بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتیوم جمہوریہ؛یوم عہد

یوم جمہوریہ؛یوم عہد

مولانا محمد منہاج عالم ندوی، امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

26/جنوری کی تاریخ کو یوم جمہوریہ سے تعبیر کیا جاتاہے،جس کی ایک طویل تاریخ ہے،جب غیر منقسم ہندوستان انگریزوں کی غلامی کے طوق تلے دبا ہوا تھا،یہاں کے باشندے انگریزوں کے زیر نگیں تھے،ان پر ان کے فرامین و احکامات بجالانا لازمی اور ضروری تھا جس سے راہ فرار ممکن نہیں تھا اور ایک انسان آزاد پیدا ہونے کے باوجود محکوم بنا ہوا تھا، ان کو اپنی مرضی اور خواہشوں کو بروئے کار لانا سنگ میل کو عبور کرنے سے کچھ کم نہ تھا،برادران وطن ہوں یا مسلمان،سکھ ہوں یا عیسائی سبھی انگریزوں کے زیر سایہ تھے،ان کے فرامین کوماننا اور احکام و قوانین کے سامنے سربسجود رہنا ضروری تھا،اس طرح آزاد رہتے ہوئے بھی بھارت کے لوگ آزاد نہیں تھے، انگریز تجارت کی غرض سے یہاں آئے،اپنے کاروبار چمکائے پھر انتہائی للچائی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور دھیرے دھیرے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد بڑی چالاکی،مکاری اور ہوشیاری سے رکھ دی، یہاں کی حکومت پر اپنا قبضہ اور تسلط جمانے اور باشندگان ہند کو غلام بنایاجانے لگااوربالآخر مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے زمانہ میں سارا کنٹرول اور پاور حاصل کرلیااور ظلم واستبداد کا بازار گرم کرنے لگے تو حضرت شاہ عبد العزیزمحدِّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سن 1803 میں ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دے دیا،جس نے انگریزوں کے دانت کھٹے کردیے اور ان کا جینا دوبھر کردیا، جس کے بعد یہاں کے علماء نے دارالحرب میں رہنا گوارہ نہیں کیا،پھر علماء کرام توکیاعوام اور مسلمانان ہند نے بھی انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا،لوگ کھل کر میدان جہاد میں کود پڑے اور حقیقی معنوں میں یہی وہ فتویٰ ہے جس نے ہندوستان سے انگریزوں کو بھگانے کا رخ دیا اورانگریزوں کو ملک چھوڑ جانے پر مجبور ہونا پڑا،ہاں! مگر یاد رہے کہ انگریزوں کو ہندوستان سے دربدر کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی بلکہ اس طرح کی کوشش 1754سے ہی شروع ہوچکی تھی اور نواب علی وردی خان نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی یہ پہلی اور آخری لڑائی تھی جس میں نواب علی وردی خان کی جیت ہوئی اور انگریزوں کو شکست سے دوچارہونا پڑا،مگر انگریزوں نے ہار نہیں مانی، بدلہ کی چنگاری ان کے اندر شعلہ جوالہ بن کر ابھرتی رہی؛ جس کے لیے انہوں نے اپنی تدبیریں جاری رکھیں بالآخر 1757 میں نواب سراج الدولہ کی فوج سے انگریزوں کی مڈبھیڑ ہوئی جس میں اپنوں کی غداری کی وجہ سے ہار کا سامنا کرناپڑا،دراصل میر جعفر،میر صادق اور پوری کمانڈو نے انگریزوں سے خفیہ معاہدہ کرلیاتھا؛خاص کر میر جعفرنے جوکہ نواب سراج الدولہ کا ماموں تھااوران کی حکومت میں وزیر اعظم جیسے اعلی عہدہ پربراجمان بھی تھا، انہوں نے انگریزوں سے مکمل ساز باز کر لیااور پھر ان جیسے ہزاروں،لاکھوں کمانڈروں اور فوجوں نے منافقت وسبائیت کا ایساشرمناک طریقہ اختیار کیاجو تاریخ کے صفحات پر ایک نہایت ہی گھٹیا اور بد نما داغ ہے،ان لوگوں کی غداری کی وجہ سے نواب سراج الدولہ کو نہ صرف یہ کہ ہار کا سامنا کرنا پڑا بلکہ جام شہادت سے بھی سرفراز ہوئے، یہ معاملہ سن1757 کا ہے یعنی 1857سے سوسال قبل کا؛جبکہ اس کے بعد بھی مختلف جگہوں پر 1762/ 1763/1764 میں جنگیں ہوئیں، مونگیر اوربکسر کی جنگ سے کون واقف نہیں؟