ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء کا  کردار 

35

ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء کا  کردار
 
_____________________________
 ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں علماء کا کردار اتنا اہم رہا ہے کہ اس کے ذکر کے بغیر تاریخِ آزادی نامکمل اور ناقص ہے؛ لیکن افسوس تاریخ آزادی پر جتنی کتابیں لکھی گئیں ان کی اکثریت ایسی ہے جس میں قصداً یا سہواً علماء کی قربانیوں والا چیپٹر مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے، کہیں ذکر بھی آیا تو حاشیہ یا بین السطور میں.  طبقہ علماء  اپنے اسلاف کی قربانیوں کو تقریر و تحریر کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش  کرتے رہے ہیں؛ لیکن مؤرخین اسے من گھڑت کہانیاں کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں. مستند تاریخی یا نصابی کتب کے صفحات میں انہیں جگہ نہیں دی جاتی ہے.
مجھے یاد ہے، آج سے پانچ سال قبل جب میں بارہویں کلاس کا طالب علم ہوا کرتا تھا. ایک دن تاریخ کی کلاس میں اپنے ٹیچر سے یہ سوال کیا   ”  سر! تاریخ آزادی میں مسلمانوں میں سے محض مولانا  ابوالکلام آزاد کا  ہی نام کیوں لیا جاتا ہے؟ جبکہ اس مرد مجاہد کے علاوہ بھی بے شمار علماء کرام نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا ہے” ان کا جواب تھا کہ آپ کیوں تاریخ نہیں لکھتے.
جنگ آزادی میں مسلمانوں اور خصوصاً علماء کرام کی قربانیوں کی تاریخ ہمیں لکھنی چاہئے. اگر یہ کام دینی اداروں کے ساتھ ساتھ عصری درسگاہوں کے اساتذۂ و طلباء کے ذریعے بھی انجام دیا جائے تو پھر کوئی ان تاریخی حقائق کو داستان یا افسانہ کہہ کر مسترد نہیں کرسکے گا اور یہ سچائی سب کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ تحریک آزادی کئی موڑ لیتی اور مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی 1947ء تک پہنچی ہے. ہر موڑ پر علماء کا سر بکف قافلہ   اور ہر مرحلے میں سرفروشوں کی اس جماعت نے تحریک آزادی کی قیادت کی ہے . اور اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوگا کہ  1857ء  جنگ آزادی کا نقطہ آغاز ہے. حقیقت یہ ہے کی  1857ء سے تقریبا ایک صدی قبل ہی  آزادی کا بگل بجا دیا گیا تھا اور  سب سے پہلےیہ  آزادی کا  بگل بجانے والے، عوام میں جذبہ حریت پیدا کرنے والے،ہندوستانیوں کو انگریزوں کی سازش سے ہوشیار کرنے والے کوئی اور نہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح تھے.
 اس سے  ہر ذی علم واقف ہے کہ  عہد جہانگیری میں ایک معمولی تاجر کی حیثیت سے انگریزوں کی آمد ہوئی. کمپنی کے قیام کے بہانے رفتہ رفتہ وہ پورے ملک پر قابض ہونے کی کوشش کرنے لگے. 1707ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد ان کی کوششیں اور سازشیں مزید تیز ہوئیں. مغل بادشاہوں اور شہزادوں کی آپسی چپقلش اور خانہ جنگی نے انگریزوں کی راہیں ہموار کر دی اور وہ یکے بعد دیگرے  شہروں پر قابض ہوتے چلے گئے. مغلیہ سلطنت سمٹنے لگی. شہریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جانے لگے. ہندوستانیوں کے اس درد کو سب سے پہلے شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی نے ہی محسوس کیا.
آپ کی یہ دور اندیشی تھی کہ اٹھارویں صدی کی چوتھی دہائی  میں  ہی آپ نے ہندوستانیوں کو بیدار اورانگریزوں کی سازش سے ہوشیار کرنا شروع کر دیا تھا. یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کو انگریزی تسلط سے بچانے  کی پہلی کوشش شاہ صاحب نے کی تھی. اس کے بعد ان کے فرزند شاہ عبدالعزیز  نے انگریزی تسلط کے خلاف منظم تحریک شروع کی.
