جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا سال اور ہماری زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا سال اور ہماری زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

✒️محمد اطہر حبیب

عیسوی سال 2021 کا آخری مہینہ دسمبر ختم ہونے کے قریب قریب ہے۔ اور نئے عیسوی سال 2022کی آمد آمد ہے۔ ہم جلد ہی 2021 ء کو الوداع کہہ کر نئے عیسوی سال 2022 میں قدم رکھنے والے ہیں، جو گزرے سال کی طرح زندگی کی ایک اور قیمتی سال بن کر آئے گا اور پھر خوشی و غم اور مختلف طرح کے حالات سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے گزر جائے گا۔ اور ماضی کی بہت سی یادیں ذہن و دماغ میں گردش ہوکر رہ جائیں گی، اور رفتہ برفتہ آگے بڑھتے ہوئے غیر محسوس طریقےسے ہماری عمر کی ایک سال کم ہوجائے گی۔

عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز میں عموماً ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں نئے سال کا جشن بڑے ہی جوش و خروش اور دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے ہمارے ملک ہندوستان میں بھی بہت سارے مسلم و غیر مسلم افراد بالخصوص نوجوان نئے سال کی آمد کے خوشی میں جشن مناتے ہیں ، پٹاخے داغتے ہیں ، آتش بازی کرتے ہیں، گھروں میں قمقمے جلاتے ہیں ، ایک دوسرے کو بڑی گرم جوشی کے ساتھ مبارکبادی پیش کرتے ہیں ،اور یوں ہی اپنے روپے پیسوں کو بے تحاشا رائیگاں کرتے ہیں ۔
ان تمام باتوں کے متعلق ذہن میں کچھ سوالات گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔
کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سال کا جشن منایا؟ کیا صحابہ اکرام نے آپس میں ایک دوسرے کونئے سال کی مبارک بادی دی؟

کیا تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس رسم کو منایاگیا؟ کیا دیگر مسلمان حکمرانوں نے اس کے جشن کی محفلوں میں شرکت کی؟
حالانکہ اس وقت تک اسلام ایران، عراق، مصر، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک تک پھیل چکا تھا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہرپڑھالکھا عقل مند شخص نفی میں دے گا۔ پھر آج کیوں مسلمان اس کام کو انجام دے رہے ہیں؟
آخر یہ کس نے ایجاد کیا؟ کو ن سی قوم نئے سال کا جشن مناتی ہے؟ کیوں مناتی ہیں؟ اور اس وقت مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ ان چند سطور کے اندر اسی کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دنیا کے تمام مذاہب اور قوموں میں تیوہار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر ایک تیوہار کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے اور ہر تیوہار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے، جن سے نیکیوں کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے؛ لیکن لوگوں میں بگاڑ آنے کی وجہ سے ان میں ایسی بدعات وخرافات بھی شامل کردی جاتی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کے منازل طے کرتی گئی اوربظاہر مہذب ہوتی گئی انسانوں نے کلچر کے نام پر نئے جشن اور تیوہار وضع کیے انھیں میں سے ایک نئے سال کا جشن ہے ۔

در اصل یہ نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہوا ہے، عیسائیوں میں قدیم زمانے سے نئے سال کے موقع پر جشن منانے کی روایت چلتی آرہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق ۲۵/دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ، اسی کی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے۔ان تمام جشن میں سب سے زیادہ فضول خرچی نظر آتی ہے اور ہمارے مسلم نوجوان غیروں کے طریقے پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں افسوس کا مقام ہے کہ ہم اسلام کے ماننے والوں نے ان تمام چیزوں کی مذمت کی ہے-
اسلام ہر شعبہ زندگی میں سادگی، اعتدال اور میانہ روی کی تلقین کرتا ہے۔ فضول خرچی، عیش و عشرت اور نمود و نمائش سے نہ صرف منع کرتا ہے بلکہ اس کی شدید مذمت بھی کرتا ہے۔
ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنی زندگی کو شریعت اسلامی کے سائے میں گزارنے کی کوشش کریں،
ابھی بھی وقت ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، اپنا محاسبہ کریں، اپنی دولت و ثروت کو سرکشی کا ذریعہ نہ بنائیں؛ بلکہ اسے صحیح مصرف میں خرچ کریں۔ اپنے اٹھنے والے قدم کو اللہ کی رضا و خوشنودی کی راہوں میں آگے بڑھائیں۔ اپنی تہذیب وثقافت کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں، غیروں کی نقالی کرکے اسلامی تشخص و امتیاز کو مجروح نہ کریں۔ نئے سال کے نام پر انجام پانے والے غیر شرعی امور کے بجائے اللہ کو راضی و خوش کرنے والے کام انجام دیں، بالخصوص ٹھنڈک کے اِن ایام میں مفلس و خستہ حال لوگوں کا خیال کریں، ہم خود ہی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ انتہائی بیش قیمتی و پُر زور لباس میں ہوتے ہوئے بھی ہم ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں تو پھر آدھے لباس میں رہنے والے لوگوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس لیے اُنھیں بھی اپنی جیب سے اللہ کے واسطے بغیر کسی ریا و نمود کے گرم کپڑے اور اوڑھنے کے چادر و کمبل وغیرہ مہیا کرائیں۔

یہ زندگی اللہ رب العالمین کی جانب سے عطا کردہ ایک نعمت ہے اور اس نعمت سے ایک سال کم ہونے پر ہمیں خوش ہونے اور جشن منانے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم نے سال گذشتہ نیکیوں سے اپنے دامن کو بھرا ہے یا پھر گناہوں کے بوجھ سے لدے ہیں؟ آنے والا نیا سال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ” کہ مطابق گزری کے نہیں گزری ، ہماری محدود زندگی سے ایک اور سال کی کمی واقع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن یہ عمر بھی تمام ہوجائے گی ،گزرے ہوئے لمحات کا محاسبہ کرتے ہوئے ہم اپنے مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں اور فرصت کے لمحات میں غور کریں، کہ یہ دنیا جو ہزاروں سال سے قائم ہے، اب تک ہزاروں، کروڑوں، اربوں لوگ اس کرہ ارضی پر آئے اور اپنی اپنی متعینہ زندگی گزار کر رخصت ہوگئے اور کسی دن ہماری زندگی کی بھی شام ہوجائے گی اور ہم اِس دنیا کو خیر باد کہ کر دار بقا کی جانب چل دیں گے دنیا چھوڑنے والے بہت ایسے ظالم و جابر لوگ ہیں جو اپنے اعمالِ بد اور قتل و غارت گری کی وجہ سے آج بھی نمونۂ عبرت بنے ہوئے ہیں اور دنیا مسلسل اُن پر لعنت ملامت کر رہی ہے، جب کہ کچھ ایسے خوش نصیب لوگ بھی ہیں جو آج بھی اپنے نمایاں کردار اور بہترین اعمال کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں جگمگا رہے ہیں۔ ہماری بھی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اِس انداز سے ڈھالیں کہ دنیا والے ہمیں اچھے ناموں سے یاد کریں اور ہمارے لیے دعا کے واسطے اُن کے ہاتھ اٹھ جایا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نئے سال کے موقع پر ہونے والے تمام خرافات ولغویات اور فضول خرچی سے بچائے ۔ آمین

🖊️ازقلم :
محمد اطہر حبیب
ارریاوی
متعلم :
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم وقف دیوبند
Darul Uloom Waqf Deoband

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے