دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟مقتدی وامام کے درمیان گفتگو

33

مقتدی حضرت میں نے بارہا (کتاب اللہ واحادیث کے حوالہ سے)سناہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتاہے ،ان کی دعا ؤں کو قبول کرتاہے اور تمناؤں کو پوری کرتاہے ۔
امام صاحب آپ نے بالکل درست سناہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے ایک ایک بندہ سے اتنی محبت کرتاہے کہ ستر ماؤں کی محبت اس کے
بالمقابل ہیچ ہے ۔ اور یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا تمام بندوں کے ساتھ ہے ۔ نیز اللہ تعالیٰ بندوں کی دعاؤں وتمناؤں کو بھی
موافقِ مصلحت قبول و پوری کرتاہے ۔ حدیث شریف میں ہے ــ”اِنّ ربّکم حیّ کریم یستحییٔ من عبدہ اذا
رفع یدیہ اَن یّردّھما صِفراً ” کہ تمھاراپروردگار بڑا حیادار وسخی ہے اسے ( اس بات سے )اپنے بندہ سے شرم آتی
ہے کہ اس کے سامنے دستِ سوال(دستِ دعاء)بلند کرے اور وہ انہیں خالی لوٹادے۔
اور قرآن مجید میں ہے ” اُدعونی استجب لکم ” مجھ سے دعا ئیں مانگو میں قبول کروں گا ۔اور یہ یاد رکھیں کہ قرآن
مجید میں یہ بھی ہے کہ ” أم للاِ نسان ما تمنّیٰ ” یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ انسان کی (بندے کی سب دعائیں)
تمنّائیں پوری ہی ہوں ۔
مقتدی مگر سب کیا میری تو ایک بھی دعاء قبول نہیں ہوتی ۔
امام صاحب ؎ جومانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو
درِکریم سے بندے کو کیا نہیں مِلتا
مقتدی حضرت ایسا ہے کہ میں نے جو طریقہ علمائے کرام سے معلوم کیا ہے اسی طریقہ سے دعاء مانگتاہوں ۔
امام صاحب ذرا مجھے بھی بتائیے تو کہ وہ طریقہ کیا ہے ؟
مقتدی بعد از دریافتِ بسیار مجھے بتایاگیا کہ دعاء عبادت کا مغز ہے اس لئے عبادت (نماز)کے بعد دعاء مانگے(اجرت کر
کے مزدوری طلب کرے)تو زیادہ قابلِ قبول ہوتی ہے ۔اس لئے میں اکثر نمازوں کے بعد دعائیں (گریہ وزاری
کے ساتھ ) کرتاہوں مگر لاحاصل ۔
امام صاحب آپ کی نماز تو ایسی نہیں ہے جیسی خدا تعالیٰ کو مطلوب ہے ، اور دعائیں خدا تعالیٰ ہی قبول کرتے ہیں ۔
مقتدی کیا کبھی آپ نے میری نماز کا جائزہ لیا ہے ؟
امام صاحب ہاں جناب ! میں نے آپ کی انفرادی نماز کا بہت غور سے جائزہ لیا ہے ۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ آپ (ظہر
کے بعد)سنّت نماز ادا کررہے تھے ۔میں آپ کی داہنے جانب بیٹھا تھا اور آپ کی بائیں جانب شیطان آپ کو بہکا
نے میں مصروف تھا ۔
میں نے دیکھا کہ آپ دورانِ قیام اپنے سامنے والے نمازی کی ٹی شرٹ پر لکھی ہوئی عبارت کی تلاوت اور اس کے
مفہوم کو سمجھنے میں منہمک تھے۔اور جب وہ رکوع میں گیا تب آپ کی نظر بلا تکلّف اس کی کھلی ہوئی کمر پر تھی(اس لئے
کہ شرٹ اوپر چڑھ گئی اور پینٹ نیچے کھسک گئی تھی)اور آپ نظریں جمائے ہوئے تھے ۔ اس دوران آپ کا داہنا ہاتھ بار
بار(آپ کی فرنچی،غیر مشروع)داڑھی پر جارہاتھا اور گاہ بگاہ ناک میں ۔اور جب آپ رکوع میںگئے تو آپ کی کمر
بھی کھُل گئی اور پیچھے معائنہ کار حضرات موجود تھے ۔اور آپ کی نظریں آپ کی موبائل پر تھیں جو آپ نے ڈسپلے اوپر
کرکے سائلینٹ رکھاتھااور رِنگ ہورہی تھی ،آپ رسیو کرنے کے فراق میں تھے مگر مجبور تھے مگر اتنا تو آپ نے دیکھ
ہی لیا کہ کس کی رنگ ہے۔بہر حال جیسے تیسے آپ کی ایک رکعت مکمل ہوئی ۔دوسری رکعت میں سجدہ کی تسبیح ر کوع کے
بالمقابل کچھ زیادہ لگ رہی تھی،خدا ہی بہتر جانے آپ تسبیح ہی پڑھ رہے تھے یاسوگئے تھے یاکہ کچھ حساب ملانے میں
مصروف تھے۔اور جناب آپ کے قعدہ کا حال تو یہ تھا کہ اس میں بھی آپ کا داہنا ہاتھ داڑھی میں تھا اور بائیں ہاتھ کی
انگلیوں سے ناک سے کچھ نکال کر اس کو ایسے مدوّر(گول)کررہے تھے جیسے کوئی کہنہ مشق عطار،حکیمِ حاذق حبِّ یرقان
یا حبِّ مالیخولیا تیار کررہاہو۔
یقین جانئے اگربابارام دیو آپ کی نماز دیکھ لیتے تو عبادت تو درکنار اسے یوگابھی شمار نہیں کرتے ،اس لئے کہ یوگا میں
بھی یکسوئی شرط ہے ۔
تو بھئی جب آپ کی سنّت نماز کا یہ حال و اہتمام ہے تو فرض کا حال کیا ہوگا ؟ واللہ اعلم بالصواب۔
اور اس قدر اہتمام والی نماز مُنھ پر ماردی جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب نماز نہیں تو قبولیتِ دعاء بھی نہیں ۔
مقتدی اجی جناب جی (امام صاحب)آخر پھر کس طرح نماز پڑھاں ؟
امام صاحب نمازمیں نبوی طریقہ اختیار کیجئے اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ان کی عدمِ اطمینان والی نماز
پر (جوکہ تعدیلِ ارکان سے خالی تھی )تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’صلّوا کما رأیتمونی اُصلّی ‘‘ کہ اس طرح نماز پڑھو
جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔
پھر دیکھئے انشاء اللہ ہاتھ اٹھاتے ہی بغیر زبان کو حرکت دیئے ،صرف سوچتے ہی آپ کی دعائیں قبول ہوں گی ا ور
تمنائیں بر آئیں گی ۔
ابوالحسنات قاسمی