صفورہ زرگر کی جرات اور بہادری کو سلام

35

اپنے ایک ٹویٹ میں فردوس ٹاک نے کہا، ‘بہن صفورہ کی جرات اور بہادری کو سلام۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ملک، جہاں قسطائی حکومت میں کوئی انسانیت اور ہمت نہیں بچی ہے، میں اب بھی قانون کی بالادستی قائم ہے

یپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر لیڈر ایڈوکیٹ فردوس احمد ٹاک نے ضلع کشتواڑ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ صفورہ زرگر کی دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کئے جانے کے اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘بہن صفورہ پھر سے گھر لوٹ رہی ہیں, ان کی بہادری کو سلام’۔

انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘بہن صفورہ زرگر پھر سے گھر لوٹ رہی ہیں۔ ان کی جرات اور بہادری کو سلام۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ملک میں جہاں قسطائی حکومت میں کوئی انسانیت اور بہادری باقی نہیں رہ گئی ہے، وہیں اب بھی قانون کی بالادستی قائم ہے’۔

فردوس ٹاک نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ کنبے کے لئے ایک اچھی خبر ہے جو انہیں جیل سے باہر نکالنے کے لئے بہت جدوجہد کررہے تھے۔

Firdous Tak

@takfirdous

Sister #SafooraZargar is walking back home again. Salute to her courage. The silver lining is that the rule of law is still prevalent in the country where ruling fascist dispensation has no humanity or courage left. #SabYaadRakhaJayega

تاہم ان کا کہنا تھا: ‘انہیں عدالت نے انسانی بنیادوں پر ضمانت دی ہے۔ یہ اپروچ حکومت کو اختیار کرنا چاہیے تھا کیونکہ جہاں صفورہ حاملہ تھیں وہیں ان کی ماں کورونا وائرس سے متاثر تھیں۔ یہ اب عیاں ہوچکا ہے کہ اس حکومت میں انسانیت نہیں ہے’۔
فردوس ٹاک نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی مانگ کرتے ہوئے کہا: ‘ہمارا قانون پر پورا بھروسہ تھا۔ میرا ماننا ہے کہ قانون کی بالادستی اب بھی قائم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سبھی سیاسی قیدیوں جنہیں اختلاف رائے کے جرم میں جیلوں میں بند کیا گیا ہے، کو بھی جلد رہا کیا جائے گا’۔

بتادیں کہ ضلع کشتواڑ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ صفورہ زرگر گذشتہ قریب ڈھائی ماہ سے دہلی کی تہاڑ جیل میں بند تھیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی ریسرچ سکالر اور جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی میڈیا کوآرڈی نیٹر صفورہ پر دہلی میں رواں برس فروری میں بھڑکنے والے بھیانک فسادات کی ‘کلیدی سازشی’ ہونے کا الزام ہے۔