یہ موقع شہادت ہے مقام تفریح نہیں

149

*یہ موقع شہادت ہے مقام تفریح نہیں*

اچانک گاڑی کے سامنے کوئی جانور آجائے تو اس موقع پر یہی کہتے ہیں کہ” ایک آوارہ جانور سامنے آگیا”
کچھ یہی حال ہمارے یہاں ان دنوں کچھ بچوں اور نوجوانوں کا ہے جو گلے میں ڈھول اور ہاتھ میں لاٹھیاں لیکر سڑک پر آگئےہیں، غضب کی ڈھٹائی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہیں، آنےجانےوالی گاڑیوں سے چندہ وصول کرتے ہیں بلکہ بھیک مانگتے ہیں اوردرمیان میں لاٹھیاں بھانج بھانج کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مبارک نام بھی لیتے رہتے ہیں، اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے دیوانے ہیں۔جبکہ یہ دراصل آوارہ جانور کی صف میں نظر آرہے ہیں جو اپنے صحیح مقام اورڈگر سے باہر ہیں، ان لوگوں سے اسلام اور مسلمانوں کی وطن میں نہایت گھناؤنی تصویر پیش ہوتی ہے۔
دوسری طرف گاؤں محلے میں ان سے ایسی ایسی حرکتیں سرزد ہورہی ہیں جو محرم الحرام اور شہادت حسین رضی اللہ کے نام پربالکل نئی نئی ہیں ۔بطور مثال یہ دیکھئے:
چاروں طرف سے ایک بھیڑ ہے۔ایک نوجوان منھ مٹی کا تیل بھرا ہے اور ہاتھ میں اس کے جلاہوافتیلا ہے جسمیں وہ پھونک رہا ہے ،آگ تیزی سےبلندبہت اونچی ہوجاتی ہےاورکسی بھی انہونی کا خطرہ پیدا ہوجاتاہے،مگر وہ بے شرم اپنے اس عمل کےذریعہ ناظرین سے داد تحسین کا خواہاں ہے۔کوئی نوجوان جانور جیسی شکل بنائے ہوئے ہے اورانسانوں کو مستفید کررہا ہے۔ کوئی جانوروں کی سی آواز نکال کر لوگوں کو محظوظ کررہا ہے،اور تفریح طبع ہسنے ہنسانے کا کام کررہا ہے،درمیان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام کا نعرہ بھی بلند کرتا ہے۔ماحصل یہ کہ محرم کے اس مبارک موقع پر من گھڑت کام سے قوم ملت کا بڑا خسارہ اور مذہب اسلام کا بڑا نقصان کررہا ہے۔اس پر سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تعلق سے نوحہ وماتم اور سینہ کوبی شیعہ بھائیوں کی طرف سے دیکھنے میں آتی رہی ہے لیکن یہ تفریح طبع کا سماں آج سے قبل نہیں دیکھا گیا ہے۔یہ واقعی بہت ہی افسوسناک ہے۔ منبر ومحراب سے مضبوط انداز میں اس پرآواز اٹھانے اور تحریر وتقریر کا اسے عنوان بنانےکی ضرورت ہے۔
ایک اور چیز جو پہلے سے موجود ہے مگر اس میں حالیہ کچھ سالوں سے خاص اھتمام دیکھنے میں آیا ہے، وہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کی دعوت طعام ہے۔اس موقع پر باضابطہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کومحرم کے کھانے کی دعوت ہے۔یا کوئی یہ پوچھ لے کہ بھائی صاحب! آپ کہاں جارہے ہیں ؟تو جوابا یہی کہتے ہیں کہ “محرم کھانے جارہاہوں “گویاکھانے کی ایک خاص ڈش کی ایجاد ہوگئی ہے۔پڑھے لکھے لوگ بھی اس کا خاص اہتمام کرنےلگےہیں، دلیل کے طور پر ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں،:”جس نے یوم عاشورہ کو اپنے اہل وعیال پر رزق میں وسعت کی تو پورے سال وسعت رزق ہوگی”(حدیث)
بعض نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور ضعیف بھی کہا ہے،مگر صحیح یہی ہے کہ یہ حدیث ضعیف نہیں ہے بلکہ صحیح ہے۔
مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب منکرات محرم صفحہ نمبر ۱۵ پر تحریر کیا ہے کہ” باوجود اس کے اس سے احتراز کرنا چاہئے وہ اس لئے کہ لوگ دسویں محرم کو کھانے میں توسع کرنا ثواب کا کام سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ شریعت نے اس میں ثواب نہیں بتایا، اسے ثواب سمجھنے سے یہ کام بدعت بن جائے گا، اگر کوئی یہ کہے کہ میں تو یہ کام صرف وسعت رزق کے لئے کرتا ہوں میں اسے ثواب کی نیت سے نہیں کرتا تو اس سے کہا جائے گا کہ آپ کے اس فعل سے ان لوگوں کی تائید ہوتی ہے جو ثواب کی نیت سے کرتے ہیں، ایسے وقت میں فقہ کے قاعدے کے مطابق اس کا ترک واجب ہے، چنانچہ حکم ہے ،”اذا تردد الحکم بین سنة وبدعة فتركه واجب”، جب معاملہ سنت اور بدعت میں دائر ہو توترک واجب ہے اور یہاں تو معاملہ سنت وبدعت کا نہیں بلکہ جائز وبدعت کا ہے یہاں تو بطریق اولی ترک واجب ہوگا”۔
اللہ ہمیں فہم سلیم عطا کرے، اوردسویں محرم الحرام کے قدر کی توفیق مرحمت کرے،اس تاریخی حیثیت کے حامل دن میں آقائے نامدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے ہوئے اس دن روزہ رکھنے کی توفیق مرحمت کرے،حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حق کی خاطر بھوکا پیاسا رہ کرجام شہادت نوش کیا ہے، گویا یہاں سے بھی روزہ کا ہی پیغام نکلتا ہے، اس دن کا حق اسی طرح ادا ہوسکتا ہے۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710