1757ء  میں ہونے والی پلاسی کی جنگ میں میر جعفر کی منافقت کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست کا سامنا  کرنا پڑا. اور 1799ء میں  میر صادق کی غداری کی وجہ سے ٹیپو سلطان شہید کر دیئے گئے تو انگریزوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا. ان کے حوصلے پست اس وقت ہوئے جب شاہ عبدالعزیز نے ہندوستان کو دار الحرب  قرار دیا . خواجہ احمد فاروقی کے بقول شاہ عبدالعزیز کے ذریعے  1803ء ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا گیا تھا. اس اعلان نے ہندوستانیوں خصوصا مسلمانوں کے اندر ایک جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا. تحریک شہیدین کا آغاز ہوا. ہندوستان کی آزادی کے لیے علماء سر پر کفن باندھ کرنکلے اور آخری سانس تک لڑتے رہے. آزادی کی اس تحریک کو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل نے اپنے خون جگر سے پروان چڑھایا. بالاکوٹ کی پہاڑیاں اس بات کی گواہ ہے جہاں ساتھیوں سمیت انہیں شہید کیاگیا؛ لیکن انہوں نے آزادی کے عَلم کو گرنے نہیں دیا. سید احمد اور شاہ اسماعیل کی شہادت کے بعد علماء عظیم آباد آگے بڑھتے ہیں. مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی وغیرہم اس عَلم کو  تھامتے ہیں.  بعدہٗ علمائے صادق پور کا قافلہ سروں  کا نذرانہ لیے حاضر ہوتا ہے. انگریز وں کے قہر وستم اور علماء کی قربانیوں کا سلسلہ یونہی دراز ہوتا رہا  . مجاہدین کے سروں کے انبار کو روندتے ہوئے فرنگی آگے بڑھتے رہے. مغلیہ سلطنت سمٹنے لگی. بالآخر دلی تک محدود  ہوکر رہ گئ.
1857ء کی جنگ شروع ہوئی. دلی کو خون سے نہلا دیا گیا. مغلیہ سلطنت کا ٹمٹما تا چراغ  گل ہوگیا. اس جنگ میں بے شمار علماء کو دار پر  چڑھا یا گیا، پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا یا.
1857ء سے 1947ء تک ابھی ایک طویل لڑائی لڑنی تھی اس لئے علماء نے کثیر تعداد میں  مدارس قائم کرنے شروع  کئے تاکہ ان مدرسوں سے  علماء کی شکل میں ایسے جانباز سپاہی پیدا ہوں جو کاروان  آزادی کو منزل مقصود تک پہنچا سکیں. اسی مشن کے تحت  1866ء میں دارالعلوم دیوبند اور اسی سال مظاہر علوم سہارنپور،  1886ء میں جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد، 1898 ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور ان جیسے کئی عظیم ادارے قائم کئے گئے. جس نے مولانا محمود حسن دیوبندی، حسین احمد مدنی،  عبیداللہ سندھی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، رحمت اللہ کیرانوی، فضل حق خیر آبادی، عبدالباری فرنگی محلی، برکت اللہ بھوپالی، حفظ الرحمن سیوہاروی اور مولانا ا بو الحس علی ندوی   جیسے مایا ناز سپوتوں کو جنم دیا جنہوں نے مادر وطن کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی خاطر اپنے گھروں کو ویران کر کے زندانوں کو آباد کیا ہے کالے پانی کی درد ناک سزائیں جھیلیں. مولانا جعفر تھانیسری اپنی کتاب کالا  پانی  میں ان آلام و مصائب کا نقشہ  درد میں ڈوبی ہوئی تحریر سے یوں کھینچتے ہیں؛
“ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پیروں میں  بیڑیاں، جسم پر جیل کا لباس اور کمر پر لوہے کی سلاخیں  ڈالی گئیں، انگریز  نے ہم علماء کے لئے خاص لوہے کا قفس تیار کروایا اور ہمیں اس میں ڈال دیا گیا. پنجرے میں لوہے کی چونچ دار سلاخیں لگوائی جس کی وجہ سے ہم نہ سہارا لے سکتے تھے نہ  بیٹھ سکتے تھے”  یہ ساری اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کرکے بھی علماء کا یہ قافلہ جدوجہد آزادی میں اہم کردار ادا کرتا رہا آزادی کی تاریک اور طویل شاہراہوں پر اپنے لہو سے شمع روشن کرتا رہا.
