یوگی حکومت کی آبادی کنٹرول بل انتخابی ہتھکنڈا اور ہندوستانی آئین کے اصولوں کے خلاف۔ ایس ڈی پی آئی

50
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( جنرل سکریٹری الیاس محمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ اتر پردیش آبادی (استحکام اور بہبود) بل 2021، یوپی میں یوگی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی انتخابی چال کے علاوہ بھارتی آئین کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بل کا ارادہ ہے کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کی آڑ میں لوگوں پر ظلم کیا جائے۔ الیاس محمد نے اس بات پر خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو تمام بنیادی اور آئینی حقوق کی یقین دہانی کراتی ہے۔ تاہم، مجوزہ بل کے ذریعہ سرکاری ملازمتوں سے انکار، راشن اور سرکاری سبسڈی سے فائدہ اٹھانے اور انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیکر شہریوں کے آزادی کے حقوق کو پامال کرتی ہے۔ اگریہ کالا قانون ایکٹ بن جاتا ہے تو یہ ریاست کے سماجی ڈھانچے کو بے حد نقصان پہنچائے گا اور معاشرے میں عدم مساوات پیدا کرے گا۔ یوگی حکومت کو اس طرح کے مکروہ طریقوں کی تجویز کرنے کی بجائے ریاست کی خوشحالی کیلئے  ریاست کی آبادی کو بروئے کار لانے کے طریقوں کو تلاش کرنا ہوگا۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد نے مزید کہا ہے کہ اترپریش میں یوگی کی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس بل کو لایا گیا ہے۔ یوگی حکومت کوویڈ بحران سے نمٹنے میں لاپرواہی، ریاست میں لاقانونیت کی صورتحال، فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی حملے اور بیوروکریسی کو ڈرانے دھمکانے کیلئے انتہائی بدنام ہے۔ اسی طرح گائے کے تحفظ، لو جہاد، جبرا تبدیلی مذہب، مسجد کی غیر قانونی تعمیر وغیرہ کے بہانے اتر پردیش میں مسلمانوں پر وسیع پیمانے پر حملے ہورہے ہیں تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن کیا جاسکے اور لوگوں کے فرقہ وارانہ ذہنیت کو تراشا جاسکے۔ یوگی کے دور حکومت میں دلتوں اورآدی واسیوں پر بھی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بل کو تجویز کرکے یوگی حکومت اپنے ناکامیوں کولوگوں کے ذہنوں سے ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کو امید ہے کہ اتر پردیش کے عوام یوپی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف واضح مینڈیٹ دیکر یوگی کی اس عوام دشمن حکومت کا خاتمہ کریں گے۔