یادوں کے چراغ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب——گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

82

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار واڈیشہ و جھارکھنڈ

دارالقضاء امارت شرعیہ مظفر پور کے سابق قاضی، مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پور کے سابق مہتمم، جامع مسجد پرانی بازار مظفر پور میں جمعہ کے امام و خطیب، استاذ الاساتذہ ، بہترین مقرر حضرت مولانا محمد یعقوب بن محمد قاسم علی بن احمدعلی نے ١٤/نومبر ٢٠٠٧ء کوبعد نماز عصراپنےمکان واقع بنگھرا میں داعئ اجل کو لبیک کہا، وہ ١٦/جولائی ٢٠٠٤ء سے فالج کے زیر اثر صاحب فراش تھے، دوسرے دن بعد نماز عصر جنازہ کی نماز ان کے بڑے صاحبزادہ اور سہرسہ دارالقضاء کے معاون قاضی مولانا محمد یوسف قاسمی نے پڑھائی اور آبائی گاؤں بنگھرا کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، جنازہ میں کم و بیش ایک ہزار لوگوں نے شرکت کی، پس ماندگان میں اہلیہ (جن کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے)کے علاوہ پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیوں کو چھوڑا، سبھی شادی شدہ اور اپنے اپنے کاموں سے لگے ہوئے ہیں،لڑکے لڑکیوں کی صالحیت مولانا کے لیے صدقہ جاریہ ہے، ہزاروں شاگردوں کے علمی مشاغل اور اعمال صالحہ بھی ان کے لیے ترقی درجات کے کام آرہے ہوں گے ؛ کیوں کہ یہ بھی صدقہ جاریہ کی ایک شکل ہے۔
مولانا محمد یعقوب صاحب کی ولادت ١٩٤١ء میں ان کے آبائی گاؤں بنگھرا، دلسنگھ سراۓ موجودہ ضلع سمستی پور میں ہوئی، ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اردو مکتب میں پائی؛ لیکن طبیعت نہیں لگی تو ١٩٥٢ء میں مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں داخلہ کرایا گیا، وہاں مولانا نے مولانا عبد الرحیم اور مولانا عبد الحفیظ رحمھما اللہ سے کسب فیض کیا اور ابتدائی عربی سے ہدایت النحو تک کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد ١٩٥٧ء میں دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، کافیہ سے بخاری شریف تک کی تعلیم یہیں سے حاصل کی، علامہ فخر الدین صاحب رح سے بخاری شریف اور علامہ ابراہیم بلیاوی رح سے ترمذی شریف کا درس لیا، ١٩٦٢ء میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رح کے ایماء پر مدرسہ رحمانیہ یکہتہ موجودہ ضلع مدھوبنی چلے گئے اور تدریسی زندگی کا آغاز یہیں سے کیا، مولانا اختر الزماں صاحب مہتمم مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پورکی تحریک پر١٩٦٢ میں مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم آگئے، ١٩٨٩ء میں نائب مہتمم پھر مہتمم بناۓ گئے۔
جامع العلوم میں دوران تدریس آپ کی صلاحیت، صالحیت کا چرچا عام ہوا، اور جب حضرت مولانا محمود عالم صاحب رح (م ١٤٠٨ھ) مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پورسے سبکدوش ہوکر اپنے وطن چلے گئے تو ضروت محسوس ہوئی کہ مظفر پور دارالقضاء کے لیے کسی دوسرے قاضی کا تقرر عمل میں لایا جائے ؛ چنانچہ حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح کے مشورہ سے ١٣٩٨ھ میں مولانا محمد یعقوب صاحب قاضی شریعت مظفرپور مقرر ہوئے اور درس و تدریس، وعظ و تبلیغ اور جامع العلوم کے کاراہتمام کو سنبھالتے ہوئے آپ نے ١٤٢٥ھ تک کار قضا کو بحسن و خوبی انجام دیا اور علاقہ میں دارالقضاء کی طرف اپنے معاملات و مقدمات کو لانے کی فضا بنائی، جس سے امارت شرعیہ کے کاموں میں بھی وسعت پیدا ہوئی۔
