آل انڈیا ملی کونسل کے ریاستی عہدیداران کی خصوصی نشست ، کئی مسائل پر تبادلہ خیال

23

آل انڈیا ملی کونسل صوبہ بہار کے ریاستی عہدیداران کی ایک اہم نشست مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل کی سرپرستی اورریاستی صدر مولانا عتیق الرحمن قاسمی کی صدارت میں ہوئی جس میں کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ملت کو درپیش مسائل، اتحاد ملت اور اردو زبان کے فروغ اور سرکاری اداروں میں اردو کی خالی نشستوں پر بحالی پر غور وخوض کیا کیا۔اس میٹنگ میں درج ذیل ذمہ داروں نے شرکت کی اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل،ڈاکٹر مولانا عتیق الرحمن صاحب ریاستی صدر، مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی صاحب نائب صدر، مولانا محمد عالم قاسمی صاحب ریاستی جنرل سکریٹری، جناب طفیل احمد فاروقی صاحب ریاستی سکریٹری، مولانا محمد نافع عارفی صاحب کارگراز جنرل سکریٹری اورمرزا ذکی احمد بیگ آرگنائزر۔شرکاء نے کہا کہ اردو زبان بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اس لیے اس کے فروغ میں بہار سرکارحائل رکاوٹوں کو دور کرے اورہر سطح، پرائمری اسکول، ہائی اسکول، کالج میں اردو کے تمام خالی عہدوں کو پر کرے،تمام سرکاری اشتہارات اردو میں بھی شائع کیے جائیں، سرکاری دفاتر،اسکول کالج وغیرہ اور جہاں بھی سرکاری سائن بورڈ ہیں، وہاں اردو رسم الخط میں بھی لکھا جائے، تمام سرکاری ویب سائٹ اردو میں بھی ہوں تاکہ سرکاری اعلانات اورمنصوبوں سے اردو داں طبقہ بھی پورا فائدہ حاصل کرسکے۔نیز مدرسہ شمس الہدیٰ میں اساتذہ کی کمی کو دور کیا جائے اورادارہ تحقیقات عربی فارسی پٹنہ کی اسامیاں پر کی جائیں، اردو اکادمی،اردو مشاورتی بورڈکی کے خالی عہدوں کو پر کرے اور دیگر سرکاری اداروں میں اردو کی خالی جگہیں پر کی جائیں اور چیئرمین اور دیگر عہدیداران بحال کیے جائیں۔ ملی کونسل کے ذمہ داران نے ملی اتحاد و اتفاق پر بھی زور دیا اور کہا کہ علما ء کی آپسی نااتفاقی انتہائی مضر ہے اس لیے اتحاد و اتفاق کو یقینی بنائیں اور مسلکی تشدد سے پرہیز کریں۔ شرکاء نے ملک میں بڑھتی ہوئی عصبیت اور فرقہ پرستی پر تشویس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سزادی جائے خاص طور پر مذہبی ماب لنچنگ کے واردات میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا کہ تمام اضلاع کی ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل کا کام جلد مکمل کرلیا جائے اور ماہ اگست میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعدریاستی سطح کی ایک بڑی میٹنگ رکھی جائے ۔