غزل نصیر نورالحق شیر شاہ بادی

23

غزل
نصیر نورالحق شیر شاہ بادی
دوحہ قطر

محبت کرنےوالوں پرمصیبت کیسی آئ ہے
وراثت کیلئے لڑتے یہاں بھائ سے بھائ ہے

جہاں صدیوں پرانی ہم بھی مسجددیکھ آئے ہیں
صنم خانوں کی اب دیکھووہاں محفل سجائ ہے

تمہارے واسطے میں نے یہاں اپنوں کو ٹھکرایا
صنم تیری یہاں پر آج کیسی بے وفائ ہے

الکشن کے مواقع پر بہت غمخوار دیکھا تھا
شرافت ان کی اب تو ہر طرف ہی بھاجپائ ہے

حکومت کے سبھی افراد رہتے راجدھانی میں
جلایا میری بستی کو یہ کیسی رات آئ ہے

دینی درسگاہوں پر فرشتے پر بچھاتے ہیں
وہی بہترہے جس نے دین کی باتیں بتائ ہے

یہاں رہبر بنے پھرتے جورہزن ہیں حقیقت میں
نصیر دیکھو زمانے میں یہ کیسی رہنمائ ہے