کرونا وائرس : سعودی عرب کا اس مرتبہ محدود پیمانے پر حجِ بیت اللہ کا اعلان

35

حج کے حوالے سے سعودی عرب کا فیصلہ شرعی ضرورت ہے: رابطہ عالمِ اسلامی
رواں سال 65 برس سے کم عمر افراد کو حج کی اجازت ہو گی : سعودی وزیر صحت
الریاض – 23 جون 2020
سعودی عرب نے اس سال کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حجِ بیت اللہ کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک اعلامیے کے مطابق اس مرتبہ ذی الحجہ میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو محدود تعداد میں فریضہ حج ادا کرنے کی اجازت ہوگی اور یہ غیرملکی وہی ہوں گے جو سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ان کے علاوہ محدود تعداد میں سعودی شہری فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔

وزارت نے اس بات پر زوردیا ہے کہ مملکت نے ہمیشہ عازمین حج اور عمرہ کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔اس فیصلے کا مقصد بھی یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وَبا سے کسی عازم حج کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔
اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ کرونا وائرس کی وَبا، ازدحام اور بڑے اجتماعات میں اس کے پھیلنے،ممالک میں اس کی منتقلی اور عالمی سطح پر اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس مرتبہ حج بہت محدود تعداد میں ہوگا اور سعودی عرب میں پہلے سے مقیم مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی حج کا فریضہ ادا کرسکیں گے۔‘‘

اعلامیے کے مطابق’’یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ صحتِ عامہ کے نقطہ نظر سے حج بیت اللہ کی محفوظ انداز میں ادائی کو یقینی بنایا جائے۔اس دوران میں تمام حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جائے،وبا کے خطرات سے بچنے کے لیے سماجی فاصلے کے پروٹوکولز کی پاسداری کی جائے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بنی نوع انسان کی زندگیوں کا تحفظ کیا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب نے کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ کے اوائل میں اپنی سرحدیں بند کردی تھیں، فضائی سروس معطل کردی تھی اور اس سے قبل 27 فروری کو عمرے کی ادائی پر پابندی عاید کردی تھی۔اب وہ بتدریج ان بندشوں کو ختم کررہا ہے اور سرکاری اور نجی دفاتر کھول دیے گئے ہیں۔

سعودی حکومت نے اسی ہفتے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عاید کردہ بہت سی پابندیوں کو ختم کردیا ہے اور مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت مساجد میں فرزندان توحید کو پنج وقتہ نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

عالم اسلام کی ہمہ گیر اور وسیع ترین عوامی تنظیم "رابطہ عالم اسلامی” کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے رواں سال حج کو مملکت کے اندرون مقیم غیر ملکیوں تک محدود کرنے کا فیصلہ بیت اللہ کے حجاج کرام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضرورتِ شرعیہ کا ترجمان ہے۔

العربیہ کو دیے گئے بیان میں العیسی نے باور کرایا کہ حجاج کرام کی سلامتی سعودی عرب کی اہم ترین ترجیح ہے جس کو کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے باور کرایا کہ مملکت کرونا کی وبا کے سائے میں حجاج کرام کی سلامتی کے اعلی ترین تقاضوں پر غور کر رہی ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے اس فیصلے کو عالم اسلام کے بڑے مفتیان اور علماء کرام کی جانب سے وسیع پیمانے پر تائید حاصل ہوئی ہے۔ ان شخصیات نے کرونا کے بحران کے تناظر میں اس فیصلے کو دانش مندانہ اور ضروری قرار دیا۔

سعودی وزارت حج نے گذشتہ روز (پیر کو) اعلان کیا تھا کہ رواں سال صرف مملکت میں مقیم مختلف ملکوں کے شہریوں کو محدود تعداد میں فریضہِ حج ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ ان کے علاوہ محدود تعداد میں سعودی شہری بھی فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔ وزارت نے اس بات پر زوردیا ہے کہ مملکت نے ہمیشہ عازمین حج اور عمرہ کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بھی یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وَبا سے کسی عازم حج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ نے باور کرایا ہے کہ رواں سال حج کو اندرون مملکت افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی سلامتی کے لیے کیا گیا ہے۔

منگل کے روز سعودی وزیر حج و عمرہ محمد صالح کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران الربیعہ نے کہا کہ رواں سال ان افراد کو حج کی اجازت ہو گی جن کی عمر 65 برس سے کم ہے اور وہ کسی دیرینہ مرض کا شکار نہیں ہیں۔

سعودی وزیر صحت نے واضح کیا کہ رواں سال حج سے قبل عازمین کا مکمل طبی معائنہ ہو گا اور حج کے فریضے کی ادائیگی کے بعد تمام حجاج کرام کو اپنے گھروں میں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا کے متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ کسی قسم کی ویکسین بھی موجود نہیں۔

الربیعہ کے مطابق رواں سال حج کے کارکنان اور خدام کا بھی کرونا ٹیسٹ ہو گا اور مناسک کے دوران ان کی نگرانی کی جاتی رہے گی۔

سعودی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ہسپتال تیار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حج سیزن کے لیے خصوصی طبی پروٹوکولز کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح البنتن نے کہا کہ "رواں سال حج کے لیے ہم نے خصوصی ایگزیکٹو پلان تیار کیے ہیں”۔

ڈاکٹر صالح نے رواں سال حج میں بیرون ملک سے حجاج کی شرکت کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا خواہ انہوں نے کرونا کا معائنہ کرا بھی لیا ہو۔ صالح نے باور کرایا کہ اس حوالے سے کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔

ڈاکٹر صالح کے مطابق حجاج کرام کی تعداد نہایت محدود ہو گی اور اندازہ ان کی تعداد دس ہزار سے تجاوز نہیں کرے گی۔
حجاج کرام کے چُناؤ کے معیار کے حوالے سے سعودی وزیر حج و عمرہ نے بتایا کہ "اس سلسلے میں ہم سفارتی مشنوں کے ساتھ رابطہ کاری میں رہیں گے تا کہ ان کے حجاج کرام کا اندارج ہو سکے”۔

ڈاکٹر صالح البنتن کے مطابق رواں سال حج کے دوران سماجی فاصلے اور بڑے ہجوم سے گریز کے اقدامات پر عمل درامد ہو گا۔