ہیرے کی ناقدری.

32

تحریر :خورشید انور ندوی
19 اگست 2020
ہیرے کی ناقدری.
(قانون وراثت سے بے اعتنائی)
واقعی ہم قابل رحم ہیں.. مسجد کی حرمت مسلم ہے، اس میں دو رائے نہیں.. اللہ کے گھروں سے مسلمانوں کی بے پناہ محبت، لگاؤ اور احترام کا جذبہ ہی ہے کہ ہم اس سلسلے میں بہت حساس ہیں.. کبھی کچھ ناہمواری ہوجائے تو مسلمان بھرپور احتجاج کرتے ہیں اور آواز بلند کرتے ہیں.. افراد، جماعتیں، ادارے سبھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ بالکل بجا ہے.. تاہم علامتوں کا حد درجہ تحفظ اور اہم ترین احکام کی بدترین پامالی، ہمارے قومی اور اجتماعی مزاج کی بے اعتدالی کی طرف اشارہ کرتی ہیں.. اسلام کا قانون وراثت بڑا براہ راست حکم ہے.. اور شاید ہی کوئی دوسرا قانون مسلمانوں میں اس قدر متفق علیہ ہو جس کی تفصیل میں اختلاف نہیں ہے.. اور سبھی مکاتب فقہ اس پر یکجا ہیں.. لیکن عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس قانون پر عمل درآمد بہت کم ہے.. اور اس حمام میں سب ننگے ہیں.. اتنا شفاف، سادہ اور سیدھا قانون کہ اگر اس کو علانیہ تعمیل میں لایا جائے، اور دیگر ابنائے وطن کے سامنے اس قانون کی تفصیل باربار آئے، تو اسلام کے اصول مساوات سے کم دل کشی اور دلچسپی اس میں نہیں ہے.. ایک چھوٹا سا شبہ جو عام غیر مسلموں کو پریشان کرے گا، وہ مرد وزن کے درمیان حصص کا تفاوت ہے.. اس کے ازالہ کے لئے، اسلام کے قانون کفالت کی تشریح وتفصيل کافی ہوجائے گی.. بدقسمتی سے شریعت کے اس چمکتے دمکتے ہیرے جیسے قانون کی پامالی میں ہم آگے نکل چکے ہیں.. ہندوستانی سماج میں آج کا غیر مسلم پڑھا لکھا طبقہ، بے سوچے سمجھے مسلم سماج میں عورتوں کی درگت پر یقین کرنے لگا ہے.. جہاں اس گہرے تاثر میں ہماری کچھ کوتاہی ہے، وہیں ایک مذموم ایجنڈے پر مرتکز میڈیا کی اپنی کارستانی بھی ہے..
کچھ مسائل بڑے گنجلک ہوجاتے ہیں اور ان کو الجھانے سلجھانے میں ایک سے زائد فریقوں کا کردار انھیں مزید سنگین اور پیچیدہ بنادیتا ہے.. کم نگاہ اور کم فکر لوگ انھیں پر اپنی اور قوم کی انرجی زیادہ ضائع کرتے ہیں.. اور الجھاؤ میں ہمارے محدود وسائل بے مقصد صرف ہوجاتے ہیں..ساری کدوکاوش کے باوجود نتائج مایوس کن اور حوصلہ شکن نکلتے ہیں.. کیونکہ حل تلاش کرنے کی ہماری اپنی صلاحیت اور حاصل مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں.. اور کبھی کبھی تصفیہ کے لئے جبری طور پر ہم ان پر انحصار کرتے ہیں، جو خود فریق ہوتے ہیں… جیسا کہ بابری مسجد کیس میں ہوا.. مسلمانوں کے پاس ایسے قوانین کی کمی نہیں ہے جن کی تنفیذ میں کوئی دوسرا، کسی طرح فریق نہیں بن سکتا، نہ آڑے آسکتا ہے، نہ معترض ہوسکتا ہے.. جو صد فیصد ہمارے درمیان کا معاملہ ہے، اندرونی معاملت سے زیادہ عبادت کا معاملہ ہے.. اور ہمارے اپنے سماج میں بے پناہ عدل وانصاف کے پھیلاؤ، استحقاق کی شفافیت، اور حق ملکیت کے بے لاگ اعتراف اور ادائیگی سے متعلق ہے.. قانون وراثت کی تنفیذ میں مروجہ طریقوں سے آگے بڑھ کر ہمیں جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے.. میری رائے ہے کہ، غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم میں حکومت کے لینڈ ریونیو اینڈ ریکارڈ محکمہ کی مدد لینی چاہئے، اور عمومی تقسیم وراثت کو عدالتی کارروائی بنانا چاہئے.. تاکہ ہر تقسیم دستاویزیت حاصل کرلے اور حق تلفی کے امکانات ختم ہوجائیں… بالکل ویسے ہی جیسے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مروج ہے..
عدالتوں کی مدد کے لئے ہمارے پاس قابل قدر ادارے موجود ہیں، جیسے اسلامی فقہ اکیڈمی، امارت شریعت، جمعیت العلماء کے شرعی مشاورتی بورڈز اور فتاوی کے مختلف ادارے… بہت معمولی صرفہ سے سافٹ ویر تیار کیا جاسکتا ہے.. جو چند دنوں میں تیار ہوسکتا ہے..
اگر..
ہم قانون وراثت پر عمل درآمد کی ٹھان لیں، اور چند سال اس پر انضباط کے ساتھ، مجوزہ طریقے سے عمل کرلیں تو نہ صرف یہ کہ ہم آپس میں عدل قائم کرسکیں گے.. مسلمان خواتین کے تئیں، ہموطنوں کے درمیان پائی جانے والی گہری غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے گا، بلکہ محروم خواتین کے حقوق کی ضمانت مل سکے گی اور ان کے حقوق ملکیت حکومتی ریکارڈ کا از خود حصہ بن جائیں گے، جو آیندہ، کثیر جہتی شہری مقاصد کے لئے بہت کارآمد ہوں گے.. اس بے بہا قانون کی تعمیل پر کوئی واویلا نہیں مچ سکتا، اور یہ کلیتا رضاکارانہ تعمیل ہے….