1912ءمیں مولانا محمود حسن دیوبندی نے تحریک ریشمی رومال شروع کی  یہ آزادی کی ایک منظم تحریک تھی جو بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہو سکی. مولاناگرفتار کر لیے گئے پھر کیسی درد ناک سزاؤں  سے گزرنا پڑا .مالٹا کی درودیوار یں اس سے واقف ہیں.
“انگریزی فوج میں بھرتی ہونا  حرام ہے” اس  فتوے نے بھی غیر ملکی  قوت کو بڑی حد تک کمزور کیا اور یہ فتوی دینے والے مولانا حسین احمد مدنی کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی.
1919ء  میں جمیت علماء کا قیام بھی  جد و جہد آزادی کی ایک اہم کڑی ہے. اس کے  بعد ہندو مسلمانوں کو متحد کرنے والی  عظیم  تحریک، تحریک خلافت تھی،اس کے بانی بھی مولانا علی جوہر مولانا محمد شوکت  تھے. ہندو مسلم اتحاد نے انگریزوں کو شکست کی جانب دھکیلنا شروع کردیا. مولا آزاد نے البلاغ اور الہلال کے ذریعے جذبہ آزادی کو مہمیز لگایا. زمانہ واقف ہے کہ یہ رسائل  فرنگیوں کے لئے کسی توپ وتفنگ سے کم نہ تھے. رسائل پر پابندی عائد کر دی گئی. مولانا نے گاندھی  جی کے ساتھ مل کر تحریک آزادی میں عملی حصہ لیا، نتیجے میں قلعہ احمد نگر کی کال کوٹھری آپ کا مقدر بنی، طویل مدت کے بعد جیل سے رہا کئے گئے. جمیعت سے جڑے علمائے کرام تحریک آزادی میں سرگرم عمل تھے. اما م الہند مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا  حسین احمد مدنی، مولانا  حسرت موہانی کی قیادت میں یہ قافلہ آزادی کے لئے آگے بڑھتا رہا.  یہ آخری اور فیصل  کن مرحلہ تھا.  مجاہدین آزادی کی قربانیاں رنگ لانے والی تھی. شاہ ولی اللہ کے ذریعے روانہ کیا گیا قافلہ منزل تک پہنچ چکا تھا. اب انگریزوں کے پاؤں پوری طرح  اکھڑ چکے تھے وہ اپنا سازوسامان سمیٹنے لگے.
15 اگست  1947 ء کا سورج آزادی کا پیغام لئے طلوع ہوا جس کی سنہری کرنیں آزاد سرزمین کے گوشے گوشے کو چمکانے لگیں. پورے ملک میں جوش و خروش، مسرت و شادمانی کے ساتھ یوم آزادی منایا جانے لگا. 75 سال گزر گئے آج بھی اسی جوش خروش کے ساتھ  یہ قومی تہوار منایا جاتا ہے.
آزادی کی پوری تاریخ پر  منصفانہ نگاہ ڈالنے کے بعد یہ بات مترشح ہو جاتی ہیں کے جدوجہد آزادی میں علماۓ کرام نے از اول تا آخر اہم کردار ادا کیا ہے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ہندوستان کی آزادی علماء کرام کی قربانیوں کی مرہون منت ہے.
سینچا ہے اسے خون سے ہم تشنہ لبوں نے
 تب جا کے اس انداز کا میخانہ بنا ہے
____________________________
 ارشد علیگ 
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
Mob: 9536236908