خواجہ اجمیریؒ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو فوری گرفتار کیا جائے

27

محمد عارف نسیم خان نےممبئی میں وزیرِ داخلہ انل دیشمکھ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی شان میں گستاخی کرنے والے نیوز۔18کے اینکر امیش دیوگن کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے
ممبئی ۔ 19 جون 2020
سنئر کانگریسی قائد اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نےممبئی میں وزیرِ داخلہ انل دیشمکھ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی شان میں گستاخی کرنے والے نیوز۔18کے اینکر امیش دیوگن کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ چونکہ اس ضمن میں ممبئی سمیت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے ، مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمانوں نے پولس اسٹیشنوں میں ایف آئی آر درج کرائی ہیں، لیکن اس کے باوجود ابھی تک اس دریدہ دہن خاطی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔جس سے مسلمانوں میں اضطراب اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ممبئی میں سرکاری سیہادری گیسٹ ہاوس میں وزیر داخلہ سے ملاقات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیوز۔18کے اینکر امیش دیوگن نے اپنے پروگرام ’’ آر پار ‘‘میں حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ جیسی خدا رسیدہ اور بزرگ شخصیت کے خلاف دریدہ دہنی کرتے ہوئے جس طرح کے نازیبا کلمات ادا کیے ہیں اس سے ہر انسان کو تکلیف پہنچی ہے، اور دنیا بھر میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر مذہب و سماج سے تعلق رکھنے والوں لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔

اس موقع پر عارف نسیم خان نے اس ہتک آمیز اور مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے والے نازیبا تبصرہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امیش دیوگن کے خلاف متعدد مقامات پر آیف آئی آر تو درج کی جا چکی ہیں لیکن اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ اسے فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس نیوز اینکر اور چینل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے متعصب اور نفرت پھیلانے والے نیوز اینکر کا لائسنس فوری طور رد کیا جائے ۔

واضح رہے کہ کہ امیش دیوگن کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہ ہونے کے سبب ملک بھر میں شدید غم و غصہ کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ اور ملک بھر میں اس خاطی کو گرفتار کے نےکا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں ملک کے مختلف مقامات اور مہاراشٹرا میں ممبئی سیمت دیگر اضلاع میں لوگوں آیف آئی آر درج کرائی ہیں۔

ابھی تک اس ضمن میں رضا اکیڈمی کی جانب سے ممبئی کے پائدھونی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی اور رضااکیڈمی کے دفتر میں ایک میٹنگ بلائی گئی جس میٹنگ میں علماءاور ملی تنظیموں کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ یہ ملعون پیشگی ضمامت لینے میں کامیاب نہ ہوسکے اور پولیس اسے گرفتار کرلے۔ میٹنگ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس کی گرفتاری تک ہ خاموش بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی طرح سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر ابو اعظمی اور بھونڈی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بھی شکایتں درج کر ا کر کہا ہے کہ پولیس اپنی ذمہ داری نبھائے اور امیش دیوگن کو فوراً حراست میں لے۔ ممبئ کے باندرہ علاقے کے کانگریس کے رکن اسمبلی ذیشان صدیقی نے بھی نرمل نگر پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

دریں اثناء ممبئی کے نگراں وزیراسلم شیخ نے، مسلمانوں بالخصوص ملّی و سماجی اداروں میں پھیلی بے چینی کے مدنظر ممبئی پولیس کمشنر کو’زیرو ایف آئی آر‘ کے تحت ایف آئی آر درج کرکے سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مہاراشٹرا کے دیگر اضلاع میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج اور شکایتیں درج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مراٹھواڑہ کے اضلاع اورنگ آباد، ناندیڑ وغیرہ میں بھی شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے کہ اس خاطی کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ اورنگ میں معروف قانون داں ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے سٹی چوک پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ اسی طرح ناندیڑ مجلس اتحادالمسلمین کے ضلع صدر صابر چاوش نے اتوارہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کر کے گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق ریاستی وزیر ڈاکٹر انیس احمد نے ناگپورمیں پولس کمشنر سے ملاقات کی اور اس قابل مذمت حرکت پر سخت ناراضگی جتاتے ہوئے اسے فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے صدر پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرا کر امیش دیوگن کی اس حرکت اور بد زبانی سے پورے ملک کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے بذات خود امیش دیوگن کے الفاظ سنے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے ان الفاظ کا استعمال کیا۔ جس سے سماج میں انتشار پھیلا ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

کانگریس کے سنئر قائد حسین دلوائی نے بھی نیوز۔18کے اینکر امیش دیوگن کی اس بد زبانی پر ناراضگی اور غم و غصہ کا اظہار کرتے انھوں نےاس کی فور ی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سماج میں انتشار اور فرقاوانہ منافرت پھیلانے والے افراد کو معاف نہیں کیا جانا چایئے بلکہ انھیں قانون کے مطابق سزا دی جا نی چاہیے۔ تاکہ پھر کوئی اور اس طرح کی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