ودھان سبھا الیکشن بیدار ہوجائیں اہل سیمانچل

31

ودھان سبھا الیکشن
بیدار ہوجائیں اہل سیمانچل

الیکشن کا بگل بج چکا ہے. پانچ دس برسوں سے جو لوگ آپ کے ووٹوں کی بدولت ایر کنڈیشن کمروں میں آرام کررہے تھے وہ اب باہر نکلیں گے. آپ کے آگے ہاتھ جوڑیں گے اور ووٹ کی بھیک مانگیں گے. میری گزارش ہے کہ آپ لوگ ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر کچھ سوال ضرور کیجئے گا.
نیتا جی، ایم ایل اے، ایم پی صاحب!! آپ ہم غریبوں کے لیے کیا کریں گے، اس جھوٹ کو بولنے سے پہلے سچ سچ یہ بتائیے کہ اب تک آپ لوگوں نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟؟
کتنی سڑکیں بنائی؟ کتنے پل کی تعمیر ہوئی؟ کتنے اسکول بنوائے؟ ہاسپٹل کہاں ہیں؟ کیا جوگبنی سے دہلی کے لئے اور دوسری ٹرین نہیں چلائی جاسکتی؟ اگر ہاں، تو آپ نے اس کے لئے کیا کوششیں کی ہیں ؟
کیا سیمانچل میں مزدوروں کو کام کے مواقع فراہم نہیں کئے جاسکتے؟ کوئی کارخانہ یا فیکٹری نہیں لگائی جاسکتی؟ اگر ہاں، تو پھر آپ نے اس کے لئے کیا قدم اٹھائے ہیں ؟ دیگر ریاستوں میں کام کرنے والے اپنے مزدوروں کے لیے آپ نے کچھ کیا؟
لوک ڈاؤن میں آپ نے ان کی کتنی مدد کی ؟
اور ہاں ____محض پوسٹر نہیں، کام کا ریکارڈ چاہیے. اور بھی بہت سارے سوالات ہیں جو آپ کرسکتے ہیں اور چاہئیے کہ اپنا قیمتی ووٹ دینے سے پہلے آپ ہر لیڈر سے یہ سب سوال ضرور کریں.

سیمانچل والو!!
70 سال ہوگئے آپ زبان بند کئے اور آنکھیں جھکائے صرف ووٹ دیتے چلے آرہے ہیں، بدلے میں آپ کو کچھ بھی نہیں ملا. آخر ایسا کب تک چلے گا؟ پوری دنیا ترقی کررہی اور سیمانچل جہاں تھا آج بھی وہیں ہے. قصور صرف ان سیاستدانوں کا نہیں ہے ہمارا بھی ہے کہ ہم اندھے اور بہرے ہوکر صرف ووٹ ڈالتے ہیں اور ان لیڈروں سے کبھی سوال نہیں کرتے.
بہت دیر ہوچکی ہے لیکن کم از کم اب تو بیدار ہوجائیے. اور ان سے سوال کیجئے. اپنے حقوق کا مطالبہ کیجئے. ان کے جواب سے اگر آپ مطمئن ہوتے ہیں اور ان کے کام آپ کو سر کی آنکھوں سے دکھتے ہیں تو ووٹ کیجئے ورنہ انہیں گھر میں بیٹھنے کا مشورہ دیجئے.

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے سیمانچل میں سیاست چند گھرانوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے. تعلیمی بیداری کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام وخواص کے اندر سیاسی شعور کا بیدار کیا جانا بھی ازحد ضروری ہے، اور یہ بوجھ علاقے کے علماء، اساتذہ، طلباء، خطباء اور صحافیوں کو اٹھانا ہوگا. ورنہ چند گھرانے ترقی کے منازل طے کرتے رہیں گے، اور غریب عوام سیلاب میں بہتی رہے گی،بچے چوڑی اور بِندی کے کارخانوں میں جوان ہوں گے اور ہمارے نوجوان ٹرینوں میں دھکے کھاتے رہیں گے.

تعلیم یافتہ نوجوانوں سے میری عاجزانہ درخواست ہے. عوام میں سیاسی بیداری لانے کے لئے ایک مہم کا آغاز ضرور کریں.

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر