یتھین گیس فضا میں صرف ٩ سال تک ہی موجود رہتی ہے مگر اس میں گرمی بڑھانے کی طاقت کاربن ڈائی آکسائڈ کے بالمقابل 28 گنا زیادہ ہوتی ہے

33

موسمیاتی بحران سے لڑنے کے لئے میتھین کے اخراج میں تخفیف بیحد ضروری

میتھین گیس فضا میں صرف ٩ سال تک ہی موجود رہتی ہے مگر اس میں گرمی بڑھانے کی طاقت کاربن ڈائی آکسائڈ کے بالمقابل 28 گنا زیادہ ہوتی ہے

رپورٹ: نشانت سکسینہ
ترجمہ: محمد علی نعیم

 

موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے حال ہی میں جاری آئی پی سی سی کی رپورٹ میں پہلی بار کم وقت تک وجود میں رہنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے موسمیاتی بحران کو فروغ دینے میں اہم کردار پر ایک باب کو شامل کیا گیا ہے
ایسے میں، جبکہ کھیتی،فضلہ اور کوئلہ کانکنی میتھین کے اخراج کے سب سے بڑے ذرائع ہے، میتھین کے کردار پر بحث دلچسپ اور ضروری ہوجاتی ہے
گلوبل وارمنگ کے تقریباً چوتھائی حصہ کے ذمہ دار ہونے کے باوجود پالیسی سازوں نے میتھین گیس کے اخراج کو کافی حد تک نظر انداز کیا ہے مگر آئی پی سی سی کی اس رپورٹ میں میتھین پر مبنی نئی سائنس کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس میں اس حقیقت کو تلاش کیا گیا ہے کہ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے اخراج میں تخفیف کرکے کس طرح ہم سال 2040 تک عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو 0.3 ڈگری سیلسیس تک کم کرسکتے ہیں
یاد رہے کہ ہم عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے ڈیڑھ ڈگری سیلسیس والے ہدف کی خلاف ورزی کرنے کے بیحد قریب پہنچ گئے ہیں، ایسے میں اس میں 0.3 ڈگری سیلسیس کی کمی بہت اہم ہوسکتی ہے ، رپورٹ میں وہ راستے بھی بتائے گئے ہیں جنکے ذریعے ہم آلودگی کے عناصر کے اخراج کے سب سے زیادہ ذمہ دار تین شعبوں زراعت، جیواشم ایندھن اور فضلہ میں اس ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں
انسانوں کے ذریعے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی رفتار پکڑ رہی ہے. صنعتی دور سے پہلے ‌کی مدت میں دنیا میں پائی جانے والی ہر قسم کی گرمی کے لئے یہی اخراج ذمّہ دار ہے، جنمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے, CO2 کے بعد میتھین CH4 موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا محرک ہے

کیا ہے پریشانی کی وجہ؟

یہ گیس فضا میں صرف 9 سال تک رہتی ہے مگر اس میں گرمی بڑھانے کی طاقت 100 سالوں کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بالمقابل 28 گنا زیادہ ہوتی ہے
میتھین کی مرکزیت 1980 کی دہائی کے کسی بھی وقت کے بالمقابل اب زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ صنعتی دور سے قبل کی سطح کے مقابلے ڈھائی گنا سے زیادہ کی سطح تک پہنچ رہا ہے ، یہ آئی پی سی سی کے ذریعے AR5 میں بتائی گئی محفوظ حد سے کافی زیادہ ہے، میتھین اسوقت گلوبل وارمنگ کے تقریباً ایک چوتھائی حصہ کے لئے ذمّہ دار ہے اور اس کی وجہ سے ہم عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کے اپنے ہدف کی خلاف ورزی کرنے کی کگار پر پہنچ چکے ہیں، وارمنگ کی مقدار کو تیزی سے کم کرنے اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے لئے انسانوں کے ذریعے خارج ہونے والی میتھین میں تخفیف ہی سب سے کفایتی راستوں میں سے ایک ہے

