لمحۂ فکریہ

50

بسم اللہ الرحمن الرحیم

باری تعالی نے جب سے عالم کو وجود بخشا اسوقت سے ابھی تک بےشمارگروہ،قومیں،جماعتیں پیدا ہوئیں اور فرحت بخش،روح افزا،یا اندوہناک، روح فرسا افعال و اعمال کو انجام دیکر تاریخ کےصفحات میں اپنے کو نیک نام یا بدنام درج کروالیا،
وقت اور لمحہ کے مطابق جزاء وسزاء بھی دیے گئے بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا نہایت ظلم و جور کا شکار تھی اللہ کی غیرت نے جوش میں آکر انسانیت کو گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی کیا چنانچہ باری تعالی کا ارشادعالی ..” تم سب کہ سب آگ کے گڑھے کہ قریب تر تھےیہ جا وہ جا تم کھائی میں گرتے تو ذات عالی نے تجھے اس ضلالت و رسوائی سے محفوظ رکھا ”
"کنتم علی شفاحفرۃ من النارفأنقذکم منہا "آل عمران۱۰۳
یہ رسوائی و ضلالت تو شرک و کفر کی تھی
خالق عالم کے احکام وفرامین کو پاؤں تلے روندھنے اور ذات لاشریک لہ کے ساتھ اس کے مد مقابل اور اسکے بالمقابل ٹھہرانے کی تھی جس مالک الملک نے اس جہانِ رنگ وبو کو وجود بخشا بھلا اسے کیسے یہ گوارہ ہو تا کے ان کی سب سے معظم و مکرم مخلوق یونہی بےسروسامانی کے عالم میں وادئ پرخار میں آبلہ پا ہوکربھٹکتی رہے اس کو ترس آتا ہے اور رحمۃ للعالمین، رسالت مآب، کو اسوۂ کامل و مکمل بناکر کبھی خوشخبری سنانے والا، کبھی ڈرانے والا کبھی شاہد کےا لقاب سے ملقب فرماتے ہوئے ساری دنیا کو اس وادی پر خار سے نجات دلانے کیلئے مبعوث فرتا ہے، فرمان باری تعالی ہے”اے محمد مصطفی ہم نےتمہیں لوگوں کی طرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجاہے ”
"وما ارسلناك الا کافة للناس بشیراونذیرا ” سبا ۲۸
جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرمایا اسوقت دو قسم کی جماعت ہوگئیں ایک خدا ترس محمد صلی اللہ علیلہ وسلم کو رسول ماننے جاننے والی اور دوسری جماعت نشۂ طاقت و قوت سے سرشار بدمست ،لوگوں کو حکمرانی اور مال و دولت کا دھونس جمانے والی لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ کے پاور کے سامنے اس کے علاوہ کی طاقت وقوت سر چڑھ کر بولے.؟
اللہ کی ایسی کاری ضرب لگی کہ طاقت و قوت کا راگ الاپنے والی جماعت خدائی پاور کے سامنے پانی بھرتے نظر آئی.
رفتہ رفتہ روز وشب، ماہ وسال تمام ہوتا گیا مختلف ادوار سامنے آئے قیصرو کسری کا سر کچلا گیا اور اس کے طرح اور بھی زور آور آئے چلےگئے *ابھی اس وقت جس ماحول اور عالم میں ہم بودوباش کررہےہیں اپنی زندگی کی صبح شام ہورہی ہے یہاں بھی ایک سپر پاور بتانے والا ہے جو اپنے کو فرعون کا جد امجد گردانتا ہے اسی کی روش پر گامزن ہے ساری دنیا کو تباہ و برباد کرکہ اپنی حکمرانی کررہا ہے* اس پر مستزاد یہ کہ بعض ممالک کو دنیا کے نقشہ سے مٹانےکا خواب بھر پور انداز میں دیکھ رہا ہے اب وہاں بھی قومیت، عنصریت کی آگ ایسی بھڑکی ہے کہ قابو سے باہر ہے روکتے نہیں رک رہی ..بابائے دنیا کہلانےوالے کی چول کھسکتی نظر آرہی ہے فرعونیت اب دست و بازو پکڑ بیٹھی منتظر فردا ہے ہونہ ہو کل اپنے ساتھ کیا کیا لیکر آئیگا بیت ابیض White House آگ و دھوان سے بھرا ہے
ایوان میں لرزہ تاری ہے خوف و ہراس کا ماحول بپا ہے انسانیت ،ہیومن رائٹ human right کہ نام پر اپنی دوکان کو چمکانے والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں آخر کہاں گئے وہ لوگ؟ اپنے گھروں،آفسوں یا تہ خانوں میں آنکھ کان بند کرکے روپوش تو نہیں؟
سب ہیں صفوں میں ہیں مل کر آتنگ پھیلا رہے ہیں اور یہ واویلا کررہے ہیں کہ ہماری مدد کو کوئی نہیں آرہا
امریکہ وقت کا سپر پاور ہے اور صدر اسکا فرعون، اسے اپنی فکر ہے کہ آئندہ الیکشن election میں میں کسی فٹ پاتھ outside پر نہ نظر آؤں انسانیت سے کنارہ کش ہوکر اپنی کرسی اور منصب بچانے میں سر گرم عمل و کوشاں ہے لیکن اسے یہ بات یاد ہو کہ الملک للہ بادشاہت تو اللہ کے لئے ہے. اللہ جسے چاہتا ہے تخت و تاج دیتا ہے تُؤۡتِی ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَاۤءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَاۤءُ ،تووہ اپنے کو سپر پاور باور کرواتا ہے کہ ہم ہی تو ہیں سربلند اور ساری خدائی ہمارے ہی لئے ہے. اور جب اللہ کی گرفت مضبوط ہوتی ہے اپنا منھ چھپائے پھرتا ہے لیکن کون ہے جو اسے منھ چھپانے والے کو ذلیل ورسوا ہونے سے بچا سکے؟ کوئی نہیں ،پھر وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہےعقل ماؤف ہوجاتی ہے سارابھرم ٹوٹ جاتا ہے اگرتقدیرلکھنے والا قسامِ ازل اس کی ہدایت لکھی ہوتی تو وہ راہ راست پرآتا ہے اپنی گذشتہ افعال و اعمال، حرکات وسکنات سے توبہ کرتا ہے پھر التائب من الذنب کمن لاذنب لہ” گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہےجیسے کہ کوئی گناہ نہ کیاہو” کا مصداق کامل ہوجاتا ہے
*ابھی دنیا دوبارہ قعر مذلت کی طرف رواں دواں ہے*
انسانیت،رحم،احسان، صلہ رحمی سب کہ سب جاں بلب ہیں ،اپنی اور اپنا بنانے کی فکر سب کو دامنگیر ہےایسا مفاد پرستانہ دور ہیکہ کوئی کسی گرتےکو سنبھالنے سے زیادہ اسے کھائی میں گرانے کی فکر میں پریشان و وسرگرداں ہے
اس اخلاق سوز،بدعنوان،حیا باختہ ماحول سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے
*آمین یاغفار الذنوب*