غریبوں کےہمدرداورظالموں کےلئےشمشیربےنیام تھےبابا.

27

یٰسین حیدرعرف بابا,جی ہاں!یٰسین حیدرعرف باباجواب اس دنیا میں نہیں رہے اورمرحوم ہوگئے,وہی جوغریبوں کےہمدردلیکن ظالموں کےلئےشمشیربےنیام تھے.یقین نہیں آتاکہ اب ہم سے وہ کبھی نہیں مل نہیں سکیں گے,وہ کیا چلے گئے پورے شہر کو ماتم کناں کر گئے, اب ہزاروں آنکھیں اشکبار ہیں دلوں کی دھڑکنیں تیز تر ہوتی جارہی ہیں,ساری برادری سوگوار ہے,انکےمرحوم ہونےسےارریہ ایک بےباک,جانباز,غریبوں کےہمدرداوردکھیوں کےکام آنےوالےسماجی اورقدآورسیاسی لیڈرسے محروم ہوگیا.

ان کے گذر جانے سے ہم نے ایک ایسا سماجی اورسیاسی لیڈر کھودیا ہے جو اپنی پوری زندگی عوام کی بہبود کے لئے کام کرتا رہا،قوم وملت کادردان میں اتناتھاکہ انکی ساری چہک اورمہک اسی کےلئےتھی,سیاسی بصیرت، اور زبردست قومی ملی سماجی شعور ان کا طرئہ امتیاز تھا ,وہ سب کےساتھ اچھےتعلقات کےخواہاں رہتےتھےجسکی بناءپرتمام مکاتب فکرکےنزدیک یکساں مقبول تھے,سماج میں وہ ایسےتھےکہ وہ سب کے تھے اور سب ان کے تھے۔ بیدار مغزی، اولوالعزمی، ارادہ کی مضبوطی، حالات سے باخبری اور قوم و ملت کی خدمت نے ان کی شخصیت کو پراعتماد بنادیاتھا,انھوں نے اپنی منزل اور اپنا راستہ خود متعین کیا وسعت ظرف، کثرت عمل اورجرأت وبےباکی اوربلاتفریق مذہب وملت دکھیوں کی مدد ان کی شناخت تھی۔“وہ تمام کمزورطبقات کی آوازتھےجنکی دوررس نگاہیں آنےوالےہندوستان کودیکھنےکی صلاحیت رکھتی تھیں, دوسروں کےلئےجیناان کاشوق تھا,,مصیبت میں غیروں کےکام آنےوالےاس مردمجاہدکاکہیں پراورکسی بھی کمیونیٹی میں کسی بھی حادثہ کی خبرملتےہی بلاتاخیرپہونچنااوردکھیوں کےساتھ کھڑاہوناانکاایساوصف تھاجوانکوسرزمین پرموجوددوسرےبڑےبڑےقدآردلیڈروں سےممتازکرتاتھا.میں اس حادثہ کو کبھی نہیں بھول سکتاجب 2013میں زیرومائل ارریہ میں این ایچ 47والے ڈائیورژن پرکینٹ لاری اورٹیمپومیں ٹکرہوا جس میں باہرپردیس جانےوالے9مسافرمزدور زخمی اوردوآدمی کی جائےحادثہ پرہی موت ہوگئی تھی,ان سب کو جب ہاسپیٹل لےجایاگیاتوانکووہاں کوئی پہچاننےوالاتک نہ تھا ,پہچان تودورکی بات کوئی انکوچھونےتک تیارنہ تھاوہاں پران زخمی مزدوروں اورلاشوں کےساتھ ان کااگر کوئی اپناتھااورانکوکوئی پہچان رہاتھاتوانکانام حیدریٰسین عرف باباتھاجواپنی پوری ٹیم کےساتھ ان زخمیوں اورگھائلوں کی مددکےلئےشام چھ بجےسےرات دس بجےتک بغیرکچھ کھائےپئے کھڑاکاکھڑاتھا,افسوس ہےکہ ارریہ کی دھرتی اس مردآہن سےمحروم ہوگئی ,انکاانتقال ملت کےلئےایک عظیم خسارہ ہے,انہوں نےسماجی اورسیاسی سطح پرہرطبقہ کی نمائندگی اورانکےمسائل ومشکلات کوحکومت وقت تک پہونچانےاورانہیں حل کروانےمیں جواہم رول اداکیاہےاس حوالہ سےوہ ہمیشہ یادکئےجائیں گے.دعاءہےکہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے,اس دھرتی کواسکانعم البدل نصیب فرمائےاورجملہ پسماندگان اورلواحقین کوصبرجمیل نصیب فرمائے.آمین یارب العالمین.
(خادم آل انڈیا پیام انسانیت فورم لکھنؤ)