یوم جمعہ بمناسبت “کرسمس ڈے” پر خاص

57

دشمنانِ دین کی ریشہ دوانیوں کو دین کا حصہ مت بننے دیجئے!

محمد قاسم ٹانڈوی

کہتے ہیں کہ: “ہر چیز کا ایک حقیقی حسن ہوا کرتا ہے تاکہ وہ چیز اس حسن حقیقی کے موجود ہوتے ہوئے اپنی افادیت اور معنویت میں جہاں ایک گوناں نکھار لانے والی ثابت ہو وہیں اس کا وہ حسن اس چیز کی دوبالگی اور بلندی میں مسلسل اضافہ کا سبب بھی بنتا ہو”۔

اللہ پاک نے ہمیں جس دین اسلام سے نوازا ہے، وہ ایک کامل و مکمل دین اور نظام حیات کو مشتمل عین فطرت کے مطابق دین ہے، جو ہمیں واسطہ در واسطہ ہمارے اکابر و بزرگ اور حقیقی معنی میں اس دین کی آبیاری کرنے والے آئمۂ مجتہدین کے طفیل حاصل ہوا ہے، بالخصوص دربار نبوت و رسالت کے آفتاب و مہتاب اور جبال علم و عمل شخصیات الملقب بہ حضراتِ صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی ہمہ جہت شخصیات کے سر اس کا سہرا سجتا ہے، اس لئے کہ ان کے بےپناہ فضل و کرم، دولت بےبہا اور نعمت الہی کی رسائی ہم تک ہوئی. سرکار امم کے شیدائی اور دربار نبی کے ان فدائیوں کی طرف سے کی جانے والی اولین کوششوں کا مطمح نظر یہی ہوتا تھا کہ دین محمدی ﷺ کا وہ سرمایہ اور ذخیرہ جو ہمیں حضور پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات بابرکت سے موصول ہوا ہے وہ ذخیرہ اس نبی آخر کی آخری امت کے ہر ہرفرد اور ہر ہرشخص تک اسی اصل رنگ ڈھنگ اور اسی شکل و صورت میں پہنچ جائے جس کےلئے بارگاہ الہی نے اپنے محبوب و برگزیدہ پیغمبر (ﷺ) کی درسگاہ عالی کےلئے ان نفوس قدسیہ کا انتخاب فرمایا تھا.

واضح رہے کہ قادر مطلق اور علام الغیوب کے ذریعے پیدا کردہ اس وسیع و عریض کرۂ ارض پر نہ جانے کتنے طبقات و جماعت سے وابستہ انسانوں نے جنم لیا، جن میں سے بعض پیشے سے نامی گرامی ہوئے تو بعض ماہر علم و فن اور ہر فن مولا بھی؛ مگر وہ سب اپنی اپنی جانوں کو اپنے اپنے مشاغل میں کھپا سب اپنی ہستیوں کو مٹا کر وقت موعود پر اس بھرے پرے جہان سے رخصت ہو گئے اور آج ان کا کوئی نام لیوا تک نہیں ملتا، یہاں تک کہ گردش زمانہ نے ان کے نشانات قدم تک کو صفحۂ تاریخ سے نوچ ڈالا اور بے نام و نشاں کر دیا۔ مگر سو جان سے قربان جاؤں ! کہ اس کائنات کو وجود بخشنے والی ایک ذات اقدس کے حضور دست بہ دعا ہوں کہ:

“اے پاک پروردگار عالم! تو ہزاروں ہزار رحمتیں نازل فرما ان سبھی کے مرقدوں اور آرام گاہوں پر کہ جنہوں نے اس دین کی ترسیل بہ زبان تسہیل اپنے بعد آنے والی نسلوں اور پیڑھیوں تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ اور کسر نہ چھوڑی اور ذات نبوت سے نکلنے والی نبوی شعاؤں سے سیراب ہوکر، اپنے دامن کو نادر و نایاب علمی آبگینوں سے لبا لب بھر کر اپنی عملی کرامات سے امت کو بہرہ ور فرما گئے، نیز ایسے ایسے بےمثال کارنامے انجام دئے کہ اگر رہتی دنیا ان کے ذریعے انجام دئے گئے کارہائے نمایاں کو مرتب و یکجا کرنا چاہے اور ثابت شدہ علمی مواد کی ورق گردانی کرنا چاہے تو شاید کہ ان کے اس عظیم احسان سے امت سبکدوشی حاصل کر پائے، اور شکریہ ادا کر پائے؟

قارئین کرام! یہ تاریخ اسلام کے وہ معزز و مکرم، اولوالعزم اور باوقار و باکردار ہستیاں تھیں، جن کی مثال و نظیر نہ تو ماقبل اسلام ملتی ہے اور نہ مابعد اسلام ان کا کوئی ثانی نظر آتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ سب خصوصیات و افضلیت انہیں حضرات صحابہ کرام اور زمانہ خیر القرون سے تعلق رکھنے والوں کا مقدر و نصیبہ تھا جن کے اوپر ایسا خاص فضلِ الہی سایہ فگن ہوا اور وہ سب اسی ابرِ رحمت سے سیراب ہوئے، جن کو باری تعالی نے مختص کر رکھا تھا، جس کو یہ حضرات اپنے ساتھ لکھا کر اس دنیا میں فروزاں ہوئے تھے. جن کے علم و عمل، اخلاق و کردار، اخلاص و للہیت، تقوی و طہارت اور وفا شعاری کی حالت یہ تھی کہ دنیا آج بھی ان کو سلام پیش کرتی ہے؛ باوجودیکہ انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے ایک ہزار سال سے بھی زائد کا عرصہ بیت گیا مگر آج تک نہ ان کی عظمت و رفعت میں کمی آئی اور نہ ان کے کردار و اخلاق سے دنیا والوں نے انکار کیا۔ الغرض یہی وہ خاص وجوہات تھیں جو ان مذکورہ ہستیوں کو ‘ماسوائے انبیاء و رسل’ دیگر تمام انسانوں سے ممتاز اور جدا کرتی ہیں. اس لئے کہ ان حضرات نے اپنے محبوب اور رسول برحق کی ایک ایک صدا کو سن کر اس پر اپنی جان کو نچھاور کرنا اور ایک ایک ادا کو دیکھ کر اسے اپنے ایمان کی تکمیل کا اہم سبب جو گردانا تھا اور سب سے بڑھ کر دین اسلام کی روشن تعلیمات اور واضح احکامات پر مکمل طریقے سے عمل آوری کو اپنے لئے حرزجاں سمجھا تھا- جس کی صداقت و حقیقت کے سامنے وہ دنیا ومافیہا کی قیمتی سے قیمتی شئی کو بھی اپنی بالغ و دوررس نظروں میں حقیر و ذیل اور بےحیثیت سمجھ بیٹھے تھے. تحریک اسلامی کی اس سب سے پہلی مقدس جماعت سے وابستہ ہر فرد کا جذبۂ صادق اور شوق کامل کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا اصل مقصد اور مدعی صرف اس شعر مذکور کے مصداق ٹھہرا رکھا تھا، کہ:

“میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی”۔

چنانچہ دنیا والوں نے نہ صرف اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا بلکہ جب انہوں نے تاریخ عالم کا مطالعہ کیا تو اس دوران پایا کہ تاریخ کی ان معزز و مکرم ہستیوں نے ‘جن کی فہرست یہاں طوالت کا باعث ہوگی’ کہ انہوں نے پے بہ پے آنے والے حالات کا سینہ سپر ہوکر پہلے تو سامنا کیا اور بعد میں ان سے رستگاری اور چھٹکارا پایا؟ جن کی جوانمردی اور ہمت و شجاعت کو دیکھ کر دنیا والے یہ کہنے پر مجبور و معترف ہوئے کہ یہ انہیں حضرات کے دل جگر اور پختہ اعضاء و جوارح تھے جو انہوں نے ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کی سختیاں برداشت کیں، روٹی، کپڑا اور مکان جیسی ضروریات کو پس پشت ڈالا اور اہل خانہ کو بےیار و مددگار چھوڑ کر دین اسلام کی حقانیت اور شریعت مطہرہ کے نفاذ کی خاطر تند و تاریک حالات کا مقابلہ کرنے میں بھی دریغ نہیں کیا۔ اس واسطے انہیں نہ تو رات و دن کے راحت و آرام کی فکر نے ستایا اور نہ وہ اپنے اہل و عیال کی محبت میں گرفتار ہوئے. ان کے لئے اپنے والدین، اعزا و اقارب اور ہمسایوں کی جانب سے برتی جانے والی بےرخی، بےاعتنائی اور آئے دن پیش آنے والے خطرات کو نظر انداز کرنا آسان کام اور اپنے تمام تر رنج و غم، نفع نقصان کا گمان حاشیئہ خیال سے محو کرنا سہل تر کام تھا مگر ان کو اپنے چہیتے رسول عربی ﷺ کا “فرمان” اور جان سے بھی عزیز ترین شئی “ایمان” کا سودا کرنا یا اسلامی احکامات اور قرآنی تعلیمات میں ذرہ برابر بھی تحریف و تبدیلی ہوتے دیکھنا گوارا نہ تھا. جن کو اپنے نزدیک تن من دھن سے بھی زیادہ محبوب شئ اگر کوئی نظر آتی تھی تو وہ اسی دین حق اور شریعت محمدی کی پاسداری و آبیاری کرنا اور دوسروں تک اس کی رسائی کرنا نظر آتا تھا. اس کےلئے چاہے کتنے ہی آلام و مصائب جھیلنے پڑیں، کتنے ہی دشوار گزار لمحات اور مشکل اوقات کا سامنا کرنا پڑے، وہ سربلند سربکف حضرات ان تمام اسباب و عوامل کے عواقب کے پس منظر سے ماورا تھے ان کے اذہان و قلوب پر تو ہر آن ہر لمحہ بس یہی دھن سوار رہتی اور یہی فکر ان کو ہمیشہ دامن گیر رہتی تھی کہ دربار نبوتؐ اور سرکار رسالتؐ سے جو دین مبین بشکل وراثت انہیں حاصل و میسر ہوا ہے، جس کو پیغمبر اسلام نبی آخرالزماں حضرت محمد (مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمارے سینوں میں انڈیلا ہے وہ اس بارگراں کو اس کے تمام اجزاء و حصص کی بھرپور حفاظت اور پوری امانت و دیانت کا خیال کرتے ہوئے اس کی اولین شکل و صورت کے ساتھ اپنے بعد آنے والوں کو منتقل کر دیں اور اور ان کے حوالے کر دیں جن کے ہاتھوں میں پہنچ کر وہ صحیح سلامت بھی رہے اور اس کے اصلی معنی و مفاہیم کو فروغ دینے کی خاطر خود کو صبح و شام اسی کی حفاظت و صیانت میں کد و کاوش، انتھک محنت اور بےغرض و بےلوث خدمات کی انجام دہی میں مشغول و مصروف رکھیں، تاکہ دنیا کے دیگر ادیان و مذاہب میں ہمارے اس دین متین کی حقانیت اور برتری بھی مسلم رہے اور اس دین متین پر عمل پیرا ہونے والے دیگر قوم و ملل کے لئے رہبر و راہنما بھی قرار پائیں.