کونسے شعبے کرتے ہیں میتھین کا اخراج ؟

میتھین کا اخراج قدرتی وسائل جیسے گیلی زمین سے ہوتا ہے مگر دنیا بھر کے میتھین اخراج کا آدھے سے زیادہ حصہ انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے، انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے خارج ہونے والی میتھین گیس کے زیادہ تر حصہ کے لئے تین شعبے کھیتی (40 فیصد) جیواشم ایندھن (35 فیصد) اور فضلہ (20 فیصد) ذمہ دار ہے، کھیتی کے کاموں سے پیدا شدہ میتھین گیس کا تقریباً ایک تہائی حصہ (32 فیصد) مویشی پیداوار سے ہوتا ہے، جیواشم ایندھن کے ذریعے خارج کل میتھین گیس کا 23 فیصد حصہ تیل اور گیس کی تلاش،پروسیسنگ اور تقسیم کی وجہ سے ہوتا ہے وہیں اس میں کوئلہ کانکنی کا کردار 12 فیصد ہے ، فضلہ کے علاقے سے نکلنے والی میتھین گیسوں کا بیس فیصد حصہ لینڈ فل اور گندے پانی سے پیدا ہوتا ہے

کیا ہوسکتا ہے حل؟

اس مشکل کے حل کے لئے متعدد کفایتی حل پہلے ہی سے موجود ہے جیسے کہ قدرتی گیس کے فراہمی سلسلے سے ہونے والے اخراج کو کم کرنا، ٹھوس فضلہ کو بہتر طریقے سے ضائع کرنا اور مویشی اور فصلوں کے انتظامات کو بہتر بنانا، ان تین شعبوں میں آلودگی کے عناصر کے اخراج میں تخفیف کے متبادل ان بہترین خزانوں کی طرح ہیں جن کے ذریعے آئیندہ تیس سال کے دوران وارمنگ اور موسم پر پڑنے والے اسکے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر جیواشم ایندھن کی صنعت کے پاس سال 2030 تک میتھین گیس کے اخراج میں تخفیف کا بہترین موقع ہے ، اقوام متحدہ کے مطابق تیل اور گیس سے متعلق اقدامات کا 80 فیصد تک کا حصہ اور کوئلے سے متعلق اقدامات کا 98 فیصد حصہ بہت کم یا بغیر کسی قیمت کے نافذ کیا جاسکتا ہے مگر یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان سبھی شعبوں میں ہونے والا اخراج عالمی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے ہدف کے مطابق ہی ہو ، ساتھ ہی ساتھ ان تین شعبوں میں میتھین کے اخراج میں تخفیف کرنے سے سال 2030 تک انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی میتھین گیس کے اخراج میں 45 فیصد تک کمی کی جاسکتی ہے، ایسا ہونے سے سال 2040 کی دہائی تک عالمی درجہ حرارت میں 0.3 ڈگری سیلسیس کے قریب کمی کی جاسکتی ہے، اس سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے میں مدد ملےگی اور 255000 بے وقت اموات اور 26 ملین ٹن فصل کے نقصان کو روکنے میں مدد ملےگی

کیسے ہو پالیسی سازی؟

تیل اور گیس: پیداوار، پروسیسنگ اور تقسیم وغیرہ کے دوران ہونے والی لیکیج کا پتہ لگانے اور اسے روکنے کے لئے مرمت کے اقدامات کو نافذ کرنا، ضائع شدہ گیس کی بازیافت اور اسکا استعمال اور ازخود ہونے والے ایمیشن کو کنٹرول کرنا
کوئلہ: کانکنی سے پہلے ڈیگیسی فیکیشن کے ذریعے مائن میتھین کا بہتر انتظام کرنا، بازیابی اور ویٹیلیشن ائیر میتھین کا آکسیڈیشن اور ناقابل استعمال کوئلہ کانوں میں پانی بھرنا بجلی کی پیداوار کے لئے
رینیوبل: بجلی پیداوار کے لئے ہوا، سولر اور ہائیڈروجن بجلی کے وسیع تر استعمال کو فروغ دینے کے لئے مراعات کا استعمال ،
بجلی کی بہتر‌کارکردگی اور بجلی کی طلب کا نظام: گھریلو استعمال کی چیزوں یا عمارتوں میں بجلی کی کارکردگی کو سدھارنا ، چھت پر شمسی توانائی کے آلات نصب کرنے کو فروغ دینا، صاف توانائی کے متبادل کے تئیں صارفین کی بیداری میں سدھار لانا اور صنعتوں کے لئے بجلی کارکردگی کے معیار کو نافذ کرنا

