سی اے اے قانون کے خلاف آواز اٹھانے والے یوگیندر یادو کا نام بھی چارج شیٹ میں داخل

33

نئی دہلی ۔ 22جون 2020 (ذرائع)
دہلی پولیس نے دہلی فساد کے دوران چاند باغ تشدد اور ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کے قتل کے تعلق سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں سماجی کارکن اور سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو کا نام بھی شامل کیا ہے۔ یہ انکشاف انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسی چارج شیٹ میں شاہین باغ میں لنگر کا انتظام کرنے والے ڈی ایس بندرا اور اسٹوڈنٹ لیڈر کنول پریت کور کا نام بھی شامل ہے۔

حالانکہ ان تینوں افراد کو کیس کے ۱۷؍ ملزمین کی فہرست میں شامل نہیں کیاگیاہے تاہم چارج شیٹ میں پولیس کا کہنا ہے کہ’’ چاند باغ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کے منتظمین کے ساتھ ڈی ایس بندرا، کنول پریت کور، دیوانگنا کلیتا، صفورہ زرگر ، یوگیندر یادو اور دیگر کا تعلق ہی اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ تشدد کے پیچھے کوئی خفیہ ایجنڈہ کارفرما تھا۔‘‘ یوگیندر یادو کا نام چارج شیٹ میں ایک گواہ کے بیان میں بھی ہے۔ اس کے مطابق ’’یہاں مظاہرہ شروع ہونے کے بعد باہر کے لوگوں کو بلایا جاتا تھا۔ ایڈوکیٹ بھانو پرتاپ، بندرا، (یوگیندر) یادو اور جامعہ، جے این یو نیز دہلی یونیورسٹی کے متعدد طلبہ یہاں حکومت اوراین آرسی کے خلاف تقریریں کیا کرتے تھے۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ چارج شیٹ میں ڈی ایس بندرا کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا رکن بتایاگیا ہے۔ چارج شیٹ میں ایک ملزم کے خلاف ثبوت پر گفتگو کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ’’وہ کنول پریت کور(آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن)، دیوانگنا کلیتا(پنجرہ توڑ)، صفورہ زرگر، یوگیندر یادو وغیرہ سے واقف تھا جو مظاہرہ گاہ میں نفرت انگیز تقریریں کرنے اور عوام کوتشدد پر اکسانے کیلئے آیا کرتے تھے۔‘‘

چارج شیٹ میں اپنے نام کے تعلق سے یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ ’’میں نے جو کچھ بھی کہا سب عوامی سطح پر ہے۔ کوئی ایک مثال دے دیجئے جس میں میں نے براہ ر است یا بالواسطہ طور پر تشدد کی وکالت کی ہو۔‘‘کول جیت کور نے انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ چارج شیٹ کا جائزہ لینے کے بعد کوئی تبصرہ کریں گی۔

اس سلسلے میں نمائندہ انقلاب نے جب یوگیندر یادو سے رابطہ کیاتو ان کا کہناتھا کہ ’’ میرا ابھی صرف چارج شیٹ میں نام ڈالا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد قہقہہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’اس کا مطلب یہ نظر آرہا ہے کہ پہلے جال بچھایا جاتا ہے پھر دانہ ڈالا جاتا ہے اس کے بعد چڑیا آتی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ان کے پاس حکومت ہے طاقت ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ’’ دہلی فساد کے دوران میں نے کیا کیا سب عام ہیں ریکارڈ پر ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔فساد جہاں سے شروع ہوا وہاں میں نے جاکر لوگوں کو سمجھایا اور ان سے کہا کہ آپ لوگ ہٹ جائیے آپ لوگ بیوقوفی کررہے ہیں۔ ‘‘