اور پھر 1834 میں علماء صادق پور کا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جسے فراموش کر دیا گیا،جنہوں نے اپنے آخری قطرے تک کو وطن کے لیے بہادیااورخاک وطن کو اپنے خون سے لالہ زار بنادیا جس کی گواہی وطن کا ایک ایک ذرہ دے گااوران کی مٹی سے بھی وطن سے محبت کی خوشبو آئے گی،جیساکہ شاعر نے کہا:
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
یہ سارے واقعات وحقائق ہم سے چھپائے جاتے ہیں اوریہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ بڑی شدومد ہے کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ سن 1857 کی جنگ ہی پہلی جنگ آزادی ہے،اس کے پیچھے ایک راز پنہاں ہے کہ1857 میں دہلی کے اندر جوجنگ ہوئی وہ درحقیقت کلکتہ سے شروع ہوکر میرٹھ تک پہونچی پھر دلی میں بہادر شاہ ظفر کی قیادت اوران کی سرپرستی میں لڑی گئی جو مسلسل تین روز تک چلی جس میں انتیس ہزارہندوستانیوں نے جام شہادت نوش کیا جس میں چوبیس ہزار مسلمان اور پانچ ہزار برادران وطن نے شرکت کی،جن شہدا کے اسماء دہلی کے انڈیا گیٹ پر کندہ ہیں،ظاہر ہے یہ پہلی بار ہوا جب ہندؤں نے قابل لحاظ تعداد میں اپنی قربانی دی اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی جنگ آزادی ہے۔
غرضیکہ ایک لمبی لڑائی کے بعد 15/اگست 1947 کو ہمارا ملک ہندوستان انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوا اور لوگوں نے راحت و چین کی سانس لی مگر ابھی بھی ملک پر برطانوی سامراج کا بنایا ہوا قانون نافذ العمل تھا،اب ملک کو چلانے کے لیے الگ سے ایک نئے قانون اور دستور کی ضرورت تھی جسے بنانے کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان نے مجلس دستور ساز کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے صدر مشہور مجاہد آزادی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر منتخب ہوئے،اس دستور کے بننے میں مکمل تین سال لگ گئے اور پھر جب بھارت کا آئین بن کر تیار ہوا اور مجلس دستور ساز نے26/نومبر 1949 کو تسلیم کر لیا تو26/جنوری 1950 کو اسے نافذ کردیا گیا اور 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کو بدل کر یوم جمہوریہ کا نام دیا گیا، یہی اس ملک کی خوبصورتی اوراسکے ماتھے کا جھومر کہلائی اور یہاں کی گنگا جمنی تہذہب کا آئینہ دار ثابت ہوئی،اس آئین میں جمہوریت کے بنیادی،سیاسی نکات اورحکومتی اداروں کے ڈھانچے،طریقہ کار اختیارات وحدود اورذمہ داریاں، نیز یہاں کے ہر شہری کو برابر کے حقوق دیے گئے،اس کو اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی نشرواشاعت کی مکمل آزادی دی گئی،یہاں کے آئین اوردستور کی یہی خوبی ہے جو اسے دیگر ملکوں سے ممتاز بناتی ہے، مگر آج جب ہم اپنے ملک کواس کی اصل روح آئین ہند کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو یہ باتیں آشکارا ہوتی ہیں کہ اس کے قوانین کاغذ کے گلدستوں کے مانند ہیں؛مگر خوشبو نایاب ہیں،اقلیتی طبقات کے لوگوں کو خوف وہراس کے ماحول میں مبتلا کیاجارہاہے،ان کوظلم وتشدد کا نشانہ بنایاجاتاہے،کبھی گؤ کشی کے نام پر توکبھی چوری کاالزام لگاکر بھیڑکے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار دیاجاتا ہے،وہ کہیں پر بھی پوری طرح مامون نہیں ہیں،آج ٹرین میں سفر کرتے وقت ہمیشہ یہ خوف ستا تارہتا ہے کہ نہ جانے کب کون سا سانحہ پیش آجائے، ان کو طرح طرح سے نشانہ بنایاجاتاہے،ان کی آزادی میں رخنہ ڈالا جارہاہے،چاہے گھر واپسی کا مسئلہ ہو یا لوجہادکا،اسکول میں سوریہ نمسکار کا معاملہ ہویاسرسوتی وندنا پر زور،وندے ماترم پر اصرار ہو یامسلم معاشرہ میں یوگاکورواج دینے کی بات،طلاق ثلاثہ اور تعدد ازدواج کامسئلہ ہو یاعائلی اور پرسنل لاکا نظام،اسکولوں سے مسلم بچیوں کو صرف اس لیے باہر نکال دیاجاتاہے کہ وہ حجاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں، تو کبھی ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے جاتے ہیں،قانون سے کھلواڑ کیا جارہا ہے طرفہ یہ کہ ان کی شہریت پر سوالیہ نشان کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی جن کے آباؤاجداد نے ملک کی خاطر تخت دار کو چوم لینا گوارہ کیا اور پھانسی کے پھندے کو گلے سے لگا گر راہ وطن میں آنے والی ہر آندھی اور طوفان بلاخیزسے ٹکڑاگئے مگر ہار نہیں مانی اورکسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ بسمل عظیم آبادی کا یہ شعرگنگناتے رہے
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
الغرض ہمارے بزرگوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھ کر اس کی آئین کو مرتب کیا تھا افسوس! ہمار ا یہ ملک ان بزرگوں کے دکھائے ہوئے راستے اوران کی ڈگرسے ہٹتاچلا جارہاہے،گویا جمہوریت کا نظام چرمرارہاہے جو کہ اس ملک کے باشندوں کے لیے تشویش کا سبب بنا ہواہے۔اس لیے آئیے ہم سب یوم جمہوریہ کی مناسبت سے مل کرعہد کریں کہ بابا صاحب امبیڈکر نے ہمیں جو قانون دیا ہے اور جویہاں کی سنسکرتی،ریت رواج اورگنگاجمنی تہذیب رہی ہے اس کی اسی طرح حفاظت کریں گے جیسے کل ملک کی حفاظت میں ہمارے اجداد سینہ سپر تھے؛ کیوں کہ اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے،بلکہ ہمیں حلف لینا چاہیے کہ جب تک ہمارے دم میں دم ہے اس ملک کی جمہوری نظام کو باقی رکھنے اوردستوری حقوق کی بالادستی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ملک کی تاریخ سے چھیڑ چھاڑکو برداشت نہیں کریں گے اوریہاں سے غربت وافلاس،جہالت و ناخواندگی کی تاریکی کو دور کرکے علم کی دیا جلائیں گے اورپورے ملک میں روشنی بکھیریں گے اور امن وشانتی،چین وسکون اوراتحاد بحال کرکے ایک بار پھر ملک کو سونے کی چڑیا بنائیں گے۔جگر مرآدابادی نے کہا تھا
چمن کے مالی اگر بنالیں موافق اپنا شعار اب بھی
چمن میں آسکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے