ظلم کی چکی میں پسنے کے باوجود ہماری آہ وفغاں بے اثر کیوں؟

34

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک نہایت خطرناک بیماری اور مہلک وباء سے دو چار ہے، جو افراد ہی نہیں بلکہ پورے معاشرہ کو تباہ وبرباد کردینے والی ہے جو بھی اس بیماری میں مبتلا ہوتا ، اس کی صحت وتندرستی ، خیر وعافیت ، وقت وعمر ، رزق ومعیشت اور اہل وعیال سے خیر وبرکت اٹھ جاتی، اس کی دعا بے اثر ہوجاتی،ا س کی مروت جاتی رہتی، اس کا وزن کم ہوجاتا، اس کے اخلاق بگڑ جاتے، شرم وحیا مفقود ہوجاتی اور اس کی دنیا بھی برباد ہوجاتی اور آخرت بھی ، میری مراد اس بیماری سے کورونا یا طاعون یا اس طرح کی دوسری بیماریاں اور وبائیں نہیں بلکہ یہ حرام خوری اور ناجائز طریقہ پر دوسروں کا مال ہڑپ لینے کی بیماری ہے، یہ بیماری جس سماج یا فرد میں در آتی اور پھیلتی ہے اس کے اندر سے خوبیاں غائب ہوجاتیں اور اس کی جگہ بغض وحسد، کینہ وکدورت ، نفرت وکراہت اور گھٹیا باتیں لے لیتی ہیں، جس سماج میں حرام کھانے کمانے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے،ا س میں خیر خواہی کی جگہ دھوکہ دہی، فریب کاری، چالبازی اور مکاری آجاتی ہے، امانت کی جگہ خیانت پیدا ہوجاتی، انصاف کی جگہ ظلم وناانصافی کا دور دورہ ہوجاتا اور امن وامان خوف ودہشت میں تبدیل ہوجاتا ہے ، باطل وناجائز طریقہ پر لوگوں کا مال کھانے کا مطلب ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا مال ناحق طریقہ پر حاصل کرکے اسے اپنے دست تصرف میں لے لے، خواہ چوری کرکے، غصب کرکے، ظلم وتعدی اور دست درازی کے ذریعہ ہو یا دھوکہ دہی یا کسی بھی حیلے بہانے سے، اسلام نے ان تمام صورتوں سے مال حاصل کرنے اور دوسروں کے مال پر ناحق قبضہ جمانے سے منع کیا اور اسے حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو، خرید وفروخت (النساء :29)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اس کی جان بھی ، اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی (صحیح مسلم)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو قربانی کے دن منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
تمہاری جان ، تمہارا مال، تمہاری آبروتم پر حرام ہے، اس ماہ میں اس شہر میں اس دن کی حرمت کی طرح، کیا میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ ہم نے کہا ، ہاں۔ بے شک آپ نے پہنچا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہنا، جو موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو اس وقت موجود نہیں ہیں۔ (متفق علیہ)
ناجائز طریقہ پر مال حاصل کرنے کی مختلف صورتیں ہمارے معاشرہ میں مروج ہیں، ایک تو دوسرے کا مال غصب کرلینا یا چوری کرلینا ہے جو سماج میں عام ہے، جو زور آور ہوتاہے وہ کمزوروں کودباتا، شہر کے محلہ کے اور علاقہ کے جو دبنگ اور غنڈے قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ دوسروں کی زمینوں پر قبضے کرتے ، دوسروں کے املاک پر قابض ہوتے، پھر اسے اپنی ملکیت میں لے کر اس کی خرید وفروخت کرتے ہیں، اور وہ اپنے اثر ورسوخ اور غنڈہ گردی سے جعلی کاغذات بھی تیار کرالیتے ہیں، اسی طرح چوری اور ڈکیتی بھی عام ہے، بندوق دکھا کر اور نیزوں کے نوک پر دوسروں کا مال لوٹ لیا جاتا، اور اس ڈیجٹیل دور میں آن لائن دوسروں کے اکائونٹ سے بڑی بڑی رقم اپنے اکائونٹ میں