بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتیہ دنیا چند دن کا کھیل تماشہ ہے اصل گھر تو جنت...

یہ دنیا چند دن کا کھیل تماشہ ہے اصل گھر تو جنت ہے، جو ہم اللہ کو راضی کرکے حاصل کر سکتے ہیں: مولانا یحیٰ نعمانی لکھنوی

یہ دنیا چند دن کا کھیل تماشہ ہے اصل گھر تو جنت ہے، جو ہم اللہ کو راضی کرکے حاصل کر سکتے ہیں: مولانا یحیٰ نعمانی لکھنوی
ہمیں اپنے ایمان کے تحفظ کے ساتھ اپنے بچوں کی بھی ایسی تعلیم و تربیت کرنی ہوگی جس سے ان کا ایمان بھی محفوظ ہو جائے: مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی
آج ہمارے معاشرے میں بطور خاص ازدواجی زندگی میں جھگڑے اور فساد کی جڑ موبائل بن گیا ہے اس سے پرہیز کریں: قاضی شہر حافظ و قاری عبد القدوس ہادی
آج گلشن میرج ہال چمن گنج میں شہری جمعیۃ علماء کانپور کے زیر اہتمام ”جلسہ اصلاح معاشرہ و اجتماع خواتین “ منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں مرد اور خواتین نے شرکت کی۔ اجتماع کی صدارت کرتے ہوئے حافظ و قاری عبد القدوس ہادی قاضی شہر کانپور  نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ جس طرح کے مسائل ہمارے سامنے ہیں اس کا احاطہ ایک نشست میں کرنا ناممکن ہے۔ آج ملک کے حالات کیسے ہیں وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ روزانہ خانگی جھگڑے میرے پاس باحیثیت قاضی شہر آتے ہیں ہماری بچیاں غیروں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں۔ اپنی بچیوں کو دین کی تعلیم دیں۔ اسلام کی حقیقت کو ان کے دلوں میں بیٹھاؤں جو بچے بچیاں دین دار ہوتے ہیں وہ اس طرح کی غلط راہ پر نہیں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے معاملات آتے ہیں کہ لڑکی کا شادی سے قبل کسی سے تعلق تھا شادی کے بعد بھی وہ تعلق برقرار ہے جو شوہر بیوی کے اختلافات کا باعث بنتا ہے۔ قاضی شہر نے کئی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اولاً تو گھر میں اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں، ان کی بہتر تربیت کریں، اگر لڑکی یا لڑکے کی شادی میں ان کی اپنی مرضی کا آپ کے اوپر دباؤ بنے اور آپ اس کو یہ دیکھ رہے ہیں کہ میرے نا قبول کرنے کی صورت میں دونوں خاندانوں کی عزت چلی جائے گی تو ان کی مرضی کا خیال رکھیں شادی کے لئے غیر ضروری دباؤ نہ بنائیں انہوں نے کہا کہ اکثر گھریلو جھگڑوں میں لڑکی کی ماں اور اس کی بہن کا کردار اہم ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکی روزانہ اپنے سسرال کی ایک ایک بات موبائل کے ذریعہ اپنی ماں اور بہن کو بتاتی ہے۔ وہ ان چھوٹے چھوٹے گھریلو مسئلوں کو مزید ہوا دے کر ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیتی ہیں انہوں لڑکیوں سے اپنے سسرال کے معاملات سسرال میں ہی حل کرنے کی تلقین کی۔ دوسری طرف لڑکے کے والدین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ بھی اپنی بہو کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کریں انہوں نے کہا کہ اگر داماد آپ کی لڑکی کی کوئی شکایت کرے تو والدین لڑکی کی جانب داری کرتے ہوئے جھگڑے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اجتماع کو مہمان خصوصی خطیب الہند مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی  شیخ الحدیث مدرسہ امدادیہ مرادآباد نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک میں اسلام کے مخالفین پوری قوت کے ساتھ متحد ہو گئے ہیں، وہ ایک مشن پر کام کر رہے ہیں ان کا نشانہ تو پوری امت ہے لیکن خصوصی طور پر ان کی نظر امت کی خواتین اور امت کے نوجوان اور نونہالوں پر ہے ان کا ایک ایجنڈا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے دین و ایمان کے روشن چراغ کو بجھا دیں اور کفر ایما ن کی جگہ لے لے، شرک توحید کی جگہ لے لے، شر خیر کی جگہ لے لے، بے حیائی حیا پر غالب پا جائے، بے شرمی پردے پر غالب آ جائے، حق کی جگہ باطل کو اپنا لیا جائے۔ ان بحرانی حالات میں خواتین کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری آ گئی ہے کہ وہ اپنی اولادوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے آگے آئیں۔یہ عظیم ذمہ داری ہمارے والدین اور سرپرستوں پر بھی ہے انہوں نے کہا کہ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ لوگ جنہوں سے ایسے حالات میں فکر مند ہو کر اپنی ماؤں اور بہنوں کو آج جمع کرنے کا کام کیا ہے۔ اب ہمیں اپنے ایمان کے تحفظ کے لئے بچوں کی ایسی تعلیم اور تربیت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ انکا ایمان مضبوط ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ  کو حکم دیا کہ اپنی اولادوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ یہی پیغام رسول اللہ ؐ  کی سنت کے ذریعہ والدین،سرپرستوں اور پوری امت کو دیا جا رہا ہے۔ اپنی اورلاد کے سینوں میں ایمان کی عظمت کو روشن کرنا ہے اور کفر کی نفرت کو بھرنا ہے۔ یاد رکھو ایمان کی دولت آنے کے بعد دوبارہ کفر میں داخل ہو جانا ایک سنگین جرم ہے ہمیں اپنی نوجوان نسل کے سامنے حضور ؐ  کی سیرت رکھنی ہوگی صحابہ ؓ  اور صحابیات ؓ  کی سیرت رکھنی ہوگی جنہوں نے اپنے ایمان کے استقامت کا ثبوت اس دنیامیں دیا ہے۔ اگر گھر کے ماحول میں دین نہیں ہوگا تو ہماری اولادوں میں دین سلامت نہیں رہے گا۔ اپنی اولادوں کو بنیادی دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں انہیں ایسی درس گاہوں میں پڑھائیں جہاں دینی تعلیم کا نظم ہو اگر ایسا ممکن نا ہو تو کم از کم اپنے گھر کی سطح پر والدین اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کا انتظام کریں۔ اپنے گھروں میں شرعی پردے کا اہتمام کریں۔ مخلوط معاشرہ اور نظام تعلیم سے پرہیز کریں۔اپنے بچوں کو شرعی لباس پہنائیں، اپنے گھروں میں غیر محرم مردوں سے پردے کا اہتمام کریں۔ اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے دوسرے مہمان خصوصی مفسر قرآن مولانا محمد یحیٰ نعمانی لکھنوی نے کہا کہ آج ہمارے سامنے مسائل کا امبار ہے۔ ان سارے بگاڑوں کی اصل بنیاد دین سے دوری ہے۔ بے انصافی بڑھتی جا رہی ہے مال کا معاملہ خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔  جھگڑے بڑھ گئے ہیں۔ حرام حلال کی تمیز نہیں رہ گئی ہے، آپسی تعلق خراب ہیں۔بزرگوں کے ساتھ نوجوانوں کا سلوک خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ناجائز تعلقات نوجوان لڑکے لڑکیوں میں بڑھ رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسروں کا حق مار کر کھائے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کے گھر پر قابض ہے تو کوئی کسی کی زمین پر قبضہ کیے ہوئے بیٹھا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ ارتداد کا آ گیا ہے۔ان سب کی بنیاد یہ ہے کہ ہم لوگوں کے اندر جیسی دین کی عظمت ہونا چائیے وہ نہیں ہے جب دل میں دین کی طلب ہی نہیں ہوگی تو کوئی گناہوں سے کیسے بچے گا۔ اگر دل کے اندر دین بچے گا تو حرام کا ایک لقمہ بھی جہنم کا انگارہ نظر آئے گا ہماری ذمہ داری ہے کہ دلوں میں دین کی عظمت پیدا کی جائے یہ دنیا چند دن کا کھیل تماشہ ہے اصل گھر تو وہ گھر ہے جو ہم اللہ کو راضی کرلیں اور جنت میں گھر بنا لیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دلوں میں دین کی عظمت پیدا کرنے کے لئے ہر گھر میں ایک چھوٹی سی کتاب جس نام ہے  ”اسلام کیا ہے“ ضرور رکھیں یہ کتاب مختلف زبانوں میں دستیاب ہے۔ اسے بچوں کو پڑھائیے اگر اس کتاب پر کوئی عمل کر لے تو ایک دین دار انسان بن سکتا ہے۔ اسی طرح ہر گھر میں قرآن مجید کا مترجم نسخہ ہو نا چائیے تاکہ ہمارے بچے اس سے ہدایت حاصل کریں اس کے علاوہ ہر مسلمان ایک ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے جس کے پاس بیٹھ کے آخرت کی فکر  پیدا ہو اور اللہ یاد آتا ہو۔ اجتماع کا آغاز قاری مقیم کی تلاوت کلام پاک ہوا۔ پروگرام کی سرپرستی قاری محمد امین جامعی  امام و خطیب مسجد حلیم پرائمری، چمن گنج  نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض مفتی محمد معاذ قاسمی اور مفتی سلطان قمر قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دئے۔ اجتماع کو مولانا محمد شاکرقاسمی، مولانا ابوبکر ہادی قاسمی و مولانا قاری محمد شمیم نے بھی خطاب کیا۔ اصلاح معاشرہ و اجتماع خواتین کے کنوینر محمد اسامہ و معاون کنوینر  و نوجوانان چمن گنج کا جلسہ کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون رہا۔ پروگرام میں شہر کے علماء، ائمہ، حفاظ کرام و دانشوران قوم و ملت نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا اختتام مولانا محمد یحیٰ نعمانی کی دعاء پر ہوا۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے