سورج گہن: کی حقیقت، اور اس کے احکام

33

سورج گہن: کی حقیقت، اور اس کے احکام

عربی زبان میں کسوف سورج  گہن کو کہتے ہیں اور خسوف چاند  گہن کو کہتے ہیں، گو عربی زبان میں کسوف کی جگہ خسوف اور خسوف کی جگہ کسوف کا استعمال بھی عام ہے، لیکن صحیح تعبیر وہی ہے جو اوپر مذکور ہے۔ (قاموس الفقہ)
اس فن کے ماہرین نے لکھا ہے کہ فلکیاتی رو سے سورج گرہن ظاہری طور پر اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آجائے، جس کی وجہ سے سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے، جبکہ دین اسلام کی رو سے سورج گرہن کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی اہم نشانیوں میں سے ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وجلال کا اظہار فرماتے ہیں، اپنے بندوں کے دلوں میں خوف خشیت پیدا فرماتے ہیں اور اپنے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ ایک مؤمن کا یہی عقیدہ ہے کہ سورج اور چاند سمیت کائنات کا یہ سارا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکم کے تحت جاری وساری ہے، اس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ کے تحت ہوتی ہیں، یہی حال سورج گرہن کا بھی ہے۔ اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ نماز ادا کرکے، توبہ واستغفار اور ذکر کرکے اور صدقہ دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، اس کی عظمت وجلال کا اعتراف کرے، دلوں میں اس کی خشیت پیدا کرے اور عذابِ الہٰی سے پناہ مانگے۔
متعدد احادیث مبارکہ میں سورج گہن کی حقیقت اور اس وقت کیے جانے والے اعمال کا ذکر موجود ہے۔ جن میں سے چند یہ ہیں،
1 حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورج گہن اور چاند گہن لوگوں میں سے کسی کی موت ہوجانے پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اس لیے جب تم سورج اور چاند گہن ہوتا ہوا دیکھو تو اُٹھ کر نماز ادا کرو۔ (صحیح بخاری ابواب الکسوف)
2 حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم کے فوت ہونے کے دن سورج گہن ہوگیا، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ سورج گہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے، تو حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ سورج گہن اور چاند گرہن کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا، اس لیے جب تم گہن ہوتا ہوا دیکھو تو تم نماز ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔
(صحیح بخاری ابواب الکسوف)

3 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سورج اور چاند گہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، تکبیرات پڑھو، نماز ادا کرو اور صدقہ کرو۔
(صحیح بخاری ابواب الکسوف)

4 حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ کی ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم سورج یا چاند گہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر،دعا اور استغفار کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ (صحیح بخاری ابواب الکسوف)
5 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا، تکبیر اور تسبیح کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ سورج یا چاند گرہن ختم ہوجائے۔
(صحیح ابن خزیمہ حدیث 137☀️سورج گرہن کے وقت احادیث سے ثابت ہونے والے اعمال:
سورج گرہن کے وقت احادیث مبارکہ سے متعدد اعمال ثابت ہیں جیسے:
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا اہتمام کرنا۔
سورج گرہن کی نماز ادا کرنا جس کو نمازِ کُسُوف کہتے ہیں۔
دعاؤں کا اہتمام کرنا، توبہ واستغفار کرنا اور عذابِ خداوندی سے پناہ مانگنا۔
ذکر وتسبیحات اور تلاوت کا اہتمام کرنا۔
حسبِ وسعت صدقہ دینا۔

