ہوممضامین ومقالاتیہ بہت گندا کام ہے

یہ بہت گندا کام ہے

یہ بہت گندا کام ہے

"یہ بہت گندا کام ہے،جو گندا کام کررہے ہوبرباد ہوجاؤگے”شراب سے متعلق یہ دوجملے بہار کے وزیر اعلی جناب نتیش کمار جی کے ہیں،روزنامہ انقلاب نے آج اپنے پہلے صفحہ پر انہیں جگہ دی ہے،بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک معمولی سی بات ہے، کوئی بھی انسان اسے بول سکتا ہے، ساتھ ہی اس میں دھمکی بھی دی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ سنتے ہی اپوزیشن لیڈر نے دھمکانے کا الزام بھی لگایا ہے اور وزیر اعلی سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے،جبکہ سچ یہ ہے کہ ان دو جملوں میں دھمکی نہیں ہے بلکہ شراب کی اصل حقیقت اور بنیادی حیثیت کو بیان کیا گیاہے، ساتھ ہی اس کے انجام بدسے بھی آگاہ کیاہے۔یہ کوئی معمولی ساجملہ نہیں ہے جو برجستہ زبان سے نکل گیا ہے،بلکہ شراب کے موضوع پر مکمل کتابی وزمینی مطالعہ کا نچوڑ اور خلاصہ ہے،قرآن میں لکھا ہوا ہے:
اےایمانوالو! یہ جوہےشراب اورجوااوربت اورپانسےسب گندےکام ہیں شیطان کے،سوان سے بچتے رہوتاکہ تم نجات پاؤ، شیطان تویہی چاہتاہےکہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب اور جوئے کے، اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نمازسے سو اب بھی تم باز آؤگے( سورہ المائدہ ۹۱)
قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات میں دو باتیں پیش کی گئی ہیں، پہلی یہ کہ شراب یہ انسان کے استعمال کی چیز ہی نہیں ہے،یہ نجاست ہے،حرام ہے،یہ شراب در اصل گندگی کا نام ہے،
دوسری بات یہ کہ شراب یہ شیطانی کام ہے، اورایک انسان کےلیے شراب دراصل تباہی کا سامان ہے، اس کے ذریعہ ایک انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے،وہ جانور کی سی زندگی گزارنے لگتا ہے، شراب کے نشہ میں بدمست ہوکر کتوں کی طرح آپس میں لڑتا ہے،ناحق قتل کرتا ہے، خودکشی کر لیتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لیے تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اور اپنی پیدائش کے مقصد اصلی سے غافل ہوکر اپنی بربادی کا سامان کر لیتا ہے۔
آج سے تقریبا ساڑھے چودہ سوسال پہلے قرآن کےاس حکم کو سن کر لوگوں نےاپنے گھروں سے شراب پھینکنا شروع کیا تو مدینہ کی گلیوں میں ایک سیلاب جیسا سماں تھا، اور ابوداؤد شریف کی ایک روایت میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے چلا چلا کر بھی یہ کہا کہ ہم رک گئے، ہم شراب سے باز آگئے۔گویا اس گندگی سے گھن اور اپنی بربادی کا خیال نے مکمل طور پر شراب بندی کو کامیاب کیا ہے، مگر آج معاملہ برعکس ہے، ۲۰۱۶ء سے بہار میں شراب بندی ہے، باوجود اس کے سو فیصد کامیابی نہیں ملی ہے،کسی بھی مذہب میں شراب کو اچھا نہیں سمجھا گیا ہے،پھر یہ بے اعتنائی کیوں ہے؟اس میں حکومت ہی کی غلطی نہیں ہےبلکہ ہماری بحیثیت ایک انسان بھی جواجدہی بنتی ہے،اب تک شراب کی گندگی، اور اس سے پیدا ہونے والی بربادی کا یقین سب کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ہے،یہ ناکامی کی اصل وجہ ہے۔
حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں پر لعنت کی ہے، شراب بنانے والے پر،بنوانے والے پر،پینے والے پر،اٹھانے والے پر،جس کے لیے اٹھایا گیا ہو،لانے والے پر،بیچنے والے پر،قیمت کھانے والے پر،خریدنے والے پر،جس کے لیےخریدی گئی اس پر( ترمذی )
شراب بندی کے مکمل نفاذ کے لیے ان دس لوگوں کی نشاندہی بہت ضروری ہے، ہر سماج میں یہ دس لوگ موجود ہیں،مکمل شراب بندی کے لیے آج انہیں جواب دہ بنانے کی بھی ضرورت ہے،

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۵/دسمبر ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے