16/شعبان المعظم, 11/اپریل 2020/ کی صبح حسب معمول واٹسپ گروپ چیک کرتے ہوئے فاضل دوست جناب مفتی رضوان صاحب اعظمی کے ذریعے لکھی ہوئی ایک خبر پر نظر پڑی جس میں ادارہ دینیات فائن ٹچ کے شیخ الحدیث ,حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب کاکوسی پالن پوری رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات کی اطلاع تھی, کچھ لمحے تک میں شدید بے چینی کا شکار ہو گیا, یقین ہی نہیں ہوا کہ ایسا ہو چکا ہے .پھر فون سے رابطہ کے بعد اس اندوہناک خبر کی تصدیق بھی ہو گئی. اور ایک بار پھر زندگی اور اس سے متعلق تمام چیزوں کی بے ثباتی پر یقین بڑھتا گیا , زندگی اور موت کے درمیان کا دھاگہ اتنا کمزور اور بے بس ثابت ہوا ہے کہ مسافرانِ راہ عدم ہیں کہ چلے ہی جا رہے ہیں… تو چل میں آیا کہ ایک ڈور سے بندھی ہوئی ہے . زندگی کی سارے حفاظتی حصار , جن کی فصیلوں میں محبتیں اور رشتے محفوظ رہتے ہیں, آہستہ آہستہ ڈھہتے جا رہے ہیں. کبھی کسی کے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہتا, کبھی ممتا کی دیوار گر جاتی ہے , کبھی بزرگوں, اساتذہ اور مرشدوں کی رخصتی چھوٹوں اور عقیدت مندوں کے سروں کو برہنہ کر دیتی ہے. پھر ہر انسان کو قدرے فرق کے ساتھ یہ احساس کچوکے لگاتا ہے کہ اس کے پاؤں تلے شفقت و محبت کا وہ فرش نہیں رہا, جو اس کے اپنے قریبی لوگوں نے بچھا رکھتے تھے. اس کے سر پر دعا کی وہ چادر نہیں رہی, جو آسمان سے اترنے والی مصیبتوں کو بفضل رب تھام لیا کرتی تھی.

آدمی نشّۂ غفلت میں بھلا دیتا ہے

ورنہ جو سانس ہے پیغامِ فنا دیتا ہے

حضرت مولانا (رحمت اللہ علیہ) سے میرے تعلقات غائبانہ تھے, کبھی بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل نہیں ہوئی. لیکن مادر علمی دار العلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی کے ابتدائی ایام سے اب تک ان کے کارناموں کا تذکرہ دوستوں کے ذریعے سنتا رہا ہوں. ان کی قیمتی کتابوں کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں ان کی علمی و عملی, اور خلوص و للہیت کی ایسی تصویر بیٹھی ہوئی تھی , جس کی چھاپ تادم تحریر میرے دماغ پر مرتسم ہے.

میری نظر میں حضرت مرحوم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک بے ضرر انسان تھے, جہد مسلسل, پیہم عمل اور محبت سے دلوں کو فتح کرنے پر یقین رکھتے تھے. اپنے شریک کار افراد اور شاگردوں کی نظر میں ایک مخلص اور ہمدرد انسان تھے. جو کام بھی حضرت کے دسترس میں ہوتا, اس کے لئے بروقت کھڑے ہوتے, اور اس کے لئے ہر طرح کا ایثار و قربانی پیش کرنے کے بعد بھی خود کو شاداں و فرحاں محسوس کرتے. معاملات کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے اپنے متعلقین کو بھی برابر اس کی تاکید فرماتے, صلہ رحمی آپ کی فطرت میں تھی, وقت فارغ کر کے با ضابطہ رشتہ داروں اور متعلقین سے ملاقات یا فون کر کے ان کے حال احوال معلوم کرتے.

نیکی و سلامتی اور خلوص و ہمدردی کا آفتاب جو زندگی میں علم و تحقیق, وعظ و خطابت, درس و تدریس, فقہ و تفسیر, پند و نصیحت اور بھٹکے ہوئے آہوں کو سوئے حرم لے جانے کی جستجو میں کبھی ہمت نہیں ہارا, آج وہ بھی زندگی و موت کی کشمکش میں موت سے بازی ہار گیا. اور 10/ اپریل بروز جمعہ بعد نماز مغرب دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گیا, بزم رفتگاں کا حصہ ہو گیا..

