یکساں شہری قانون: نا قابل عمل مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی 

53
یکساں شہری قانون: نا قابل عمل
مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑ کھنڈ
 دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے ایک فیصلہ میں یکساں شہری قانون کے نفاذکو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے ، اور کہا ہے  کہ یکساں شہری قانون کے نفاذ کا یہی صحیح وقت ہے، یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے جج پرپتھاام سنگھ نے سنایا، یہ مقدمہ ہندومیاں بیوی کا تھا، شوہر ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی مانگ کر رہا تھا ، جب کہ بیوی کا کہنا تھا کہ وہ مینا قبیلہ کی ہے، اور اس کا فیصلہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت نہیں کیا جا سکتا، جج نے اس مقدمہ کو فیملی کورٹ منتقل کر دیا اور واضح طور پر لکھا کہ آج کا ہندوستان ذات، مذہب اور قبائلی رسم ورواج سے اوپر اٹھ گیا ہے، اس لیے یکساں شہری قانون ہی اس قسم کے قضیہ کا واحد حل ہے، اور یہ کہ پرسنل لا کا سہارا لے کر ہندوستان کے لوگوں کو شادی اور طلاق کے مسائل سے الجھنے کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا،
عدالت کو ہر ایسے موقع سے دستور کے راہنما اصول دفعہ 44 کی یاد آتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ صحیح وقت پر ریاست سبھی شہریوں کے لیے یکساں شہری قانون نافذ کرے گی ، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے اسی وقت اس قانون کے نفاذ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ریاست کو کوئی ایسا قانون نہیں لانا چاہیے جو عوام کے لیے قابل قبول نہ ہو۔
 واقعہ یہ ہے کہ یکساں شہری قانون کا نفاذ اس ملک میں ممکن ہی نہیں ،  راہنما اصول کے بہت سارے ایسے دفعات  ہیں  جن  کا نفاذ حکومت کے لیے  اب تک ممکن نہیں ہو سکا، شاہ بانو کیس کے وقت بھی 1985میں یہ مسئلہ اٹھا تھا اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے قائدین حکومت کو یہ سمجھا نے میں کامیاب ہو گیے تھے کہ یکساں شہری قانون سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا اور علاحدگی پسندی کے مزاج کو فروغ ملے گا۔ کیوں کہ اس ملک کی شناخت رنگا رنگا تہذیب سے ہے، مختلف مذاہب کے اقدار ، رسم ورواج ، طور طریقے مل کر قوس قزح بناتے ہیں، اور بقول ذوق گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
جس دن حکومت نے یکساں شہری قانون بنا یا اور اس کے نفاذ کی کوشش کی اس دن غیر مسلموں کا بڑا طبقہ آپس میں ہی اختلاف کا شکار ہو جائے گا، کیوں کہ شمالی ہندوستان میں کئی پشتوں تک ہندوؤں کے یہاں گوتر ملا یا جاتا، جس لڑکی سے شادی رچائی جا رہی ہے اس سے  دور دور تک بہن کا رشتہ نہیں ہونا چاہیے، جب کہ جنوبی ہند میں سب سے اچھی شادی غیر مسلموں کے یہاں وہ ہے جو بھانجی سے کی جائے، ظاہر ہے یکساں قانون کسی ایک کے ہی حق میں جائے گا، دوسرا مخالفت پر اتر آئے گا،
 ہندوؤں کے یہاں آخری رسومات کی ادائیگی کے تین طریقے ہیں، کہیں گاڑا جاتا ہے، کہیں جلایا جاتا ہے، اور کہیں دریا برد کیا جاتا ہے، یکساں شہری قانون دو طریقہ کو ختم کرے گا، ظاہر ہے یہ ان کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ اور مسلمانوں کے لیے تو قطعا نہیں، اس لیے کہ ہمارے یہاں تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ عزت کے ساتھ نہلاؤ کفناؤ اور زمین میں خاص طریقہ سے قبر کھود کر دفن کردو۔
 اسی طرح شادی کا طریقہ بھی یکساں کسی مذہب والے کے لیے قابل قبول نہیں ، ہمارے یہاں نکاح کا طریقہ ہے ، کسی کے یہاں سات پھیرے آگ کے گرد لگائے جاتے ہیں اور کسی مذہب میں کوئی دوسرا طریقہ رائج ہے، اس لیے جب بھی یکساں شہری قانون لایا جائے گا، مختلف مذاہب کے لوگ اور مختلف اقلیتوں کی اکائیاں الگ ہوجائیں گی، جس سےملک کا بھلا نہیں ہوگا۔
اسی طرح  یکساں شہری قانون کے نفاذ سے مختلف مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کی  جس فضا کے ختم ہونے کا خوب پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے  وہ بھی موہوم اور فرضی ہے، اس لیے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ کوروپانڈو کی بربادی کی داستان چھوڑ جانے والی لڑائ ایک ہی مذہب کے درمیان تھی، مغلیہ عہد میں جو لڑائیاں ہوئیں وہ بھی مذہب کی جنگ نہیں، اقتدارکی جنگ تھی، لڑنے والے ایک ہی مذہب کے تھے، آج بھی جو لڑائیاں  مسلم ممالک میں جا ری ہیں، ان میں دونوں فریق کا مذہب اور ان کے قانون ایک ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت عدالت کے  ذریعہ پیش کیے گئے مشورہ پر کان نہ دھرے اور جس طرح ماضی کے حکمرانوں نے اس مسئلہ پر سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ہے ویسے ہی موجودہ حکومت بھی نظر انداز کر دے، اس ملک کی بھلائی اسی میں ہے ۔