ٹرانسفر کرلیا جاتا ہے، کبھی اس کے لئے تشدد وجرائم کا ارتکاب بھی کیا جاتا اور دھوکہ دہی فراڈ اور فریب کاری کا سہارا بھی لیا جاتا ہے، ایسے جرائم کرنے والے انجام کار سے غافل ہوتے ہیں، یہ وہی ہوتے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر نہیں اور اس کی پکڑ کی پرواہی نہیں ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیاکرو یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا، عذاب اللہ کی طرف سے، اور اللہ تعالیٰ قوت وحکمت والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
اللہ کی لعنت ہے چور پر جو انڈا چراتا ہے ، پھر اسکے نتیجہ میں اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ، یا رسی چوری کرتاہے جس سے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ (متفق علیہ )
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے ‘ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا:
جس نے زمین کا کچھ بھی حصہ ناحق لیا تو قیامت کے دن اسے ساتوں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری)
حضرت علی کرم اللہ وجہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:
اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جس نے زمین کی علامتوں اور اس کی چوہدی کو تبدیل کیا۔
یعنی اس میں ردوبدل کرکے اپنی زمین کے ساتھ دوسروں کی زمین کا کچھ حصہ غصب کیا۔

جائز وحرام مال حاصل کرنے کی ایک صورت رشوت کا لین دین بھی ہے، یہ تو ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے، کیا مسلم اور کیا غیرمسلم ، ہر کوئی اس میں ملوث ہے، حکومت کے اعلیٰ حکام سے لے کر ادنیٰ درجہ کا چپراسی تک ہر کوئی اس لعنت میں گرفتار ہے، مسلم ہو یا غیر مسلم ہر کسی کو جہاں موقع ملتا بلا جھجھک ہاتھ صاف کرتا ہے، اسلام نے رشوت لینے کو بھی حرام قرار دیا ہے اور دینے کو بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اور ایک دوسرے کامال ناحق نہ کھایا کرو، اور نہ پہنچایاکرو ان کو حاکموں تک کہ کھا جائو کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے ناحق جبکہ تم کو معلوم ہے، خود کے ناحق ہونے کا، یعنی حاکموں اور منصفوں کو رشوت پہنچا کر اپنے حق میں فیصلہ کراکر ظلم وستم سے مال حاصل نہ کرو، یا رشوت کے بغیر ہی جھوٹا مقدمہ بنا کر چرب زبانی اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ دوسروں کے مال کے بارے میں اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرکے دوسروں کے مال کو کھائو۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
میں ایک انسان ہوں، اور تم میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو، اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے معاملہ کو زیادہ رنگ آمیزی کیساتھ پیش کرے اور میں اسی سے مطمئن ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو یاد رکھو کہ حقیقت حال تو صاحب معاملہ کو خود معلوم ہوتی ہے، اگر فی الواقع وہ اس کا حق نہیں ہے تو اس کو لینا نہیں چاہیے کیونکہ اس صورت میں جو کچھ میں اسے دوں گا وہ جہنم کا ایک ٹکڑہ ہوگا۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:
اللہ کی لعنت ہے رشوت لینے اور رشوت دینے والے پر۔ (مسند احمد، سنن ترمذی ، ابو دائود، ابن ماجہ)
