جموں و کشمیر میں درجنوں مذہبی، سماجی اور تعلیمی تنظیموں پر مشتمل اتحاد ‘متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر’ نے کہا ہے کہ انتظامیہ کے ذریعے وادی کشمیر کے طول و عرض میں شراب کی دکانیں کھولنے کے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وادی کی تمام مذہبی تنظیمیں، علمائے کرام اور مسلمان ان کی سخت مخالفت اور مزاحمت کریں گے۔
بتادیں کہ جموں وکشمیر میں محکمہ ایکسائز کے ایک مبینہ سرکاری دستاویز کے مطابق وادی کشمیر میں ایسی 67 جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں شراب کی دکانیں کھولی جائیں گی۔
تاہم جموں وکشمیر حکومت نے اتوار کے روز کہا کہ محکمہ مال نے شراب کی تازہ لائسنس جاری کرنے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے اور کوئی بھی فیصلہ متعلقین کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں لیا جائے گا۔
متحدہ مجلس علما، جس کی قیادت نظربند حریت رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق کررہے ہیں، میں شامل تمام اہم اکائیوں دارالعلوم رحیمیہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ، انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی، کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام، انجمن تبلیغ الاسلام، جمعیت ہمدانیہ، انجمن علمائے احناف، دارالعلوم قاسمیہ، دارالعلوم بلالیہ، انجمن نصرة الاسلام، انجمن مظہر الحق، انجمن ائمہ و مشائخ کشمیر، مسلم وقف بورڈ، دارالعلوم نقشبندیہ، دارالعلوم رشیدیہ، اہلبیت فاﺅنڈیشن، مدرسہ کنز العلوم، پیروان ولایت، انجمن اوقاف جامع مسجد، اوقاف اسلامیہ کھرم سرہامہ، انجمن تنظیم المکاتب، محمدی ٹرسٹ اور دیگر جملہ معاصر دینی، ملی، سماجی اور تعلیمی انجمنوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انتظامیہ کے ذریعے وادی کے طول و عرض میں شراب کی دکانیں کھولنے کے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وادی کی تمام مذہبی تنظیمیں، علمائے کرام اور مسلمان ان کی سخت مخالفت اور مزاحمت کریں گے۔
مجلس علماء نے کہا کہ 16 جون کا حکومتی آرڈیننس سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کررہا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حکومت وادی کشمیر میں 67 مقامات پر شراب کی دکانیں کھولنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو وادی بھر کے مسلمانوں کے لئے شدید اضطراب اور پریشانی کا باعث ہے۔مجلس علما نے کہا کہ یہ عجیب و غریب اور افسوسناک بات ہے کہ اس حکومت نے عالمی وبائی مرض کووڈ 19 کے بیچ جب تمام توانائیاں اس کے خلاف لڑائی پر مرکوز ہیں، اس کے برعکس یہاں کی حکومت مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے لئے آرڈیننسز اور قواعد لانے میں مصروف ہے، اور اب اس طرح کے احکامات کے ذریعے یہ یہاں مزید مسائل اور الجھنیں پیدا کرنا چاہتی ہے۔مجلس علما نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات ہماری مسلم شناخت، انفرادیت اور اقدار پر حملہ اور ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔مجلس علما نے اپنے بیان میں حکومت سے فوری طور پر بقول ان کے اس غیر اخلاقی اور اسلام مخالف حکم کو واپس لینے کو کہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 2 سو 24 شراب کی دکانیں ہیں جن میں سے جموں میں 220 جبکہ کشمیر میں صرف 4 دکانیں ہیں جن سے حکومت کو ماہانہ ایک سو کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے۔