میں اس کوجائزنہیں سمجھتا۰۰۰۰

29

محض ایک انسان کی دلجوئی میں خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ علیہ نےاپنے مرید خاص کو دہلی چھوڑکر اجمیر جانے کا حکم فرمادیاتھا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ خواجہ معین الدین اجمیری رح  اپنے مرید قطب الدین بختیار کاکی رح کی ملاقات میں اجمیر سے دہلی تشریف لائے ہوئے ہیں۔سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، پوری دہلی آپ کے مرید کی مریدی میں آگئی ہے،ایک  ہی شخص ایساہےجوآپ کےمریدکی طرف سواد اعظم کےجھکاوسےکبیدہ خاطراوررنجورہے،ان کا نام شیخ نجم الدین ہے، کسی کی دل شکنی خواجہ اجمیری کوکسی حال میں منظورنہیں ہے ،محض اسی بات بات پراپنےمریدقطب الدین بختیار کاکی کویہ حکم دیتے ہیں:”بابا بختیار اتنی جلدی ایسے مشہور ہوگئے کہ بندگان خدا کو تم سے شکایت پیدا ہونے لگی ہے، یہاں سے چلو اور اجمیر آؤ وہاں قیام اختیار کرو میں تمہارے سامنے خادمانہ کھڑا رہوں گا”، (تاریخ دعوت وعزیمت ج۳)
اپنے پیر کے حکم کی تعمیل میں  مرید خواجہ قطب الدین سر تسلیم خم کئے ہوئےاجمیرکےلئے ساتھ روانہ ہوگئے ہیں،حضرت علی میاں نے اس منظر کو ان الفاظ میں قلم بند کیا ہے :خواجہ قطب الدین اپنے شیخ کے ساتھ اجمیر روانہ ہوئے، اس اطلاع سے شہر دہلی میں ایک شور برپا ہوگیا، اہل شہر مع سلطان شمس الدین شہر سے نکل کر آپ کے پیچھے ہولئے، جہاں خواجہ قطب الدین کا پاوں پڑتا تھا لوگ خاک پا کو تبرک بناکر اٹھا لیتے تھے، لوگ بڑے بیقرار اور آہ و زاری میں مصروف تھے (حوالہ سابق)
یہ منظر خواجہ معین الدین چشتی کے لئے اور بھی تکلیف دہ ہوگیاہے ،ارےیہ کیاسے کیا ہوگیاہے؟  فیصلہ آپ کے لئے مشکل پہلے بھی نہیں تھا اورنہ اب ہے ، مسئلہ ایک طرف ایک دل کی دلجوئی کااوردوسری طرف پوری دلی کی دل شکنی کا کھڑا ہوگیاہے،جوپیچیدہ قطعی نہیں ہے،بلکہ یہاں پریہ کہناصحیح ہوگاکہ :اب تودودھ کادودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے ۔آپ نے اپنے مرید سے دہلی میں ہی علی حالہ سکونت پذیر رہنے کا دوبارہ حکم ان الفاظ وانداز میں اب دوبارہ دیدیاہے :*”بابابختیار! تم یہیں رہو، اس لئے کہ خدا کی اتنی مخلوق تمہارے باہر جانے سے تباہ حال ہے، میں اس کو جائز نہیں سمجھتا کہ اتنے دل دکھائے اور جلائے جائیں، جاؤ ہم نے اس شہر کو تمہاری پناہ میں چھوڑا”*( حوالہ سابق )
پوری دلی میں دھوم مچی ہے،خواجہ کے چرچے ہیں اور پیر و مرید نے پوری دلی فتح کرلی ہے اور حقیقی فاتح کہلائے ہیں،
ع جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
صوفیوں کا مسلک یہی رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر قوالی ہو یا سماع، بس اسی کا بندھ جاتا ہے سماں؛ ع بھلائی کر بھلا ہوگا برائی کر برا ہوگا ۰۰
اپنےملک میں حالیہ کچھ دنوں سے جمہوریت کے چوتھے ستون سے بار بار غلطیاں ہورہی ہیں،جوغیر جمہوری ہی نہیں بلکہ ملک کے مفاد میں سم قاتل ہے۔ایک ضروری بات یہ غلطی دانستہ کی جارہی ہے، مقصد شہرت کی بلندی پر جانا اور ایک خاص کی دلجوئی ہے، جبکہ دونوں مقاصد بھی ان کے فوت ہوگئے ہیں، ہر کوئی یہی نصیحت دے رہا ہے بقول عاجز؛
فضائے چرخ پہ اڑنا کوئی بڑائی نہیں
کسی کے دل میں اترنا کمال ہے پیارے
آج اسی دلی میں بیٹھ کر ایک آدمی جو خود کو اینکر کہتا ہے وہ اس صوفی صافی انسان کے لئے گالیاں بکتا ہے ،اس عمل کے ذریعےپوری دلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی دل شکنی کا اس نےیہ کام کیا ہے ۔خواجہ صاحب نےاپنےعمل سےکسی کےدل توڑنے کاکام نہیں کیاہےبلکہ دل جوڑنے کاکام رہاہے،اسی پرعمرتمام ہوئی ہے۔اس کی شہادت سبھی دیتے ہیں ۔اس ملک میں صوفی منش اورسادھوسنتوں کی بڑی عزت رہی ہے۔آخرکس نےاس ٹی وی اینکر کوخواجہ صاحب کےہتک عزت اجازت دی ہے؟اس شخص کس بنیادپر دریدہ دہنی کاحق پیونچتاہے؟یہ ڈھیرسارےسوالات کھڑےہوگئےہیں ،ملک اس کاجواب ڈھونڈتاہے۔اسی لئے مختلف جگہوں سےاس عنوان پرمقدمات بھی درج کئےگئےہیں۔اسوقت وطن عزیز کوداخلی وخارجی مسائل کا سامنا ہے ۔کوروناوائرس کولیکر معیشت کمزور ہوگئی ہے ۔ادھر چین ہمارے لئے جانی ومالی نقصان کی وجہ بن رہا ہے، تقریبا بیس نوجوانوں کی شہادت کا ہمیں سوگ برداشت کرنا پڑا ہے، ایسے میں کریلا نیم چڑھا کے روپ میں اینکر کےاس تبصرہ کودیکھاگیاہے اور جارہا ہے ۔وزیر اعظم صاحب کو ایسے صحافی اور اینکر کو فورا تنبیہ کرنی چاہئے اور سخت سزا دینی چاہیے جو ایک ایسے انسان کے نام پر جو کسی کا دل نہ دکھایا ہو، پورے ملک کے قلب و جگر پر حملہ کردیا ہے۔یہ قطعی ناقابل برداشت ہے۔