رشوت سے کمائی گئی دولت بدترین کمائی ہے جس سے ظلم وناانصافی کی مدد ہوتی ، انسانی عزت وآبرو کی پامالی ہوتی، فساد وبگاڑ کا ذریعہ ہوتی، نفسانی خواہشات کی پیروی ہوتی، اور اقتدار واختیارات کا بیجا استعمال ہوتا اور نظم وضبط کے خلاف کھلا چیلنج ہوتا ہے، اس سے سماج ومعاشرے کے مفادات کو نظر انداز کردیا جاتا اور شخصی مفادات کے لئے ہر طرح کے شر وفساد اور نا انصافی کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اسی وجہ سے اسلام نے رشوت کو حرام قرار دیا ہے ، چاہے وہ ہدیہ وتحفہ کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے قبیلہ اسد کے ایک شخص کو جن کا نام لتبیہ تھا، زکات کی وصولی پر مامور فرمایا، وہ جب وصولی کے بعد واپس آئے تو انہوں نے وصول کردہ مال میں سے کچھ کو جمع کرتے ہوئے اور کچھ کو اپنے لئے رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ بیت المال کا ہے اور یہ میرا ہے جو مجھے بطور ہدیہ ملا ہے، تو رسول اللہ صلعم منبر پر چڑھے ، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میں جسے زکات وصول کرنے بھیجتا ہوں وہ آکر کہتا ہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، وہ اپنے باپ کے گھر میں بیٹھا

کیوں نہیں رہا،یا یوں فرمایا کہ وہ اپنی ماں کے گھر بیٹھا کیوں نہیں رہا کہ دیکھتا کہ اسے ہدیہ دیا جارہا ہے یا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، جو کوئی شخص اس مال میں سے کچھ لے گا وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اونٹی اس کی گردن پر ہوگی، جو آواز نکال رہی ہوگی، یا گائے ہوگی یا بکری ہوگی جو آواز نکال رہی ہوگی، پھر آپ صلعم نے اپنا دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھایا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے بغل کو دیکھ لیا، پھر فرمایا اے اللہ گوہ رہنا کہ میں نے پیغام پہنچا دیا ہے، یہ بات آپ نے دوبار فرمایا۔ (متفق علیہ)
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
ہم جسے زکات کی وصولی کے کام پر لگائیں یا انتظامی امور کی انجام دہی پر مامور کریں پھر ہم اس میں سے اسے کچھ دیں تو وہ اس کے لئے حلال ہے اور اس کے علاوہ اگر وہ اس میں سے کچھ لے لے تو یہ خیانت ہے۔ (سنن ابی دائود ، صحیح الالبانی)
اس وقت حرام مال کمانے کا ایک بڑا ذریعہ خرید وفروخت میں ملاوٹ اور دھوکہ دہی ہے، تاجروں کی عادت بن گئی ہے کہ وہ گاہکوں سے جھوٹ بولتے، سامان فروخت کرنے اور گاہکوں کو لبھانے کے لئے جھوٹی قسمیں کھاتے ، طرح طرح کے آفروں کا جھانسا دے کر ٹھگے سامانوں کی اصلیت کو چھپا کر اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور گاہکوں کو لبھانے کیلئے ہر ممکن حیلہ اختیار کرتے ہیں، اس طرح جھوٹ فریب اور فراڈ کا سہارا لے کر سامانوں کی مارکٹنگ حرام ، ظلم اور باطل طریقہ سے دوسروں کا مال ہڑپنا ہے۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے کلام نہیں فرمائیںگے، بلکہ ان سے سخت ناراض ہوںگے، ایک تو احسان جتانے والا ہے کہ جب بھی کسی کو کچھ دیتا ہے تو احسان جتاتا ہے دوسرے وہ جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سامان فروخت کرتا ہے ، جیسا کہ آج کل اشتہارات کے ذریعہ خوب بڑھا چڑھا کر اور اس کی جھوٹی خوبی بیان کرکے فروخت کیا جاتا ہے) اور تیسرا وہ شخص ہے جو ٹخنوں سے نیچے تک اپنی لنگی وپائجامہ لٹکا کر پہنتا ہے۔ (صحیح مسلم)
ہمارے یہاں ناپ تول میں کمی کرنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ سبزی اور گوشت کی دکان ہو یا چکن مٹن کی، تیل واناج کی دوکان ہو، یا مچھلی وفروٹ کی، پٹرول وڈیزل کے پمپ ہوں یا گیس وکھاد کی دکان ، ہر جگہ یہ وباء عام ہے، دس کیلو لیں، تو آٹھ ہی کیلو ملے گا، ایک کیلو لیں تو تین پائو ہی میسر ہوگا، بہت کم تاجر ایسے ہیں جن میں خوف خدا اور احساس جوابدہی ہے اور وہ امانت داری کے ساتھ تولتے اور اپنا میٹر وترازو صحیح رکھتے ہیں، ایسے ہی معاملہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی، کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں، کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں ، اس عظیم دن کے لئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوںگے۔ (المطففین؛6-1)
سامان کے عیوب کو چھپا کر اسے فروخت کرنے کا رواج بھی ہمارے درمیان ایک فن اور ہنر سمجھا جانے لگا ہے کہ گلے سڑے اور ناکارہ سامان کو اوپر سے ٹھیک ٹھاک کرکے کسی کے ہاتھ فروخت کردیا جاتا ہے ، اشیائے خرد ونوش ، لباس وپوشاک سے لے کر الکٹرانک سامان ومشنری تک ہر چیز اسی طرح دھوکہ دہی سے فروخت کی جاتی ہے، اور ہماری اکثریت اس میں ملوث ہے، اور مصیبت یہ ہے کہ ہم اسے برا بھی نہیں سمجھتے بلکہ کمال مہارت اور ہنر وہوشیاری سمجھتے ہیں جبکہ یہ دھوکہ وحرام اور اسلام کی نظر میں نہایت گھنائونا عمل ہے، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلعم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔
کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کیلئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے کوئی عیب والی چیز اسے بیان کئے بغیر فروخت کرے۔ (سنن ابن ماجہ، مستدرک، حاکم، وصحیح الجامع للالبانی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلعم کا گذر (فروخت کے لئے رکھے ہوئے)غلہ کے ڈھیر کے پاس سے ہوا، تو آپ صلعم نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو اس کے اندر تری تھی، تو آپ نے فرمایا اے غلہ کے مالک یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول بارش کے پانی کا اثر ہوگیا ہے، تو آپ نے فرمایا تم نے اسے اوپر کیوں نہیں رکھا؟ کہ لوگ اسے دیکھتے، پھر فرمایا جو دھوکہ دے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم)
ہمارے سماج میں یتیموں اور بیوائوں کے مال کو ہڑپنے کا بھی رواج عام ہے، مشترکہ خاندان میں ایک شخص کاروبار کرتا، زمین وجائیداد بناتا، ماںباپ اور بھائیوں کی پرورش کرتا اور انہیں پڑھانے لکھانے پر خرچ کرتا ہے ، مگر اچانک جب اس کا انتقال ہوجاتا تو اس کی دکان ، کاروبار، جائیداد، اور املاک پر بھائی ، والد اور دوسرے قابض ہوجاتے، کبھی اس بیوہ اور یتیم کو کچھ دے دیتے اور کبھی تو قساوت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ دیئے بغیر بے دخل کردیتے ہیں جبکہ اس کا متروکہ مال اس کی اولاد اور بیوی کی ہے، یہ یتیم کا ناحق مال کھانا اور دنیا وعاقبت برباد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھررہے ہیں، اور عنقریب وہ جہنم میں جائیںگے۔ (النساء:10)
ان یتیموں کے مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ان یتیموں کو ان کا مال دے دو، اور پاک وحلال چیز کے بدلے ناپاک وحرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کیساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جائو، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء:2)
