سرحدی جھڑپ پر ہم ہیں غمگین

42

بھارت اور چین کی سرحد پر مشرقی لداخ میں 5/5/2020 سے حالات خراب چل رہے تھے،مگر گزشتہ 15/6/2020 کو ان حالات نے فوجی جھڑپ کی شکل اختیار کر لی اور 20/فوجی شہید ہوگئے۔ اور کچھ زخمی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک کی عوام بہت زیادہ بے چینی میں ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ 45 سال کے بعد اب یہ جھڑپ ہوئی ہے ،ورنہ باڈر پرآخری مرتبہ گولیوں کا تبادلہ 1975 میں ہوا تھا۔
یاد رکھیے! پوری عوام باڈر پر جاکر لڑ نہیں سکتی، اور اگر ایسی ضرورت پڑی، ہم ان شاء اللہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے سروں پر کفن باندھ کر مقابلہ کریں گے ، لیکن چین کا مقابلہ اپنے یہاں رہتے ہوئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ آپ یہاں پر رہتے ہوئے کیسے مقابلہ کریں؟ اس کا جواب روش کمار نے 43 منٹ کا پروگرام بنا کر دکھایا اور بتلایا ہے کہ ہم چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔
دوسری بات یہ ہے کہ بحیثیت ملت اسلامیہ، ہم مسلمان بھی اپنے رنج اور غم کا اظہار کریں، ہم مسلمان اس ملک کے اصلی باشندے ہیں، ہم اس ملک کے اندر رہتے ہیں اور یہاں پر ہمارے آباؤ اجداد کے انمٹ نقوش ہیں،تقسیم کے وقت ہم یہاں پر اپنی خواہش سے رکے اور ہم نے قیام پاکستان کی اور دو قومی نظریے کے مفکرین کی مخالفت کی، اس لیے ہم اس برے وقت میں اپنے ملک کی حکومت کے ساتھ ہیں، ہم کو اور ہماری مسلم قیادت کو چاہیے کہ چین کے خلاف غم وغصے کا اظہار کریں، حکومت وقت کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اخبارات کا اور سوشل میڈیا کابھرپور استعمال کریں۔
اس لیے نہیں کہ فرقہ پرست لوگ، کہیں یوں نہ کہنے لگیں کہ مسلمان زبردستی اپنی "حب الوطنی” دکھا رہے ہیں، نہیں! اور ہرگز نہیں۔ کسی سے ڈر کر نہیں ، بلکہ اس لیے کہ یہ ملک ہمارا ہے،ہم ہمیشہ سے یہاں پر رہتے آئے ہیں، تقریباً آٹھ سو سال ہم نے بحیثیت مسلمان کے یہاں پر حکومت کی ہے، ہمارے یہاں پر انمٹ نقوش موجود ہیں۔
ہمارے ملک پر حملہ ہوا، ہم کو اسکااحساس ہے، ہمارے فوجی جوان مارے گئے ہم کو غم ہے، ہمارے نوجوانوں کے جنازے اور آرتھی اٹھی، ہمیں احساس و دکھ اور غم ہے ۔
مسلم قائدین، سماجی کارکن و علماءکرام کو چاہیے کہ اپنے اپنے حلقے میں، دائرہ اثر میں رنج وغم کااظہار کریں۔یہ تشویش اپنی جگہ درست اور صحیح ہے جس کا ذکر سمیع اللہ خان نے اپنے مضمون میں کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔۔۔
"وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی بی جے پی گورنمنٹ نازک حالات میں بھی ملک کی متحده قیادت نہیں کرپارہے ہیں، آج ہندو-چین کے سنگین تنازعہ پر حکومت ہند کی طرف سے آل پارٹی میٹنگ / کل جماعتی مشاورت کا اعلان ہوا، لیکن کل جماعتی میٹنگ کی بھی پول کھل گئی ہے، اعلان کل جماعتی میٹنگ کا ہوا لیکن، اس میٹنگ سے لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی، اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی سمیت اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو باہر رکھا گیا ہے،
آل پارٹی میٹنگ کا یہ پہلو خاصا تشویشناک ہے”