مگر افسوس ایک تو مرور زمانہ یعنی اپنے دین، اپنے قرآن اور اپنے رسول پاک کی روشن تعلیمات سے دوری کی وجہ سے اور دوسرے گردش زمانہ یعنی اس مادی دنیا کی چکاچوند میں قدم رکھ کر آج کا بھٹکا ہوا نوجوان دوسروں کی دیکھا دیکھی اور من مانے طور پر زندگی گزارنے کا عہد و پیمان لینے والا، باطل و ناحق ادیان کو ترجیح دینے لگا، اس دوران اسے نہ تو حقانیت پر مبنی اپنے دین و مذہب کا کچھ پاس خیال ہے اور نہ اپنی آخرت کی زندگی کی کچھ فکر دامن گیر رہی، وہ ہمسایوں کی دعوت اور ماحول کی رنگینی سے مرعوب ہو کر سر تا پیر عقیدہ توحید و رسالت کے منافی منعقد ہونے والی تقریبات کا حصہ بنتا گیا، اسے بلا کسی تردد و تذبذب اس میں شرکت کرنا لازمی سمجھتا گیا اور یہود و نصاری کی طرف سے خود ساختہ طور منعقد کی جانے والی تقریبات و محافل کا حصہ بنتا چلا گیا۔ انہیں تقریبات میں سے ایک تقریب ہے، جو عیسائی مشنری کی طرف سے عیسوی سال کے اواخر میں سیدنا حضرت عیسیؑ کے یوم ولادت سے منسوب کرکے 25/دسمبر کو منعقد کی جاتی ہے؛ جسے ان کے یہاں “کرسمس ڈے” کے عنوان سے جگہ جگہ (چرچ، ڈانس کلب اور ہوٹل یا پارک میں) منایا جاتا ہے. اس کے بعد وہاں “خدائے وحدہ لاشریک لہ اور پیغمبر اسلام نبی آخرالزماں” کے اخلاق و کردار پر زبانی حملہ کرکے جس انداز سے کردار کشی کی جاتی ہے “الامان والحفیظ”، جہاں عقیدہ توحید کے خلاف پرجوش تقاریر کرکے لوگوں کو گمراہ کئے جانے کا عمل سال بہ سال دہرایا جاتا ہو، جہاں دیگر انبیاء کرام جیسے ہی ایک نبی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور لڑکا ثابت کئے جانے کی ناپاک کوششیں کی جاتی ہوں، اور تو اور سال نو کے آغاز پر جب گھر دوکان اور بازاروں کو رنگ برنگے قمقموں سے سجایا جاتا ہے، اس رات کو “نائٹ کلب” میں گزار نے کے مختلف حیلے بہانے تلاشے جاتے ہوں اور پاکیزہ ماحول کو شرانگیزی، بدتمیزی، بدتہذیبی، بدامنی اور بےحیائی کی لعنت سے بھر دینے کی کوششیں کی جاتی ہوں، وہاں آج کا یہ بھٹکا ہوا نوجوان بڑے طمطراق اور بھرپور جوانی کے عالم میں ڈوب کر گزارنا پسند کرتا ہے اور جو دین دار صاحب علم کوئی اس کو ان لعنت زدہ جگہوں پر جانے سے روکتا ہے یا اس کی خیر خواہی چند الفاظ پر مشتمل رائے کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس کی نظروں میں فرسودہ خیالات اور دقیانوسی سوچ کا حامل ٹھہرایا جاتا ہے، اور پھر قرآن و حدیث کو چودہ سو سال قدیم روایات کے فضول مجموعہ قرار دے کر (نعوذ باللہ) اس میں بھی حالات زمانہ کے موافق رد و بدل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ جو سراسر عقیدہ توحید کے منافی اور شریعت مطہرہ کے ساتھ ناانصافی اور خیانت پر مبنی عمل ہے۔ ہماری شریعت سابقہ شریعتوں کےلئے ناسخ اور پوری انسانیت کی فوز و فلاح کی ظامن ہے، جس کی بنیادی تعلیم ہی یہ ہےکہ: کوئی بھی بشر اس وقت تک محبوب خدا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ایک معبود کا عبادت گزار اور رسول برحق کی تعلیمات کا مطیع و فرمانبردار اور رازدار نہ ہو جائے، نیز ان تمام رسم و رواج اور بدعات و خرافات کا منکر نہ ہو جائے جن کو دشمنان دین نے سوچی سمجھی سازش اور دانستہ طور پر ہمارے دین کا حصہ بنا ڈالا ہے۔