دیوبند میں موب لنچنگ : ’میڈیا کی پھیلائی نفرت نے میرے بھائی کی جان لے لی

31

دیوبند ۔ 23 جون 2020 (آس محمد کیف)
کوتوالی دیوبند کے پاس دہرہ نامی گاؤں میں اسرار کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ 18 جون کی شام کو پیش آنے والی اس واردات کے حوالہ سے اسرار کے بھائی گلفام نے ایف آئی آر درج کرائی ہے، جس کے مطابق اسرار کو کشیپ بستی میں اسکول کے نزدیک بابی، سونڈا، دھرم ویر، روہت، نتن، جوہرو، ستو، دھرمیندر، روی اور وجے سمیت تقریباً 25 حملہ آوروں نے لاٹھی، ڈنڈوں، سریوں اور دھاردار ہتھیاروں سے زد و کوب کر کے شدید طور پر زخمی کر دیا۔ اسپتال لے جاتے وقت اسرار زخموں کی تاب نہ لا سکا اور فوت ہو گیا۔ اس معاملہ میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ایس ایس پی سہارنپور کے مطابق قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور وہ یقینی طور پر سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، دھر پکڑ کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

گلفام نے اپنے بھائی کی موب لنچنگ کے اس واقعہ پر میڈیا سے گفتگو کی اور اپنی روداد یوں بیان کی:

میرا بھائی اسرار (30) فرنیچر بنانے کا کام کرتا تھا اور کام کے سلسلہ میں اسے اکثر نزدیکی گاؤں میں جانا پڑتا تھا۔ میں بھی یہی کام کرتا ہوں۔ ہم دیوبند سے 3 کلومیٹر دور واقع املیا گاؤں کے رہائشی ہیں اور جس گاؤں میں یہ واقعہ پیش آیا اس کا نام دہرہ ہے اور وہ ہمارے گاؤں سے 8 کلومیٹر دور ہے۔ ہم چھ بھائی تھے لیکن ظالموں کی وجہ سے اب پانچ رہ گئے ہیں۔ اسرار مجھ سے چھوٹا تھا اور ڈیڑھ سال پہلے زچگی کے دوران اس کی بیوی فوت ہو گئی تھی۔ اس کی 6 سال کی بچی ندا، جس کے سر سے ماں کا سایہ پہلے ہی اٹھ چکا تھا، اب باپ کے سایہ سے بھی محروم ہو چکی ہے۔

جمعرات کے روز دہرہ سے مجھے فون آیا تھا کہ تمہارے بھائی کو بھیڑ مار رہی ہے۔ ہم نے پولیس کو اطلاع دی اور فوری طور پر موقع واردات پر پہنچے مگر افسوس جب تک میرا بھائی ادھ مرا ہو چکا تھا۔ اس کے بدن کا کوئی حصہ حرکت نہیں کر رہا تھا۔ اس کو بے رحمی سے پیٹا گیا تھا۔ اس کی صرف سانس چل رہی تھیں لیکن زندگی کی علامات ختم ہو چکی تھیں۔ ہم لوگ پولیس کے ساتھ وہاں پہنچے تھے لیکن گاؤں کے کسی بھی فرد کو میرے بھائی کی حالت پر رحم نہیں آیا۔ انہوں نے ہمیں گالیاں دیں، بدتمیزی کی، یہاں تک کہ میرے تڑپتے ہوئے بھائی کو پانی بھی پلانے نہیں دیا گیا۔

پولیس نے جب اسرار کی سانس چلتی ہوئی محسوس کی تو فوری طور پر اسے گاڑی میں ڈالا اور اسپتال لے جانے کی کوشش کی۔ اس پر گاؤں والے پولیس سے بھی دھکا مکی کرنے لگے، وہ پولیس کی گاڑی کے سامنے لیٹ گئے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچ راستے میں ڈال دیں۔ گاؤں والوں کا الزام تھا کہ میرے بھائی اسرار نے 9 سال کے بچے کی گردان پر درانتی سے حملہ کیا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا الزام تھا کہ اس کی موٹر سائیکل کی ٹکر اس بچے کو لگی تھی اس کے بعد تنازعہ شروع ہوا۔

دیوبند پولیس کے ساتھ آخر کار زخمی اسرار کو لے کر ضلع اسپتال سہارنپور پہنچے، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا، کیونکہ اس نے راستہ میں ہی دم توڑ دیا تھا۔ میرے بھائی پر جس لڑکے پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے اسے میں نے اسپتال میں دیکھا، اس کے جسم پر ایسی چوٹ نہیں تھی کہ بدلے میں کسی کی جان لے لی جائے۔ ہماری تکلیف کا کون اندازہ لگا پائے گا؟ ہمارے بھائی کی لاش ہماری آنکھوں کے سامنے پڑی تھی اور اسے کیوں قتل کیا گیا یہ بھی ہمیں معلوم نہیں تھا!

اس رات سہارنپور سے رکن پارلیمنٹ فضل الرحمن اور سابق رکن اسمبلی معاویہ علی جیسے رہنما ہمارے ساتھ رہے، عمران مسعود بھی لگاتار فون کرتے رہے۔ آخر کار ہم نے اپنے بھائی اسرار کو نم آنکھوں سے دفن کر دیا۔ ہندو-مسلمان سب ہم سے تعزیت کے لئے پہنچ رہے ہیں اور سبھی کا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ کیا اسرار کو اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے؟ میں کہتا ہوں نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ہمارے ہندو بھائی کیوں ہمارے گھر آتے اور افسوس کا اظہار کرتے؟

میرے بھائی کی موت کا ذمہ دار لوگوں کے ذہنوں میں بھرا وہ غصہ ہے جسے میڈیا نے پیدا کیا ہے۔ ٹی وی چینلوں نے لوگوں کو قاتل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ پہلے ایک شریف انسان پر غلط الزامات عائد کرتے ہیں اور اس کے ہاتھ پیر باندھ کر بری طرح مارتے پیٹتے ہیں۔ یہ کیسے لوگوں ہیں، جن کے دل میں ذرا رحم نہیں آتا! اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ قاتلوں کی بھیڑ میں کئی لوگ ایسے تھے جو میرے بھائی سے واقف تھے لیکن اسے کسی نے نہیں بچایا۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں خدارا، ہندو مسلم کے نام پر نفرت مت بھڑکاؤ، درندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