آپ کی نانی ہال بنگھرا ہی میں تھی، نانا کا نام گجراتی میاں تھا ، ١٩٦٣ء میں آپ کی شادی موضع کانچا ضلع سمستی پور
میں محمد رضی الدین صاحب (م ٢٠٠٤ء) کی دختر نیک اختر سے ہوئی، اس رشتہ میں اللہ نے بڑی برکت دی، اہلیہ مرحومہ نے فراخی، و تنگی، یسرو عسرہر حال میں آپ کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت کا کام انجام پذیر ہوا، اور آج سب بر سر روزگار ہوکر اچھی زندگی گذار رہے ہیں۔
مولانا رح اصلا درس و تدریس اور وعظ و خطابت کے آدمی تھے،وہ کتاب سازی سے زیادہ رجال سازی کے قائل تھےتصنیف و تالیف کی طرف انکی رغبت نہیں تھی، اس لیے مولانا نے اپنی کوئی تصنیف نہیں چھوڑی، صرف دوران درس حضرت مولانا فخر الدین صاحب رح کی بخاری شریف کی تقریر کو ضبط تحریر میں لانے کا کام کیا تھا، ان کے نامور صاحبزادگان اس مجموعے کو مرتب کرکے شائع کرادیں تو حضرت مولانا فخر الدین صاحب کے درسی افادات بھی محفوظ ہوجائیں گے اور مولانا محمد یعقوب صاحب رح کی ایک تحریری یادگار بھی باقی رہ جائے گی۔
مولانا مزاجاً، متواضع، بذلہ سنج اور ہنس مکھ انسان تھے، انہیں متون کی تفہیم اور عربی عبارتوں کی تشریح و توضیح میں خصوصی مہارت حاصل تھی، ان اوصاف کی وجہ سے ادق کتابوں کے سبق میں طلبہ کو خشکی کا احساس نہیں ہوتا تھا اور تقریریں زعفران زار ہوا کرتی تھیں۔ایک زمانہ میں مظفر پور کی مجلس میلاد کے وہ واحد مقرر تھے۔دور دراز کے جلسوں میں بھی ان کی اصلاحی تقریریں پسند کی جاتی تھیں۔
مولانا محمد یعقوب صاحب سے میری دید و شنید کب ہوئی، مجھے یاد نہیں ،غالب گمان یہ ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ بنگھرا میں دیکھا تھا، میرا بنگھرا آنا جانا کثرت سے ہواکرتا تھا، اس زمانہ میں میرے مشفق کرم فرما حضرت مولانا خلیل الرحمٰن صاحب رح قابل پوری ویشالوی مدرسہ فیض العلوم میں استاذ تھے، بعد میں صدر مدرس بنے، میں نے ان کی توجہ سے ہی فوقانیہ اور مولوی کا امتحان مولوی عبد الاحد صاحب کے قائم کردہ مدرسہ، فیض العلوم سے دیا، میرا پچپنہ تھا اور طالب علموں کا بڑے سے گھلنا ملنا اس زمانے میں آج کی طرح نہیں ہوتا تھا، ایک فاصلہ بڑے چھوٹے کا چلنے پھرنے،اٹھنے بیٹھنے، بولنے چالنے میں رہا کرتا تھا، مولانا سے میری ملاقات یہاں ضرور ہوئی ہوگی؛ لیکن عمر اور منصب کے فاصلوں نے یہاں قربت کا موقع نہیں دیا،
