اسلامی ہندکےمعمارحضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ بزبان مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی میاں ندوی نوراللہ مرقدہ

35

قدیم ترمؤرخین (جن میں طبقات ناصری کےمصنف قاضی منہاج الدین عثمان جوزجانی بھی شامل ہیں جوحضرت خواجہ کےکمسن معاصرہیں)کابیان ہےکہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سلطان شہاب الدین غوری کےاس لشکرکےساتھ تھے,جس نےوالی اجمیررائےپتھورا(پرتھوی راج)کوشکست دی اورہندوستان کی فتح کی تکمیل کی,اس فتح میں انکی دعاؤں,توجہات اورروحانیت کابہت بڑاحصہ تھا.بعدکےمؤرخین کےبیانات سےمعلوم ہوتاہےکہحضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نےشہاب الدین غوری کےحملوں کےدرمیان 571ہجری سے602ہجری تک جاری رہےابتدائی سنین ہی میں اجمیرمیں (جواسوقت راجپوت طاقت وحکومت اورہندومذہب وروحانیت کابڑامرکزتھا,جہاں سےسات میل شمال پشکرایک مشہورمذہبی تیرتھ گاہ تھی,جسکی یاتراکےلئےدوردورسےلوگ آتےتھے,اس جھیل جسکےمتعلق یہ عقیدہ ہےکہ برہمانےیہاں یگ کیااوریہاں پرسرسوتی اپنےپانچ دھاراؤں سےپرکٹ ہوتی ہیں یہیں اجمیرسےسات میل شمال ہے)قیام اختیارفرمالیاتھا.ابھی غوری کےحملوں نےہندوستان کی قسمت کافیصلہ نہیں کیاتھااوراسکی ترکتازیاں شمالی مغربی ہندوستان تک محدودتھی کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیاجس نےہندوستان کی قسمت کافیصلہ کردیا,رائےپتھورانےکسی مسلمان کو(جوغالباََاسکےدربارسےمتعلق تھااذیت پہونچائی حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نےاسکی سفارش کی ,پتھورانےمتکبرانہ اورتوہین آمہزجوابدیااورکہاکہ یہ شخص یہاں آیاہواہےاورایسی اونچی اونچی باتیں کہتاہےجوکسی نےنہ دیکھیں نہ سنیں,حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نےیہ سنکرارشادفرمایاکہ ہم نےپتھوراکوکوزندہ گرفتارکرکے(محمدغوری)کودےدیا,اسکےبعدہی محمدغوری نےحملہ کیا,پتھورانقابلہ کیااورشکست کھائی,بہرحال,واقعہ کہ جوترتیب ہواسمیں شک نہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نےمحمدغوری کےحملوں کےدرمیان اوراسلامی سلطنت کی عمومیت واستحکام سےپیشترہندوستان کےقلب اورقدیم ہندوستاب کےعظیم سیاسی وروحانی مرکزاجمیرکواپنےقیام کےلئےانتخاب فرمایا,یہ فیصلہ انکی اولوالعزمی,عالی ہمتی اورجرأت ایمانی کا ایک ایسا تابناک کارنامہ ہےجسکی مثالیں پیشوایان مذاہب اورفاتحین عالم کی تاریخوں میں مل سکتی ہیں ,انکےاستقلال واخلاص,انکےتوکل اعتماد ,انکےزہدوقربانی,اورانکےدردوسوزنےہندوستان کےلئےدارالاسلام بننےکافیصلہ کردیا,اورجوسرزمین ہزاروں برس سےصحیح یقین اورصحیح معرفت سےمحروم اورتوحیدکی صداسےناآشناتھی وہ علماءاوراولیاءکی سرزمین اورعلوم اسلامیہ اورکمالات دینیہ کی محافظ و امین بن گئی,اوراسکی فضائیں اذانوں سےاوردشت وجبل اللہ اکبرکی صداؤں سےاوراسکےشہرودیارقال اللہ وقال الرسول کےنغموں سےایسےگونجےکہ صدیوں سےعالم اسلام گوش برآوازہے,”بہانےرادگرگوں کردیک مردخودآگاہے”سیرالاولیاءکےمصنف نےبڑی صداقت وبلاغت سےلکھاہےملک ہندوستان اپنےآخری مشرقی کنارہ تک کفروشرک کی بستی تھی,اہل تمرد”اناربکم الاعلیٰ”کی صدالگارہےتھےاورخداکی خدائی میں دوسری ہستیوں کوشریک کرتےتھےاوراینٹ پتھر,درخت ,جانورگائےوگوبرکوسجدہ کرتےتھے,کفرکی ظلمت سےانکےدل تاریک اورمقفل تھے,سب دین وشریعت کےحکم سےغافل خداوپیمبرسےبےخبرتھے,نہ کسی نےکبھی قبلہ کی سمت پہچانی ,نہ کسی نےکبھی اللہ اکبرکی صداسنی,آفتاب اہل یقین حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ کےقدم مبارک کا اس ملک میں پہونچناتھاکہ اس ملک کی ظلمت نوراسلام سےمبدل ہوگئی,انکی کوشش وتاثیرسےجہاں شعائرشرک تھےوہاں مسجدومحراب ومنبرنظرآنےلگے,جوفضاشرک کی صداؤں سےمعمورتھی وہ نعرہ اللہ اکبرسےگونجنےلگی,اس ملک میں جسکودولتِ اسلام ملی اورقیامت تک جوبھی اس دولت سےمشرف ہوگانہ صرف وہ بلکہ اسکی اولاددراولاد,نسل درنسل سب انکےنامہ اعمال میں ہونگے,اوراسمیں قیامت تک جوبھی اضافہ ہوتارہےگا اوردائرہ اسلام وسیع ہوتارہےگاقیامت تک اسکاثواب شیخ الاسلام معین الدین سجزی کی روح کوپہونچتارہےگاانشاءاللہ.(سیرالاولیاء صفحہ نمبر101.(تاریخ دعوت وعزیمت حصہ سوم صفحہ نمبر25تا29)