نبی کریم ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی اہم، غیر معمولی اور خلاف عادت واقعہ پیش آتا تو اس کو تذکیر اور اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے استعمال فرماتے، چنانچہ مدینہ منورہ میں پہلی دفعہ سورج گہن کا واقعہ پیش آیا تو اتفاق سے وہ وہی دن تھا جس دن کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں میں ماقبل اسلام عقیدہ کے مطابق چرچا ہونے لگا کہ صاحبزادئہ نبی ﷺ کی وفات کی وجہ سے گہن کا واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالانکہ افسردہ، اور ملول خاطر تھے لیکن اس موقع پر ضروری سمجھا کہ لوگوں کی غلط فہمی اور وہم کا ازالہ کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مسجد میں اکھٹا ہونے کا حکم دیا اور دو رکعت نماز کسوف ادا فرمائی، اور اس طرح ایک طبعی واقعہ کے ذریعہ آپ نے لوگوں کو اللہ اور آخرت کی طرف متوجہ فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ فعال لما یرید ہے وہ اتنا قوی و قادر ہے کہ سورج کی روشنی بھی ہم سے چھین لے۔ سورج گہن سے اس جانب بھی اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس دنیا کی بساط کو لپیٹ دینا اور قیامت برپا کردینا ذرا بھی دشوار نہیں۔ ( قاموس الفقہ،۴/ ۵۵۵)
کسوف کی نماز مسنون ہے اس پر تقریباً سارے ائمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے، احناف میں سے بعض نے اسے واجب بھی کہا ہے لیکن مفتی بہ قول سنت موکدہ کا ہے۔ کسوف کی نماز احناف کے نزدیک عام نمازوں کی طرح دورکعت پڑھی جائے گی اور ہر رکعت میں ایک ہی رکوع ہوگا، اور ایک ہی قرات ہوگی، جب کہ مالکیہ، شوافع اور حنابلہ کے نزدیک نماز کسوف کی ہر رکعت میں دو رکوع کیا جائے گا، ظاہر ہے کہ جب دو رکوع ہے تو قیام بھی دو ہوگا اور قرآن کی قرات بھی دوبار ہوگی ۔ دونوں فریق کے دلائل فقہ و حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔
نماز کسوف میں طویل قرات مسنون ہے، پہلی رکعت میں سورہ بقرہ یا اس کے بقدر اور دوسری رکعت میں سورہ آل عمران یا اس کے بقدر قرات کی جائے۔ اور اگر قرات مختصر ہو تو گہن کے ختم ہونے تک دعا و تلاوت میں مشغول رہا جائے۔ امام ابو حنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک قرات آہستہ کی جائے گی، اس کی روایت موجود ہے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے نماز کسوف پڑھائی،ہم آپ کی آواز نہیں سن پا رہے تھے، (ترمذی) ۔ امام ابو یوسف اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک جہری قرات کی جائے گی یہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے۔ (نسائی)
اس حوالے سے جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ہے کہ:
نمازِ کسوف میں امام قرأت آہستہ آواز سے کرے گا یا جہری قرأت کرے گا؛ اس میں ائمہ کرام کے درمیان اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس میں قرأت سرّی ہے جبکہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے ایک قول کے مطابق اس میں قرأت جہر ی ہے، اور کتب احادیث میں دونوں قول کے مطابق روایات ملتی ہیں، اس لیے دونوں طرح قرأت کرنا جائز ہے اور ہر طرح قرأت کرنے سے نماز درست ہو جائے گی، البتہ ابن عربی رحمہ اللہ نے جہرًا قرأت کو اولیٰ قرار دیا ہے اور صاحبِ "اعلاء السنن” علامہ ظفراحمد عثمانی کار جحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔ (فتویٰ نمبر: ۲۰۰/ ۳۸)
نماز کسوف کے لیے آپ نے خطبہ بھی دیا تھا،اس لئے شوافع کا یہاں عیدین کی طرح دو خطبے بھی ہیں، لیکن احناف اور دیگر فقہاء اس کو اتفاقی خطبہ مانتے ہیں اور اس کا مقصد محض اس غلط فہمی کا ازالہ تھا جو لوگوں میں پیدا ہوگی تھی کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج گہن ہوا تھا۔ البتہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نماز کسوف میں اذان و اقامت نہیں ہے۔
نوٹ اس مضمون کو متعدد کتب احادیث اور فقہ کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ بعض جزوی تفصیلات کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