یوں تو ہر جانے والا اپنے پیچھے ایک ایسا مہیب خلا چھوڑ کر جا رہا ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میں اس کے پر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے. ہو سکتا ہے کہ علمی حروف و نقوش, کتابی معلومات اور اہل فن کی کمی نہ ہو, لیکن حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب جیسے دینی تصلب کے حامل , تقوی و طہارت, سادگی و قناعت اور تواضع و للہیت والی شخصیتوں سے دنیا دھیرے دھیرے خالی ہو رہی ہے…

حضرت مولانا علیہ الرحمۃ متصلب فی الدین تھے, صلح کل کی پالیسی میں بھی دینی مزاج اور اسلامی اصولوں پر بچوں و طالب علموں کی تربیت کا رنگ نظر آتا تھا. اپنے پیش رو اور موجودہ اکابر علماء و صلحاء سے عقیدت مندانہ تعلق رکھتے تھے. خاص طور پر ان کی تدریس , تربیتی انداز اور عوام اثر وعظ و نصیحت میں دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و صدر المدرسین حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری کا طرز نمایاں دکھتا تھا. اپنی کسی بات کو مستند کرنے کے لیے یوں فرماتے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا . اشارہ حضرت مفتی سعید صاحب کی طرف ہوا کرتا تھا. یہ ایسی خوبی ہے جو ہمارے نوجوان فضلاء دیوبند و ندوہ و مظاہر و غیرہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی زندگی سے مرعوب ہونے کے سبب مفقود ہوتی جا رہی ہے .شجر چاہے کتنا ہی گھنا اور سایہ دار ہو, جڑ سے اکھڑنے کے بعد وہ بے ثمر ہو جاتا ہے. مولانا اپنے اشجار و اسلاف سے وابستہ رہتے ہوئے امید بہار رکھتے تھے. ہمیں بھی اسلاف و اکابر کی زندگی اپنے سامنے رکھنی چاہئے .

 

حضرت مرحوم کی زندگی جمود کے اس دور میں بھی جاندار اور حیات بخش تھی. آپ نے اپنے قلم گہربار سے درجنوں ایسی کتابیں لکھی ہیں , جو طلبہ, عوام اور دینی جذبہ رکھنے والوں کے لئے یکساں مفید ثابت ہوئی ہیں. زود نویس اور زیادہ نویس تھے… آپ کی کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے…::

 

اسلاف کی طالب علمانہ زندگی

آسان حج

خطبات سلف

معراج کا سفر

خطبات دعوت

الفيض الحجازي شرح منتخب الحسامی.

شمائل محمدی شرح شمائل ترمذی

معارج الفلاح شرح نور الایضاح

الرحمة الواسعة شرح البلاغۃ الواحۃ

نفحة الدعوة و التبليغ(عربي)

مرحوم کی تصانیف انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی.

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

میرے لفظ مرے ہونے کی گواہی دیں گے

 

آپ کے بچھڑنے کا افسوس اپنی جگہ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ حضرت مرحوم اپنی زندگی کے بیشتر حصے قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں کو عام کرنے میں گزارے. ادارہ دینیات فائن ٹچ ممبئی کو اپنا آخری پڑاؤ بنایا تھا. میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس ادارے کے صرف روح رواں ہی نہیں بلکہ پھر سے زندگی کی لہر دوڑانے میں حضرت مرحوم کا ہی کردار تھا..

اپنے پیچھے ہزاروں شاگردوں, متعلقوں صالح اولادوں اور محبت کرنے والوں کے دلوں میں بہت اچھی یادیں چھوڑ کر گئے ہیں. فائن ٹچ کی شکل میں ایک گلشن قوم و ملت کو عطا کر گئے ہیں. آج وہ ہمارے بیچ نہیں لیکن ان کے کارنامے اور الفاظ ان کے ہونے کی گواہی دیں گے.

کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

خدا مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے, درجات بلند کرے, پسماندگان اور جملہ محبین و منتسبین کو صبر جمیل عطا فرمائے ..آمین