یہ آواز ہے کیا

84
مجھے سانس نہیں آرہی ہے “مرنے سے قبل یہ جملہ افریقی نژاد امریکی شہری جارج فلائیڈ کا یے۔اسے کورونا نہیں ہوا ہے،باوجود اس کے اس کا دم گھٹ رہا ہے اور سانس نہیں آرہی ہے،اس کی غلطی یہی ہے کہ یہ سیاہ فام ہے۔اور پولس کے زیر حراست ہے۔اس کی گردن پر پولیس والے کامضبوط گھٹنہ ہے جو سختی سے اس کی گردن کو دبارہا ہے،  جارج کا دم گھٹ رہا ہے اور وہ یہ کہ رہا ہے کہ؛ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔بالآخر ہمیشہ کے لئے اس کی یہ آواز خاموش ہوگئی ہے ،اب وہ کبھی نہیں بول سکتا ہے کہ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔
جارج تو ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا ہے، مگر یہ آواز ؛:مجھے سانس نہیں آرہی ہے ” پورے ملک سے آنے لگی ہے ۔ہرآدمی اب یہی کہ رہاہےاوریہی بول کرآوازلگارہاہےکہ ؛مجھے سانس نہیں آرہی ہے۔یہ عجیب وغریب احتجاج ہےجواپنی انفرادیت میں انوکھاہی نہیں بلکہ پچھلے تمام احتجاج سےالگ تھلگ اورمنفرد نوعیت کانظر آرہاہے۔امریکی سڑکوں پر نکل آئے ہیں،اور سبھی یہی آواز لگارہے ہیں کہ؛ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔ اسی آواز سےاس احتجاج میں بڑی شدت سی آگئی اس ہے،اب توہرآدمی یہی کہ رہاہےکہ مجھے سانس نہیں آرہی ہے۔یہ آواز ہی سراپااحتجاج ہے۔اس کی سنگینی کااندازہ لگانے کے لئے اتنا کہ دینا کافی ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد پہلی بار ملک میں اس نوعیت کا پہلا الرٹ جاری کردیا گیا ہے ۔ سولہ ریاستوں میں  کرفیو ہے باوجود اس کے اس کوروکنا مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل ترین نظر آرہا ہے ۔کتنے پولس عملہ زخمی ہوئے ہیں اور سرکاری املاک کا بے تحاشا نقصان ہوا ہے ۔اب اس احتجاج کی لپٹ وہائٹ ہاؤس کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جسکی وجہ کرامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے خاندان کے ساتھ زیر زمین بنکر میں روپوش ہو گئے ہیں ۔ ملک کے کونے کونے سے بس یہی آواز آرہی ہے کہ؛ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی ہے اور ہر طرف سے یہ سوال بھی سامنے آرہاہے کہ؛یہ آواز ہے کیا؟
اس آواز کی قبولیت ومقبولیت نے ہمیں بھی سوچنے اور اس تحریر کے لکھنے پر مجبور کردیا ہے ۔اس لئے کہ یہ آواز امریکہ میں پہلی بار نہیں لگائی گئی ہے ۔ابھی کروناوائرس کے عذاب سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ متاثر یہی ملک رہا ہے اور اب بھی ہے۔یہ بیماری کیا ہے؟  یہ بھی تو سانس کی تکلیف کا ہی نام ہے ۔ابھی امریکہ کے ہاسپیٹلس میں جو لوگ اس مرض میں مبتلا تھے اور ہیں وہ یہی آواز لگاتے ہیں کہ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔مگر شاید اس پر ایک بیمار کی آواز سمجھ کر بیماری کی تکلیف سمجھکر گزر جانے کے نتیجہ میں پھر یہ آواز سڑک سے لگائی جائے لگی ہے ۔جوایک انسان کے ذریعے ضرورلگائی گئی ہےمگریہ خدائی معلوم ہوتی ہے۔