پڑھے گا جامعہ، لڑے گا جامعہ اورجیتے گا جامعہ

28

(15، دسمبر 2019ء کی وہ سرد سیاہ رات کے رستا خیز مناظر، آج بھی جب یاد آتے ہیں تو دل کانپ جاتا ہے، جسم لرز اٹھتا ہے، عقل خاموش ہو جاتی ہے، ہاتھ و پاؤں سرد پڑنے لگتے ہیں اور پورا وجود کپکپیوں کے حصار میں بندھ جاتا ہے)

(موجِ خیال)
یہ بات حقیقت ہے کہ ترقیوں کے سنہرے خواب حصول علم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ترقی پسند افراد کو اس راہ کا راہی بننا ہی پڑتا ہے۔ ہاں! کوئی ایسا فرد جو اس قضیہ سے اتفاق نہ رکھتا ہو، میں اپنے علم کی رفاقت میں مکمل ایقان کے ساتھ اسے حواس باختہ اور سراب کی امید پالنے والا ہی کہوں گا۔ اگر کوئی صاحب محض کسی دانشگاہ کے آڑ میں علم و ادب کی راہ میں جادہ نووردی کرنے والوں پر الزام تراشی و بہتان بازی کرنے لگ جائے تو میرے خیال سے وہ صاحبِ علم کو برا بھلا کرنے کے بجائے اس وقت علم جیسی دولتِ لازوال کو کوس رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ لومۃ و لائم کے خوف سے علم کی طاقت نہ تو کبھی سرنگوں ہوئی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی اپنے اعداء کے سامنے سپر ڈالنے پہ سمجھوتہ کیا ہے۔ جلنے والے ہر زمانے میں خار کھاتے رہے ہیں، مگر علم کی اپنی ایک ایسی منفرد شناخت ہے کہ اس نے رات و دن ٹانڈو مچانے والوں کو اپنی دودھیا روشنی سے ہمیشہ ساکت کرنے کا کام کیا ہے۔ ہاں! ان دشمنوں کے بالمقابل وہ خوش نصیب جنھوں نے دل کھول کر اس کا استقبال کیا، علمی چاندنی نے ان کے قلوب و اذہان کو بقعہ نور بنا دیا اور پھر ایسے ہی جیالوں نے اپنے سروں پہ علم و ادب کی دستار سجا کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا عظیم شرف حاصل کیا ہیں۔
متذکرہ بالا تمام باتیں جن سے شاید ہی کسی کو انکار ہو، میں نے صرف اس لیے تحریر کیا ہے کہ وطن عزیز ”بھارت” میں ابھی چند دنوں قبل ہی مرکزی وزارت تعلیم نے سنٹرل یونیورسٹی کی جو رینکنگ جاری کی ہے اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی نے 90،فیصد نمبرات حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جب کہ راجیو گاندھی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بالترتیب 83 فیصد، 82 فیصد اور 78 فیصد نمبر حاصل ہوئے ہیں۔
قارئین! یاد رہے کہ یہ وہی جامعہ ملیہ اسلامیہ ہے جہاں 15 دسمبر 2019ء کی سرد سیاہ رات میں شرپسندوں نے زبردستی داخل ہوکر بھیانک ٹانڈو مچایا تھا، انھوں نے اسے ایک سازش کے تحت کہاں کہاں نہیں اچھالا؟ وہ ہمیشہ اس سر سبز و شاداب گلشن میں علمی پرورش پانے والوں کو دیش دروہی جیسے بھدے بھدے الزامات سے کوستے رہے اور پھر NRC، CAB اور CAA جیسے سیاہ قانون کے پس پردہ 15 دسمبر کی شب دیجور میں محض بے بنیاد دلیلوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے دل کی ساری بڑھاس نکال لیں۔ ان لوگوں نے خاکی وردی کا سہارا لے کر آنسو گیس اور گولیاں داغنے کے ساتھ ساتھ ڈنڈے چلانے کا بھی کام کیا۔ اسٹوڈینٹ حتی کہ جامعہ کے احاطے میں موجود مسجد کے امام صاحب پر بھی زود و کوب کیا۔ مگر اس پر بھی ان کا بھوکا خبیث دماغ خاموش نہیں رہا اور انھوں نے جامعہ کی لائبریری میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ ساتھ ان بے گناہ طلبا کو بھی اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جو جامعہ کے خاموش احتجاج میں شرکت کرنے کے بجائے مطالع? کتب میں منہمک تھے۔ وہ اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف تھے تا کہ وہ اپنے مستقبل کے خوبصورت سپنوں پر بآسانی کمندیں ڈال سکیں۔ دراصل ایک لمبے زمانے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی ان شرپسندوں کی آنکھوں میں خار بن کر چبھتے رہے ہیں۔ اور پھر وہاں کی علمی برتری سے حسد کرتے کرتے نفرت و عداوت کی آگ میں وہ ایسے جلنے لگے کہ ان یونیورسٹیوں کو نیوز چینلز و ٹی وی ڈیبیٹس وغیرہ میں جا جا کر دیش درہوں کا اڈہ باور کرانے لگے۔۔۔مگر، آج? جب رینکنگ کا یہ رزلٹ ہمارے اور آپ کے سامنے ہے، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمنوں کے لاکھ ہو ہلہ مچانے اور دوغلی پالیسی اختیار کرنے کے باوجود علم کی روشنی کو کوئی ماند نہیں کر سکتا ہے۔ آخر انصاف کی اینک لگا کر آپ ہی بتائیں کہ وہ جامعہ جس کی بنیاد ہی سیکولرزم کی خمیر سے تیار کی گئی ہو وہ دیش دروہی کا اڈہ کیسے بن سکتا ہے؟ اسے تو جہاں سن 1920ء میں ذاکر حسین، حکیم اجمل خان اور محمد علی جوہر جیسے سرفروشان وطن نے وجود بخشا ہے وہیں سن 1988ء میں بھارتی پارلیمان کے ایک ایکٹ کے تحت مرکزی یونیورسٹی کا درجہ بھی ملا ہوا ہے۔
سچ بتاؤں تو! چند دنوں قبل جب سے میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلق سے یہ مسرت بخش خبر سنی ہے، رہ رہ کر بیتے برسوں جامعہ کے احاطے میں ہوئی بربرتا کے تمام مناظر ایک ایک کر کے اپنی یاد تازہ کر جا رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام پر ڈھائے گیے تمام مظالم اور ظالموں کی اوچھی حرکتیں دلوں کو تڑپا جاتی ہیں، 15، دسمبر کی سخت ٹھٹھرن بھری سیاہ رات میں اچانک وہاں کے طلبہ وطالبات کو اپنی جان کے لالے پڑ جانا، ٹیئر گیس کے زہریلے مواد برداشت کرنا، گولیوں کی ڈراؤنی آواز سے ان کا دل دہل جانا، مدد کے لیے ان کا برابر گوہار لگاتے رہنا، برستی آنکھوں سے اپنی مظلوم کہانی میڈیا والوں کے سامنے بیان کرنا، ماتھے کی آنکھوں سے ان کا اپنی ہی لائبریریوں کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھنا، دانشگاہ کا دھواں دھواں ہو جانا، جسموں پر لگے ہلکے و گہرے زخموں کے درد و الم لیے ہاسپٹل کی طرف ان کا بیتحاشا دوڑنا اور بہن صفورہ زرگر کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے اپنی عظیم قربانیاں پیش کرنا وغیرہ وغیرہ، ایسے مناظر ہیں جو آج بھی یاد آنے پر جسم و جان میں ایک بجلی دوڑا جاتے ہیں۔ یقین مانیں! ان سب سے بڑھ جب ظالموں سے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے، روڈ کنارے کھلے آسمان تلے امتحان کی تیاری کرنے اور فیض و جالب کو گنگنانے کے عمل کی طرف ذہن گردش کرتا ہے تو فرحت و غم کے مشترکہ آنسؤوں سے راقم الحروف کی پلکیں بھیگ جایا کرتی ہیں۔
قارئین! یہ زندہ حقیقت آپ کو ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ طلبہ کے احتجاجات اپنے اندر تاناشاہوں کو ہلا دینے کے لیے وافر طاقت و قوت رکھتے ہیں۔ تاریخ کے پنے الٹیے تو معلوم ہوگا کہ جب جب طلبا کی جماعت نے ظلم و تانا شاہی کے خلاف احتجاج کا علم بلند کیا ہے تب تب ان کے فلک شگاف نعروں کے آگے ظالموں کے ٹینک بالکل کھلونے نظر آئے ہیں۔ یوں تو سن 1209ء میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور سن 1229ء میں یونیورسٹی آف پیرس کے طلبہ کے احتجاج کو پہلا ”احتجاج” تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر سن 1968ء میں دنیابھر میں ہونے والے طلبا کے زبردست احتجاج نے سماج اور سرکار کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسی طرح سن 1960ء کی دہائی میں پڑوسی ملک پاکستان میں ہوئے طلبہ کے احتجاج کو بھی کافی اہم مانا جاتا ہے، جس کی بدولت پاکستان میں ایک زبردست انقلاب رونما ہوا تھا اور جنرل ایوب خان کو مارچ 1969ء میں حکومت کی کرسی سے استعفیٰ دے دینا پڑا تھا۔ اور اب جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاجات بھی اسی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
میرا وجدان کہتا ہے کہ حالیہ رزلٹ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اول رینک حاصل کرنا، ان شرپسندوں وہ بھگوا دھاریوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ بن کر گرا ہوگا۔ انھیں یہ ضرور احساس ہوا ہو گا کہ اب ہماری ساری کوششیں خود ہمارے لیے ہی پاؤں کی زنجیریں بن گئی ہیں۔ ہاں! مجھے امید ہے کہ اب ان کا ضمیر ملامتی انداز میں ضرور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر انھیں یہ کہہ رہا ہوگا کہ ظالم دیکھ! تم جس دیے کو پھونکنے چلے تھے اس کی شعائیں مزید بھڑکتی چلی جا رہی ہیں اور وہ ہزار آندھیوں کے زد پر بھی کبھی یمیناً و یساراً تو کبھی قدّاماً و خلفاً مسکراتا ہی رہا۔ یقیناً جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ان کے طلبا کی یہ عظیم کامیابی ہے۔ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، اس کے اراکین اور طلبہ کو خلوص دل کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آج ان نونہالوں کی جدوجہد ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ نیک کوششیں کبھی ناکام نہیں ہوتی ہیں، ہاں! بس ہمیں ہر محاذ پر سینہ سپر ہونے اور ظالموں کو دو ٹوک جواب دینے کا ہنر آنا چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ کوشش کرنے اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا کی یہ لگن اور محنتیں آنے والی نسلوں کے لیے درس عبرت ثابت ہوں گی اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔ اس موقع پر اب چلتے چلتے حبیب جالب (1993-1928) کی وہ پرتاثیر نظم بھی رقم کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے جیسے حرکت و عمل کی تابندگی کے لیے طلبا دوران احتجاج بکثرت گنگنایا کرتے تھے۔ع

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تخت? دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا