائیل کو تسلیم کرنا خارج از امکان ہے.. ان کو بھی دیر سے سہی یہ سمجھ آگئی ہے کہ سعودی عرب احسان نہیں کرتا، احسان مند خریدتا ہے.. اسی لئے ایک نئے فعال بلاک کی تشکیل کی فکربھی وہ برداشت نہیں کرپایا..دراصل امریکہ سعودی عرب کے ذریعہ پاکستان کو چین کے مجوزہ معاشی اور دفاعی بلاک میں جانے سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے.. اور ایران اور پاکستان کی بحری دہلیز تک سعودی حکومت اور عرب امارات کے تعاون سے اسرائیل کی رسائی کرانا چاہتا ہے، جو اس نے کرا بھی لیا.. خوف زدہ خلیجی اب زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں.. اور اگلی جنگ کی آنچ نہیں، یقینی زد میں ہیں..یاد رکھنا چاہئے کہ امریکہ اب افغانستان جتنی مہنگی جنگ کہیں نہیں لڑنے والا.. یہ ان کی کنفرم پالیسی ہے.. تو کیا اگلے متوقع معرکے میں وہ سعودی عرب اور امارات کا دفاع کرسکے گا..؟ اور کیا اسرائیل نے اپنا گریٹر اسرائیل کا نقشہ عربوں کی نئی نئی محبت میں دیوار عہد سے اتار لیا ہے؟ جس میں حجاز وعراق اور شام واردن سب شامل ہیں.. ان خلیجی ممالک کو دراصل اپنی قوم سے خود بہت خوف ہے.. جو دین پسند اور غیور ہے، گوکہ ان کی غیرت مجبور ہے.

ان تمام بنتی بگڑتی سیاسی صورتحال میں او آئی سی کہاں ہے؟ اب تک اس کا، اس کے مقاصد قیام، سے ہم آہنگ بیانیہ کہاں ہے؟ کیا وہ خلیجی ممالک کی بے رحم فینانسنگ کی نذر نہیں ہوگئی؟