مولانا اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے، مولانا مرحوم کے دو اور بھائی مفتی عبد الشکور صاحب سابق قاضی شریعت ضلع ویشالی نیزسابق استاذ مدرسہ احمدیہ ابابکر پور اور پروفیسر عبد الغفور شمس بھی اسی خاندان کے نامور فرزند ہیں، اس گاؤں کو شہرت دینے میں ان تینوں بھائیوں کی علمی رفعت اور عملی کاوش کا بڑا دخل ہے، اس عملی کاوش نے اس علاقے کو بدعات و خرافات، رسومات و اوہام اور جاہلانہ طور طریقوں سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، اب تو یہاں علماء کی بڑی تعداد ہے، ندوی قاسمی فضلاء بساط علم و فضل پر چھائے ہوئے ہیں؛ لیکن اس زمانہ میں صرف مولوی عبد الاحد صاحب رح کا قائم کردہ مدرسہ تھا جو علم کے چراغ کو روشن کر رہا تھا، بعد میں چراغ سے چراغ جلتے گئے اور یہ پورا علاقہ اب بقعہ نور بنا ہوا ہے۔
میں نے جب دیوبند سے فارغ ہو کر تدریسی زندگی کا آغاز کیا تو اس تعلق میں مزید استحکام ہوا، کیونکہ میں دارالعلوم بربٹہ موجودہ ضلع سمستی پور میں پڑھاتا تھا ، مولانا خلیل الرحمٰن صاحب موسری گھراری چوک پر رہتے تھے اور بنگھرا وہاں سے قریب تھا، اس لیے موسری گھراری تو پابندی سے آتا اور بنگھرا گاہے گاہے حاضری ہوتی، اس آمد و رفت نے اس خاندان کے علمی وقار کے سلسلے میں میری رائے کو استحکام بخشا،دارالعلوم بربٹہ سے مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور ویشالی آیا تو یہاں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رح کے چھوٹے بھائی مولانا مفتی عبد الشکور صاحب استاذ تھے، میں نے یہاں بیس سال ان کی رفاقت میں پڑھانے کا کام کیا، میری جتنی کتابیں اس زمانہ میں طبع ہوئیں سب پر نظر ثانی کا کام مفتی عبد الشکور صاحب نے ہی انجام دیا، واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان کی ہمہ جہت صلاحیت سے اپنی تالیفات و تصنیفات میں جب تک وہاں رہا خوب فائدہ اٹھایا۔
بی اے میں فارسی آنرس رکھا تو لنگٹ سنگھ کالج میں پروفیسر عبد الغفور شمس فارسی کے استاد تھے، باضابطہ ان سے پڑھنے کی نوبت تو کم آئی، لیکن ان کی فارسی اور اردو شاعری نے کافی متأثر کیا، ان کی صلاحیت کے لوگ اب عنقاء ہیں۔
کہنے کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے اس خاندان کو بہت قریب سے دیکھا ہے، مجھے مولانا محمد یعقوب صاحب کی بے پناہ محبت ملتی رہی ہے؛ جب کبھی ہم لوگ جلسہ وغیرہ میں ایک ساتھ ہوتے تو وہ میرا حوصلہ بڑھاتے تھے۔
مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور سے امارت شرعیہ منتقل ہوا تو یہاں مولانا مرحوم کے صاحبزادہ مولانا مفتی محمد یوسف صاحب سے رابطہ ہوا، اسی طرح کہنا چاہیے کہ جس رابطہ کا آغاز مولانا محمد یعقوب صاحب اور ان کے برادران کے واسطے سے ہوا تھا اب وہ دوسری نسل تک پہونچ گیا ہے، اور یقیناً چراغ سے چراغ جلاتے رہنے کی جو روش مولانا محمد یعقوب صاحب رح نے چلائ تھی وہ آج بھی باقی ہے، اللہ کرے یہ سلسلہ قیامت تک دراز ہو، دراز ہوتا یہ سلسلہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رح کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا اور اس کا ثواب قیامت تک ان کو ملتا رہے گا، اس کے علاوہ مولانا کے صاحبزادگان جو نیک ہیں اور ان کے لیے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں، وہ بھی ان کو آخرت میں خوب کام آرہا ہوگا۔اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ان کے سئیات سے درگزر کرے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد