حضرت مولانا مبارک صاحب ندوی کے انتقال پرتعزیتی پیغام

14

یقینا حضرت مولانا مبارک حسین صاحب ندوی کا وصال امت مسلمہ نیپال کے لئے عظیم خسارہ ہے، مجھے یاد ہے حضرت سے میری ملاقات صرف تین بار ہوی ہے، پہلی بار نیپال گنج اجتماع میں، دوسری مرتبہ علماء کا جوڑ جامعہ ابوالحسن علی ندوی چتون میں اور تیسری اور آخری مرتبہ دارالافتاء والقضاء نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو میں، جب بھی حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا حضرت نے احقر کی کافی ہمت افزائی فرمائی، جدید فارغین طلباء کی کافی حوصلہ افزائی فرماتے تھے، میں نے حضرت کی طبیعت میں نہایت ہی نرم مزاجی اور اعلی اخلاق دیکہا، حضرت دینی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، نیپال میں بہت سے مدارس اور دینی تحریک و تنظیم کو حضرت کی سرپرستی حاصل تھی، یقینا حضرت ایک بڑی شخصیت تھی جو آج ہمارے بیچ نہیں رہے، اللہ حضرت کی تمام تر دینی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے، انکی مغفرت فرمائیں، درجات بلند فرمائیں اور انکا نعم البدل امت مسلمہ نیپال کو عطا فرمائیں

آمین