فضلہ کا انتظام

ٹھوس فضلہ کے نظام میں سدھار: بایوڈیگریڈیبل گھریلو کچرے کی علیحدگی اور اسکو ضائع کرنے کے انتظام کرنا،کسی بھی غیر بایوڈیگریڈیبل/نامیاتی فضلہ کو گھریلو کچرے تک نہ پہنچنے دینا، توانائی کی بازیابی (صنعتی فضلہ) کی ری سائیکلنگ یا ضائع کرنا ،
گندے پانی کے ضیاع کو بہتر بنانا‌: لیٹرین کے بجائے گندے پانی کے ضیاع کے پلانٹ تیار کرنا اور دو درجہ انتظام کو اپگریڈ کرنا جیساکہ بایو گیس ریکوری کے بعد اینیروبک ڈسپوزل
کھپت: بیکار نہ ہونے دینے کے لئے کچرے کو علیحدہ علیحدہ کرکے ریسائکل کریں اور پائیدار کھپت کو اپنائیں

میتھین اور کھیتی: ایسی پریشانی جسکو نظر انداز کیا گیا

کھیتی کے شعبے میں پیدا ہونے والی زیادہ تر میتھین گیس داخلی ابال (جانوروں کے قدرتی نظام ہضم ) کے ذریعے جانوروں کو بڑا کرنے سے پیدا ہوتی ہے، دیگر اہم زرعی وسائل میں لینڈ فل، کچرا اور چاول کی کھیتی شامل ہے
جہاں مختلف ملک کھیتی کو میتھین گیس کے اخراج کے ذریعہ کے طور پر مانتے ہیں وہیں ان میں سے زیادہ تر اس میں کٹوتی کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتے ہیں، سچائی یہ ہے کہ کھیتی سے ہونے والی میتھین گیس کے اخراج کے مستقبل میں بھی جاری رہنے کی امید ہے کیونکہ گوشت کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے خاص طور پر کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں . کھیتی کے شعبے کے بڑے فوٹپرنٹ کو دیکھتے ہوئے موسمیات سے متعلق اہداف کے حصول کے لئے میتھین گیس کے اخراج میں تخفیف کے لئے فوری قدم کا اٹھایا جانا بہت ضروری ہے ، ایک مضبوط دلیل والی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کھانے کی بربادی اور اس کے نقصان میں کٹوتی کرنے مویشیوں کے انتظام کے بہتر کرنے اور کچھ ہی جانور مصنوعات کے استعمال سے آئیندہ کچھ دہائیوں کے دوران ایک سال میں میتھین گیس کے اخراج میں سے 65 سے 80 ملین ٹن کی کمی کی جاسکتی ہے
بڑے پیمانے پر ان اقدامات کے اٹھانے سے انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر پیدا ہونے والی میتھین گیس کی مقدار کو عالمی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس سے کم رکھنے کے مطابق بنایا جاسکتا ہے مگر حکومتوں کو اپنی پالیسیوں کا انتخاب بہت احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگا کیونکہ کچھ ماڈل یہ دکھاتے ہیں کہ فی کلو گرام پروٹین بیحد کم اخراج کے ہدف کو حاصل کرنے میں بڑے پیمانے پر صنعتی کھیتی کا کردار شامل ہوجاتا ہے یہ پریشانی کی اصل وجہ ہے کیونکہ صنعتی کھیتی کے طریقہ کار کے ساتھ متعدد سماجی اور موسمیاتی اثرات جڑے ہوئے ہیں جو مختلف ماڈل میں شامل نہیں ہے اور ان سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوسکتا ہے، اگر ان حقائق کو بھی ساتھ میں لے تو صنعتی کھیتی کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھنے کے ہدف کو حاصل کرنا ناممکن ہوجائے گا
آرگنک کھیتی جیسے کھیتی کے طریقہ کار، جو صنعتی کھیتی سے مختلف ہے، کے ذریعے نہ صرف سبھی طرح کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے میں مدد ملے گی بلکہ کسانوں کی کھاد کی حفاظت اور جنگلاتی تنوع میں سدھار بھی ہوگا