ماہ محرم الحرام! کیا کریں کیا نہ کریں

28
 !کیا کریں, کیا نہ کریں  (قسط اول)
ماہ محرم ہجری تقویم یعنی اسلامی سال کاپہلامہینہ ہے ۔اس ماہ کی بھی شریعت میں بڑی حرمت وفضیلت ہے اور تاریخی حیثیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ماہ میں خصوصی اعمال اس کی عظمت کو چارچاند لگا دیتے ہیں۔ تاریخ اسلامی کے کئی اہم اور سبق آموز واقعات اسی مہینہ میں پیش آئے۔ اس لیے ماہ محرم جہاں نئے اسلامی سال کے آغاز کی خبر دیتا ہے وہیں تاریخی واقعات و حادثات کی بھی یاد دلاتا ہے۔زندہ قوموں کی پہچان ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے کارناموں اور تاریخی واقعات سے بے خبر نہیں رہتی۔
          تاہم بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں اس مہینہ کے سلسلے میں بہت سی بے بنیاد باتیں اور بدعات و رسومات عملی و فکری طور پر رواج پاگئی ہیں جو قرآن و سنت اور اس کی تعلیمات کےخلاف ہیں۔ ان بے بنیاد نظریات و رسومات کے سبب امت کا ایک بڑا طبقہ ماہ محرم کے حقائق و فضائل کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہے اور معتبردینی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنیاد پر عملی طور پر خلاف شریعت اعمال کا مرتکب ہے۔ ایسی صورت حال میں صحیح تعلیمات کی اشاعت اور بے بنیاد باتوں کی نشاندہی کی ضرورت ہے ۔ ذیل میں قرآن وسنت کی روشنی میں ماہ محرم کی حقیقت ، حرمت و فضیلت اور مسنون اعمال کے ساتھ مروجہ بدعات و رسومات اور غیرشرعی اعمال کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ مسلم معاشرہ محرم سے متعلق اپنے نظریات و اعمال کاجائزہ لے کر ان کی اصلاح کرے۔ اور معتبرتعلیمات پر عمل کرکے اس ماہ کے فضائل حاصل کرنے کی کوشش کرے۔مسلمان کے ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ہر اس نظریے اور عمل سے پرہیز کرے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہو۔
اسلامی سال کی بڑی خوبی اور اہمیت:
ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔اس لیے اسلامی سال سے متعلق چند باتیں برمحل معلوم ہوتی ہیں جن سے اسلامی سال کی اہمیت کے ساتھ چند احکام بھی واضح ہوں گے۔ بارہ مہینوں پر مشتمل اسلامی سال خالص قمری ہے, اسی وجہ سے اسے قمری سال اور قمری مہینے بھی کہتے ہیں ۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے بارہ مہینے اللہ تعالی نے خود ہی مقرر فرمائے ہیں جیسا کہ سورہ توبہ میں ہے: ”بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے جو اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں یہی دین ( کا ) سیدھا (تقاضا) ہے۔(آسان ترجمہ قرآن) اس آیت کریمہ سے اسلامی سال اور اس کے مہینوں کی خوبی اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔
جب کہ شریعت کے متعدداحکام کا تعلق براہ راست اسلامی ماہ و سال کے ساتھ ہے جیسے مناسک حج، ماہ رمضان کے روزے، عشرہ ذی الحجہ، عیدین، تکبرات تشریق، زکوۃ، قربانی، صدقہ فطر، شب برأت، پندرہ شعبان، شب قدر، عاشورہ، بلوغت اور ان جیسے دیگر احکام۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قمری تقویم کا اہتمام کریں ۔جیسا کہ ارشاد خداوندی میں اس کی طرف واضح اشارہ ہے: ” لوگ آپ سے نئے مہینوں کے چاندکے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ انھیں بتا دیجئے کہ یہ لوگوں (کے مختلف معاملات ) اور حج کے اوقات متعین کرنے کے لیے ہیں (آسان ترجمہ قرآن)
      حضرت مولانامفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” آیت مذکور میں ذکر یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”أھلۃ” یعنی شروع مہینے کے چاندکے متعلق سوال کیا کہ اس کی صورت آفتاب سے مختلف ہے کہ وہ کبھی باریک ہلالی شکل میں ہوتا ہے ،پھر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے ،پھر پورا دائرہ ہوجاتا ہے ،پھر اس میں تدریجی کمی اسی طرح آتی ہے ،اس کی حقیقت دریافت کی یاحکمت ومصلحت کا سوال کیا، دونوں احتمال ہیں مگر جو جواب دیاگیا اس میں حکمت ومصلحت کا بیان ہے،اگر سوال ہی یہ تھا کہ چاندکے گھٹنے بڑھنے میں حکمت و مصلحت کیا ہے ؟ تب تو جواب اس کے مطابق ہو ہی گیا، اور اگرسوال سے اس گھٹنے بڑھنے کی حقیقت دریافت کرنا مقصود تھا جو صحابہ کرام کی شان سے بعید ہے تو پھر جواب بجائے حقیقت کے حکمت و مصلحت بیان کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اجرام سماویہ کے حقائق دریافت کرناانسان کے بس میں بھی نہیں اور ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اس حقیقت کے علم پر موقوف بھی نہیں، اس لیے حقیقت کا سوال فضول ہے ، پوچھنے اور بتلانے کی بات یہ ہے کہ چاند کے اس طرح گھٹنے ، بڑھنے ، چھپنے اور طلوع ہونے سے ہمارے کون سے مصالح وابستہ ہیں ، اس لیے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمھارے مصالح جو چاند سے وابستہ ہیں یہ ہیں کہ اس کے ذریعہ تمھیں اپنے معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنا اور حج کے ایام معلوم کرنا آسان ہو جائے گا۔
قمری اور شمسی حساب کی شرعی حیثیت:
          اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوا کہ چاندکے ذریعہ تمھیں تاریخوں اور مہینوں کاحساب معلوم ہوجائے گاجس پرتمھارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے ۔اسی مضمون کو سورہ یونس میں اس عنوان سے بیان فرمایا ہے: و قدرناہ منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب (یونس : ٥) جس سے معلوم ہوا کہ چاند کو مختلف منزلوں اور حالات سے گزارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال ،مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم ہوسکے۔ مگر سورہ بنی اسرائیل آیت:١٢ میں اس حساب کا تعلق آفتاب سے بھی بتلایا گیا ہے وہ یہ ہے: ”فمحونا آیۃ اللیل وجعلنا آیۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم و لتعلموا عدد السنین والحساب۔ ترجمہ: پھر مٹایا رات کا نمونہ اور بنا دیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب۔
اس تیسری آیت سے اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ سال اور مہینوں وغیرہ کا حساب آفتاب سے بھی لگایاجاسکتا ہے لیکن چاند کے معاملہ میں جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کیے ان سے واضح اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ شریعت اسلام میں حساب چاند ہی کا متعین ہے خصوصا ان عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے روزہ رمضان ، حج کے مہینے ، حج کے ایام، محرم، شب برأت وغیرہ سے جواحکام متعلق ہیں وہ سب رویت ہلال سے متعلق کیے گئے ہیں کیوں کہ اس آیت میں”ھی مواقیت للناس والحج” فرما کر بتلا دیا کہ اللہ تعالی کے نزدیک حساب چاند ہی کا معتبر ہے اگرچہ یہ حساب آفتاب سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔
    شریعت اسلام نے چاند کے حساب کو اس لیے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر معلوم کر سکتا ہے ، عالم، جاہل، دیہاتی، جزیروں پہاڑوں کے رہنے والے جنگلی؛ سب کو اس کا علم آسان ہے بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلات رصدیہ اور قواعد ریاضیہ پر موقوف ہے جس کو ہرشخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا، پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطور فرض متعین کردیا اور عام معاملات ، تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادات اسلامی کاذریعہ اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے۔ اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیوں کہ ایسا کرنے میں عبادات، روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے جیسا اس زمانے میں عام دفتروں ، کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہو گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے ، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرت قومی و ملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط وکتابت اور روزہ مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا (معارف القرآن)
      حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے معاملات اور حسابات میں قمری تاریخ کا اہتمام کرنا چاہئے، یہ جہاں فرض کفایہ ہے وہیں اسلامی غیرت کا تقاضا بھی۔ اور اجر و ثواب کا باعث بھی ہے اور ایک درجہ میں شعائر اسلام میں سے بھی ہے۔ ان وجوہات کے سب قمری تقویم کی رعایت اہمیت رکھتی ہے ۔ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ مختلف احکام و عبادات کا تعلق قمری تاریخ سے ہے۔
قمری تاریخ سے ہماری غفلت :
        لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ قمری تاریخ اور ماہ و سال کی نہ تو رعایت کرتے ہیں، نہ اس کے ناموں اور احکام سے واقف ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔حالاں کہ ان پر شریعت کے اہم مسائل موقوف ہیں۔ جیسے بچوں کی تاریخ پیدائش ہی کو لے لیجیے کہ مسلمان والدین اولاد کی شمسی تاریخ پیدائش تو نوٹ کرتے ہیں مگر قمری تاریخ کو اہمیت نہیں دیتے اور سمجھتے ہیں کہ اسلامی تاریخ پیدائش نوٹ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، حالاں کہ اولاد کی بلوغت میں اسلامی سال کی سخت ضرورت و  اہمیت ہے۔ اگر اسلامی تاریخ پیدائش کاعلم نہ ہو تو اس کی بلوغت کا فیصلہ کتنا مشکل ہوگا ؛ کیوں کہ اگر بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہوئی تو پھر اس کو بالغ قرار دینے کے لیے یہ علم ہونا ضروری ہے کہ اس کی عمر اسلامی سال کے اعتبارسے 15سال ہے ، اسی طرح یہ بھی سمجھئے کہ لڑکی چوں کہ 9/اسلامی سال سے پہلے بالغ نہیں ہوسکتی ؛ اس لیے اس کو نویں اسلامی سال سے پہلے جوخون آئے تو اس کو ماہواری یعنی حیض نہیں کہتے بلکہ وہ استحاضہ یعنی بیماری ہے ، اس کی بناپر اس کو بالغ شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اور جب اسلامی عمر کا پتا ہی نہ ہو تو یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ وہ خون ماہواری ہے یا بیماری ؟ اور وہ بالغ شمار ہوگی یا نہیں؟ اسلامی ماہ وسال کی اہمیت وضرورت کا اس ایک ادنی مسئلہ سے اندازا لگایا جاسکتا ہے جبکہ تفسیر کے ذیل میں اس کی حیثیت واہمیت تفصیل سے واضح ہوچکی ہے۔
سن ہجری کا آغاز:
           قمری ماہ وسال کا آغاز اور اس کا چلن تو بابا آدم کے دور سے ہی ہے البتہ سن کی تعیین میں طریقے مختلف رہے ۔ مختلف دور میں لوگ اپنی قوم، اپنے قبائل، اپنی تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے کسی اہم واقعہ اور سانحہ کو بنیاد بنا کر سن کا حساب لگاتے تھے ، اس طرح مختلف اہم واقعات سن کی بنیاد بنائے گئے جیسے کسی نے حضرت آدم کی بعثت کو سن مقرر کیا ، کسی نے طوفان نوح کو ، کسی نے حضر ت ابراہیم کے آتش نمرود میں ڈالے جانے کو ، کسی نے حضرت موسی اور اس کی قوم کے نجات کو ، کسی نے حضرت عیسی کی ولادت کو تو کسی نے اصحاب فیل کے واقعہ کو سن مقرر کیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ چنانچہ ابن جوزی ؒ نے امام شعبی ؒ سے نقل فرمایا ہے کہ : ”جب اولاد آدم کی کثرت ہو گئی تو انھوں نے آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے کو سن مقرر کیا، پھر یہاں سے یہ سلسلہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے تک چلا ، یہاں سے حضرت موسی علیہ السلام کے مصر سے نکلنے تک چلا ، پھر یہاں سے حضرت داؤد علیہ السلام تک چلا ، اس طرح یہ تاریخی سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام تک جا پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں بھی عرب میں بعض اہم واقعات و حادثات ، جنگوں ، اصحاب فیل یا تعمیر بیت اللہ کو بنیاد بنا کر سن کی تعیین اور حساب لگانے کا معمول تھا ۔
          مسلمانوں کی باقاعدہ تاریخ کی شروعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہوئی ۔ اس سے پہلے مسلمان سن نبوت یا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج وغیرہ سے تاریخ کا حساب کیا کرتے تھے۔ اہل عرب میں مختلف واقعات مشہور تھے جن کی بنیاد پر تاریخ کا تخمینہ لگاتے تھے، اس لیے باقاعدہ سن مقررنہیں تھا اورنہ باضابطہ سن مقررکرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ؛ لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا اور فتوحات کا سلسلہ بڑھا تو عرب کے علاوہ عجم میں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی تو انفرادی و اجتماعی اور سرکاری سطح پر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ باقاعدہ کوئی سن مقررکیاجائے ۔ توخلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جلیل القدرصحابہ کے مشورہ سےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ کو بنیاد بنا کر سن ہجری کا آغاز فرمایا۔ نیز صحابہ کرام نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سال کی ابتدا ماہ محرم سے کی جائے چنانچہ ماہ محرم ہی سے اسلامی سال کا آغاز ہونے لگا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے, اور آج جو ١٤٤١ ہجری سال ختم ہونے کو ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کو ١٤٤١ سال مکمل ہوچکے ۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کاعمل سنت ہے:
     ماہ محرم سے اسلامی سال کا آغاز کرنا حضرت عمرفاروق اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل ہونےکی وجہ سے ہمارے لیے سنت کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طریقے کی طرح خلفائے راشدین کے طریقے کو بھی سنت فرمایا ہے۔ اور انہیں معیارحق قرار دیتے ہوئے ان کی اتباع کاحکم دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "علیکم بسنتی و سنتۃ الخلفاء الراشدین المھدیین” (ابوداود،باب فی لزوم السنۃ)یعنی میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی سال کی ابتداکے لیے ہجرت نبوی کو بنیاد بنا کر ماہ محرم سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ لہذا اس کے مطابق اپنے روز مرہ کے معمولات کا حساب لگانا سنت پر عمل کرنا شمار ہوگا۔ اللہ تعالی ہمیں حق بات کہنے، سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)