ہمارے درمیان حرام طریقہ سے مال حاصل کرنے کا ایک عمل ملازمین کی تنخواہوں کیساتھ ہیرا پھیری کرنا بھی ہے کہ مختلف حیلے بہانے سے ان کی تنخواہ روک لی جاتی ، مزدور کو مزدوری سرے سے دی ہی نہیں جاتی کہ کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا یا اس میں کٹوتی کردی جاتی اور پورا حق نہیں دیا جاتا ہے، یا پوری تنخواہ یا مزدوری دینے کے لئے اضافی عمل کا پابند بنایا جاتا اور اس اضافی عمل کے مقابلہ میں کوئی معاوضہ نہ دیا جاتا ہے، یا تنخواہ روک لی جاتی اور ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے، اور تنخواہ کی اس رقم سے ذمہ داران کاروبار کرکے نفع کماتے ہیں جو در حقیقت ملازمین کے پیسے ہوتے ہیں۔
ہمارے علم میں ہے کہ حیدرآباد کے بعض معروف دینی ادارے یہی کررہے ہیں ، ملازمین کی تنخواہیں چار چار ، چھ چھ ماہ ادا نہیں کرتے، اور اسے دوسرے کاروبار میں مشغول رکھتے ہیں اور ملازمین کو علی الحساب تھوڑا بہت کبھی کبھار دے دیتے ہیں ، خاص طور پر رمضان میں جو مالیہ کی فراہمی ہوتی ہے جو پورے سال کے اخراجات کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اسے روک لیا جاتا ہے، ملازمین دانے دانے کو ترستے رہتے اور اس مال سے بقرعید کیلئے بڑے جانور خریدے جاتے ہیں جس کی آمدنی ومنافع ادارے کے نہیں بلکہ ذاتی ہوتی ہیں، یہ سراسر حرام اور غضب الٰہی کو دعوت دینے والا عمل ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلعم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں قیامت کے دن تین لوگوں کے مقابلہ پر فریق ہوں گا، ایک وہ شخص جسے میرے نام پر دیا گیا پھر اس نے دھوکہ دیا، اور دوسرا وہ شخص جس نے آزاد انسان کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھائی، اور تیسرا وہ شخص جس نے مزدور رکھا، (ملازم رکھا) پھر اس سے پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری پوری نہیں دی۔ (صحیح البخاری)
ہمارے معاشرے میں حرام خوری کی ایک صورت قرض لے کر اسے ادا کرنے میں کوتاہی کرنا بھی ہے۔ بہت سے لوگ اسی نیت سے قرض حاصل کرتے ہیں کہ واپس نہیں کرنا ہے، وہ اسے اپنی مہارت ، چابک دستی اور چالاکی سمجھتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حقوق العباد کا مسئلہ بڑا خطرناک ہے، اس سے چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے، قیامت کے روز اس وقت تک اس کی گلو خلاصی ممکن نہیں جب تک کہ صاحب حق کو اس کا حق ادا نہ کردیا جائے اور وہاں چونکہ روپئے، پیسے اور دراہم ودینار کا لین دین نہیں ہوگا، اور نہ اس کی کوئی قیمت ہوگی تو وہاں لین دین نیکیوں اور بدیوں کے ذریعہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچا دو، (النساء:58)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:
اگر کوئی شخص کسی کا مال ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اسے ادا فرمائیںگے، اور جو لیتاہے اسے ہڑپنے اور واپس نہ کرنے کے ارادے سے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک وبرباد فرمائیںگے۔ (صحیح بخاری)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:
تمہیں پتا ہے کہ مفلس کونہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس اسے کہا جاتا ہے جس کے پاس نہ سامان ہو نہ درہم‘ تو آپ صلعم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کبھی اس کو گالی دی ہوگی، اس پر بہتان باندھا ہوگا، اور اس کا مال لیا ہوگا، اس کا خون بہایا ہوگا، اور اس کو مارا ہوگا، تو اس کو اور اس کو اس کی نیکیاں دے دی جائیںگی، اور جب نیکیاں ختم ہوجائیںگی، قبل اس کے کہ اس کے ذمہ باقی حقوق ادا کئے جائیں تو ان اصحاب حقوق کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیںگے، پھر اسے جہنم میںڈ ال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
آج ہمارے معاشرہ اور خود دینی حلقوں میں بھی حرام خوری کی ایک نئی صورت عام ہوگئی ہے، یعنی اجتماعی قربانی کی ، جہاں کچھ قربانی تو کی جاتی اور کچھ کے پیسے جیبوں میں چلے جاتے ہیں، البتہ گوشت چند کیلو کے حساب سے سب کے پاس پہنچا دیا جاتا ہے یعنی دس بڑا جانور ذبح کرکے 25-30 جانور کے حصہ بنا دیئے جاتے ہیں، قربانی کرانے والے گوشت پہنچنے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ میری قربانی ہوگئی ہے، مگر انہیں کیا معلوم کہ قربانی کے نام پر ان کے ساتھ فراڈ ہورہاہے۔ میرے علم میں ہے کہ شہر کے ایک معروف ادارے نے اس سال تشہیری مہم کے ذریعہ سو سے زائد بڑے جانور کے حصے وقف کے بک کئے مگر قربانی پانچ چھ سے زیادہ کی نہیں ہوئی جو مطلوب تھے، اور میانمار کے پناہ گزیں خواتین وبچوں کو جمع کرکے بینر لگا کر ان کے فوٹو وغیرہ لے کر کچھ گوشت ان کے سپرد کرکے انہیں رخصت کردیا گیا، اور قربانی کرانے والوں کو یہ سین دکھا کر مطمئن کردیا گیا جبکہ قربانی کے سارے پیسے جیب میں چلے گئے، حیدرآباد کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی کچھ لوگ ایسے دھندے کرکے حرام مال جمع کررہے ہیں اور دوسروں کی قربانیوں کو خراب کرکے مال حرام جمع کرنے میں سرگرم رہتے ہیں۔ بھلا جو دین کے ٹھیکدار ہوں وہی جب اس طرح حرام خوری میں مبتلا ہوں تو امت کا کیا ہوگا۔ اور اللہ کی مدد کس طرح آئے گی۔
آج ہمارے اوپر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں، ہم طرح طرح کی آزمائشوں سے دو چار ہیں، ہمارا جینا دوبھر کردیا گیا ہے، ہر صبح ہمارے لئے ایک نئی مصیبت وآفت اور تنگی وآزمائش لے کر طلوع ہوتی ہے، ہمارے مدارس کو نشانہ بنایا جارہاہے، ہماری خانقاہیں اجاڑی جارہی ہیں، ہماری مسجدیں شہید کی جارہی ہیں اور اسکی جگہ بت خانے تعمیر کئے جارہے ہیں، اور ہم اللہ سے دعائیں کررہے اور ہاتھ پھیلا ئے مدد طلب کررہے ہیں، مگر ہماری دعا قبول نہیں ہورہی ہے کیونکہ ہم حرام خوری میں ناک تک ڈوبے ہوئے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں ، اللہ کی مدد شامل حال ہو، تو سب سے پہلے ہمیں حرام خوری سے بچنا چاہیے، حقوق العباد کی ادائیگی پر توجہ دینی چاہیے پھر اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اپنی حاجت روائی کی درخواست کرنی چاہیے۔
حالات کی نزاکت کا تقاضہ ہے کہ عوام سے پہلے خواص طبقہ حرام خوری سے بچیں، اللہ کے سامنے جرات کا مظاہرہ نہ کریں، حرام کثیر کے بجائے حلال قلیل پر قناعت کریں ، مدارس کے چندوں میں خرد برد اور کمیشنوں سے باز آئیں، ورنہ اللہ کی گرفت سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا ‘ موجودہ ملکی صورتحال شاید اسی کا نتیجہ ہے اور ہماری دعائوں اور آہ وفغان کے بے اثر ہونے کی یہی وجہ ہے۔