جس طرح ایک وائرس کےذریعہ ایک انسان کوسنبھل جانے کی وارننگ دی گئی ہےاوراسےاپنی طاقت کےزعم سےباہرنکالنامقصود یےیہ بھی اس کےمماثل معلوم ہوتی ہے۔البتہ یہاں ایک حکومت کواس زبان میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہےجس کوجلدی ایک حکومت سمجھ لیتی ہے،اسے ایک انسانی مظاہرہ واحتجاج سےتعبیرکیاجاسکتاہےمگرخالص انسانی اقدارکی پامالی پرلگائی گئی آوازہےجسمیں خدائی مددشامل حال ہواکرتی ہے ۔افسوس کہ نہ اس پر توجہ دی گئی ہے اور نہ اس پر دی جارہی ہے ۔وہ بھی خدا کی طرف سے تھی اور یہ بھی خدا کی طرف سے ہے۔   کوروناوائرس پرامریکہ نےاسے چین کاوائرس بتلاکراس عذاب خداوندی سےسبق نہیں لےرہاہےتودوسری طرف اس احتجاج کوبھی اپوزیشن کی طرف موڑنےکی کوشش کررہا ہےاورمظاہرین کودہشت گردتک کہاہےمگراس سے بھی سیکھ لینانہیں چاہتا ہے۔حالانکہ اس پر غور کرنے کی ضرورت تھی کہ آخر وہ کونسی کثافت کا مرتکب ہوا ہے جو انسانی سانس میں دشواری کامستوجب ہے۔اور یہی آواز ایک نہیں بلکہ بار بار سنائی دےرہی ہےآخراس کی کیاوجہ ہے اسمیں کون سی ماورائی طاقت ہے۔کہیں پوری دنیاکوآگ کی بھٹی میں جھونکنے کی یہ سزاتونہیں ہےکہ خود آگ کاسامناہوگیا ہے،یہ ایک ایسی آواز ہےجسے آگ سے ماہرین نے تعبیر بھی کردیاہے۔یہ بارودکی آگ سےزیادہ خطرناک اورجنگ کی آگ سے زیادہ تیزہے۔یہ آواز انسانیت کی ایک چینخ ہے،معصوموں کی آہیں بھی ہیں،۔پوری دنیا میں انسانیت کے خلاف مظالم کی ایک چھوٹے سے جملے میں داستان ہے ۔جودوسری زبان میں انسان اورانسانیت کی حفاظت وبقا کی دہائی کےطورپرلگائی جا رہی ہے ۔
یہ انسان کی آواز ہے ۔انسان اور انسانیت کاگلادبانے والا اور کالے گورے میں فرق کرنے والوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت بھی ہے۔اور اس کی ناکامی کا برملا اور کھلم کھلا اعلان بھی ہے ۔
یہ اتفاق ہی کہئے کہ آج کی تاریخ میں جب کہ امریکی خلاباز بین اقوامی خلائی اسٹیشن پہونچ گئے ہیں، وہیں اس آواز کوسنکرصدر ذی وقار بنکر میں چھپنے پر مجبور ہیں،ایسے ہی موقع کے لئے اقبال علیہ الرحمہ نے کیا خوب کہا ہے؛
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا کا سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم وپیچ میں الجھا ایسا
کہ فیصلہ نفع و ضرر کرنہ سکا
جس نے سورج کی شعاوں کو گرفتار کیا
اپنے افکار کی دنیا کا سفر کرنہ سکا
 اشعار کی زبان میں اس کی حقیقی تصویر سامنے ہوگئی ہے ۔کی ترقی دراصل انسان وانسانیت کی تعلیم وتبلیغ کا ہی نام ہے اور جو اسے نہ حاصل کرسکا وہ سب سے پچھڑا اور پسماندہ ہے ۔جو خدائی عتاب کا شکار ہوجائے گا ۔
آج امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر اس وائرس کا حملہ ہوا ہے ۔غور سے سننے پر ہر جگہ سے یہی آواز آتی ہے کہ مجھےسانس نہیں آرہی ہے ۔وجہ صاف ہے انسانیت اسوقت وینٹی لیٹر پر ہے اور وہ کراہ رہی ہے کہ مجھے سانس نہیں آرہی ہے ۔ایسے میں اگر انسانیت کے لئے ،اسکی بقاکے لئے اور اس کی احیاء کی لئے دنیا کوشش نہیں کرتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان کی اب ضرورت نہیں ہے ۔