یوم جمہوریہ :جمہوری اقدارکی حفاظت کا یومِ عہد

29

ایک منظر !
خوشیوں بھرا منظر
پل پل آنکھوں میں بھرا منظر
تاریخ پھر سے بدل رہی تھی
ظلم کی دیوار ڈھل رہی تھی
سورج طوع ہو رہا تھا نیا
اور دنیا بھر سے بدل رہی تھی !!
گویا ہر طرف ایک شور تھا
جو گزر گیا وہ شہ زور تھا
ستارے سبھی ٹوٹ کر گر رہے ہیں
وفاؤں کے آذر پھوٹ کر گر رہے ہیں
سکندر قلندر سبھی منتظر ہیں
پرندے سبھی پروں کو پھیلا ئے
نئے آسماں کے منتظر ہیں
اندھیر ی رات اب شاید جانے کو ہے
نیا اجالا اب تو آنے کو ہے
آغاز پھر سے ہو نئے گیت کا
شہر ایک نیا ہو نئے ریت کا
حقیقت یہی ہے وہ ایک خواب تھا
خطرناک وادی ایک سراب تھا
تاریخ کا ایک زرد باب تھا
جس میں خون انساں آب تھا !!
(غیر مطبوعہ )