ہندوستانی جمہوریت خطرے میں ہے

41
ملک انگریزوں سے آزاد ہوا، جبر و تشدد سے کب ہوگا؟
تحریر:محمد اورنگزیب مصباحی گڑھوا جھارکھنڈ،( رکن:مجلس علمائے جھارکھنڈ)
    ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریبا سات دہائیاں گزر چکی مگر مشاہدات بتاتی ہے کہ ملک آزاد تو ہوا مگر صرف انگریزی سامراجیت و حکومت سے  بعدہ انگریز وں کی مہربانی سے ہندوستان بھگوا دھاریوں کے غلامی کے پنجے تلے دب گیا۔
      یہود و نصاریٰ ہوں یا ہنود سبھی مذاہب اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کرنے والی سازشوں میں برابر کے شریک ہیں، مگر ان کے سازشی کارفرما کبھی بہت تیزی سے سرگرم عمل ہوتے ہیں تو کبھی حکمت عملی کے پیش نظر سست رفتاری کا سہارا لے کر انتہائی خطرناک فیصلے کرتے ہیں۔
       آج ہمارے ہندوستان میں خاص مسلمانوں سے بد سلوکی روزمرہ کا معمول بن گیا ہے ۔ ہندوستانی مسلم باشندوں کی حیات تنگ سے تنگ کر کے رکھ دیا گیا ہے، ان کی مذہبی آزادی چھین لی جا رہی ہے، ان کے حقوق کی پامالی کی جارہی ہے کبھی گئورکشا کے نام پر ماب لنچنگ، تو کبھی “جے شری رام” کے دنگائی نعروں سے شروع ہوکر پورے شہر کا شہر بھگوا دھاریوں کے فساد تلے دفن ہو جاتے ہیں، یہ سارے مشاہدات و نظریات جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہی نہیں، بلکہ جمہوریت کے ڈھنڈورا پیٹتے جو نعرہ لگاتے ہیں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی، جو ہندوانہ تہوار پر مبارکباد ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ ان کے شرکیہ اور کفریہ مراسم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ان مسلمانوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے، یا صاف لفظوں میں کہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
     یوں تو ہندوستانی مسلمانوں  سے بدسلوکی ان پر ظلم و ستم کے معاملے میں انگریزوں کا چہرہ سرفہرست نظر آتا ہے۔ مگر دن بدن ہندوتوا کی تنظیمیں اس معاملے میں انگریزوں کو پیچھے چھوڑتے نظر آ رہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب ہمارا ملک آزاد نہیں ہوا تھا یعنی بیسویں صدی کے دوسری دہائی میں اسی وقت ہندوتوا نے ایک تنظیم کی تشکیل دی” آر ایس ایس ” جس کا مقصد صرف مسلمانوں کو ہندوستان سے بھگانا تھا، ہندوتوا کو مضبوط کرنا، ہندوستان پر حکومت کرنا اور ملک کو ہندو راشٹر بنانا بظاہر اس کے پرچم تلے یہی باتیں تھیں مگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے درپردہ وہ تنظیم انگریز نواز تھی ان کے تلوے چاٹنے والوں میں سرفہرست اس کا بھی نام آتا ہے۔ لاکھ ظلم و ستم کے باوجود انگریز نوازی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس تنظیم کا مشیر خاص انگریز تھے۔
     انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اب دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ حکومت نہ آ پائے اس لیے انہوں نے نام نہاد مسلمانوں کو اپنی دولت کے ذریعے خریدا جو نام کے مسلمان تھے مگر ان کے سارے کام انگریزوں کے اشارے پر ہوا کرتے تھے اور پھر جب انگریزوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تعلیم یافتہ اکثریت کے نسل کشی کے بعد اب پھر سے بچے کھچے مسلمان متحد ہونے کی تیاری کر رہے ہیں تو انگریزوں نے حکم دیا کہ مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کریں اور یہ کام خاص مکتبہ فکر کے حامل افراد نے بخوبی انجام تک پہنچایا، جس سے مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گئے۔
     انگریزوں نے ہندوؤں پر ظلم و ستم ضرور کیے مگر اس قدر مہربان ضرور تھے ان کی کبھی نسل کشی نہیں کی ہاں جن کا دشمن ہونا یقینی تھا وہ مستثنیٰ ہیں ایسے افراد شاذونادر تھے اکثر خاموشی پسند تھے۔ کچھ حامی بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں تقریبا پندرہ سے بیس فیصد ہی مسلمان آزادی کے بعد بچے تھے جن میں ایک یا دو فیصد ہی تعلیم یافتہ تھے تقریبا تین چوتھائی مسلمانوں کی انگریزوں نے قتل عام کی جن میں نصف سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے کیونکہ ان کو تعلیم یافتہ  مسلم افراد سے ہی خطرہ تھا۔
    ایسے میں تحریک آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کی اسلامی شناخت ختم کرنے اور ایمان کو کمزور کرنے کے لیے ایک تحریک چلائی گئی اور مشرکین سے ایسے اتحاد پر زور دیا گیا جس سے شرک و کفر یا اس سے قریب تر کردینے والی رسمیں مسلم معاشرے میں پھیلنے لگی، گاندھی کے بھروسے ترک موالات  کی تحریک چلائی گئی، کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت میں اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں اور اس پر مسلمان عمل پیرا بھی ہوئے، جس کے نتیجے میں مسلمان اس قدر معاشی بدحالی کے شکار ہوئے کہ اس سے آج تک چھٹکارا حاصل نہ کر پائے۔ بعض علماء اس سے متفق نہیں تھے کیونکہ شریعت کی رو سے یہ کام غلط تھا، مگر ان معزز علماء کی باتوں کو نظر انداز کر کے قوم مسلم اپنی معیشت برباد کر بیٹھی۔ جبکہ غیر مسلموں نے بظاہر ہاں میں ہاں ملایا مگر وہ اپنی ملازمتوں سے جڑے رہے کہ ان کی معیشت پر چنداں فرق پڑے۔
        *آزادی کی لڑائی مسلمانوں نے شروع کی*
     مسلمانوں نے آزادی کی لڑائی جس انداز سے شروع کیا تھا اسی انداز پر قائم ہوتے تو آزادی بھی حاصل ہوتی اور ان کی معیشت بھی بربادی کی نذر نہ ہوتی ، ان کی نسل کشی نہ کی جاتی کہ وہ اقلیت کے شکار ہوتے،  مگر علمائے حق نے جس انداز سے جنگ آزادی شروع کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے اور میر صادق میر جعفر کی چالوں میں پھنس کر مشرکین کے اتحاد کے جال میں پھنس گئے۔ ملک تو آزاد ہونا ہی تھا مگر انگریز جاتے جاتے مسلمانوں کو اپاہچ کر بیٹھے کہ مشرکین کے ذریعے ان کی معیشت برباد کرائے اور خود اور دیگر شرپسندوں کے ذریعے ان کی کئی مرتبہ نسل کشی کرائے اور اس قدر بھیانک کہ کلکتہ سے دہلی تک کے راستوں میں شاید ہی کوئی ایسا درخت ہوگا جس پر محب وطن علمائے اسلام کی لاشیں یا ان کے سر نہ لٹکتے ہوں اور تقریباً یہی حال اجمیر سے دہلی اور پورے ہندوستان کا تھا کہ حب الوطنی میں ان شہیدوں کا گوشت اس قدر ارزاں ہوگیا تھا کہ گدھ اور دوسرے گوشت خور جانور اکتا گئے تھے، پھر 1947ء میں اکثر تعلیم یافتہ مسلموں اور حریت پسند غیر مسلموں کی قابل قدر قربانیوں کے بعد ملک ہندوستان آزاد ہوا، مگر صرف انگریزوں سے  آزاد ہوا۔ظلم و ستم، جبر و تشدد سے نہیں، اقتدار کی لڑائی اور ایک طرفہ فیصلے کے نتیجے میں ملک تقسیم ہوا، اور مسلمانوں کو ایک چھوٹا سا رقبہ وہ بھی دو الگ سمتوں میں دیا گیا (جو آج پاکستان اور بنگلہ دیش ہے)کہ کبھی مضبوط، کامیاب نہ بن پائیں اور معاشی بدحالی کے شکار ہو جائیں اور ہوا بھی ایسا ہی کہ نہ جانے کتنے ہزاروں مسلم افراد بھوک و پیاس اور ظلم و تشدد کی تاب نہ لا کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حالانکہ اس پر راضی ہو جانا اور اپنا مال و اسباب زمین جائداد ، کنبہ قبیلہ چھوڑ کر ہجرت کرنا انتہائی احمقانہ فیصلہ تھا کہ وہ اپنی مسجدوں اور تعلیم گاہوں کو ویران کر گئے مگر یہ فیصلہ صرف انہیں مسلمانوں کا تھا جو جناح کے پرچم تلے تھے، باقی مسلمانوں نے ہجرت سے انکار کر دیا اور گاندھی نے بھی ان کی امید باندھا کہ یہ ملک ایک جمہوری نظام کے تحت ہوگا، جس میں چھوت چھات، رنگ و نسل سے قطع نظر سب کا حق برابر ہوگا، سبھی مذاہب اپنے سارے کام عبادات و تعلیمات کے سلسلے میں آزاد ہوں گے۔ پھر دستور ہند لکھا گیا، شرپسند عناصر کو یہ کام ناگوار گزری اور اس نے گاندھی کو گولی مار کر محض اس لیے قتل کردیا کہ مسلمانوں کو اس ملک میں رہنے کا حق کیوں دے رہا ہے، انہیں سرے سے خاتمہ کیوں نہیں کردیا جارہا؟ ۔
یونہی 1965ء کی لڑائی بھی ہوئی جس کے بعد مسلمانوں کو آتنک واد کہا جانے لگا اور ان پر مزید ظلم و تشدد بڑھنے لگا حالانکہ جس بنیاد پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں اس سے کہیں خطرناک کارنامے آر ایس ایس اور جیسی دیگر تنظیموں کے ہمیشہ سے رہے ہیں مگر چونکہ وہ ہندوتوا کی تنظیموں سے جڑے ہیں اس لیے انہیں کوئی ٹوکتا تک نہیں چہ جائیکہ ان پر کارروائی ہو ۔
       *کارنامے کس کے نام کسی اور کے*
      آزادی سے آج تک ہندوتوا کی مختلف تنظیموں نے نہ جانے کیسے کیسے فسادات پھیلائے کس کس دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ، ایسے رازدارانہ ہزاروں واقعات ہیں تو کھلم کُھلا ہزاروں واقعات بھی ہیں مگر سیکولر پارٹیاں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتے بلکہ اس کا پورا الزام مسلمانوں پر لاد دیا گیا ماضی قریب کے پلوامہ حملہ بھی انہیں کا حصہ ہے۔
       سب واقعات دو مشہور پارٹیوں کی موجودگی میں ہوئی (۱) نیشنل کانگریس یہ اپنے آپ کو جمہوریت کا پاسبان اور غریبوں کا مسیحا حق کا دعویدار ظلم کا مخالف کہلواتی تھی مگر اس کے دور اقتدار میں شرپسند عناصر جب چاہتے فسادات ، دہشت گردی کرتے اور یہ پارٹی زیادہ سے زیادہ مگر مچھ کے آنسو کے ساتھ تعزیت کر خاموش ہوجاتی اور شرپسند تنظیمیں سرکاری اور غیر سرکاری امداد سے خوب پھولے پھلے ان کے ارادے مضبوط سے)مضبوط تر ہوگئے اب جو بابری مسجد شرپسندوں کے مورتی رکھ کر جھوٹے دعوے اور الزامات کی بنیاد پر کانگریس نے مقفل کرایا تھا 1992ء میں کانگریس ہی کے دور اقتدار میں ہندوتوا کے مشہور تنظیمیں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، ہندو مہاسبھا وغیرہم نے بابری مسجد کو شہید کردیا اور ملزموں پر مقدمات درج ہوئے مگر حکومت اور عدلیہ کی جانب سے کھلی چھوٹ ملی اور کچھ دنوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ اور اس معاملے پر حکومت اور عدلیہ نے ایک لمبی چپی سادھی۔ مطلب کانگریس بھی دعویٰ میں کھوکھلی ہے ۔
       (۲) دوسری مشہور پارٹی تھی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) یہ پارٹی شرپسند تنظیموں کے اشارے پر چلتی تھی جس کے دور اقتدار میں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، شیوسینا اور ہندو مہاسبھا وغیرہم کو خوب مالی اور حمایتی امداد ملے، اس کا نظریہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا، مسلمانوں اور اسلام کو کمزور پھر ہندوستان سے نیست و نابود کرنا، اور ہندوستان کو بہتر تجارت گاہ بنانا اور اسے ڈیولپمنٹ کرنا وغیرہ مگر یہ اخیر کے کچھ دعؤں میں حقیقت کی مخالف رہی کیونکہ دیش دن بدن بکتا جا رہا ہے۔
     اور پھر بی جے پی کے اقتدار آتے ہی پھر ہندو راشٹر، رام مندر شروع ہوا اور 2019ء میں بی جے پی اور اس کی کٹھ پتلی عدلیہ کی حمایت سے بابری مسجد شہید کر رام مندر بنانے کا فیصلہ دیا جبکہ سارے ثبوت رام مندر کے خلاف اور بابری مسجد کے حق میں تھی مگر عدلیہ نے آستھا، کہکر منہ بند کر لیا۔ آزادی کے تقریباً سات دہائیوں بعد ہر کسی کو سمجھ آرہا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے اس کے ذمہ دار صرف بی جے پی نہیں بلکہ کانگریس بھی ہے ہاں فرق اتنا ہے کہ کانگریس سستی سے اس جانب گامزن تھی جبکہ بی جے پی برق رفتاری سے کانگریس کے اقتدار میں بھی مسلمان ستائے جا رہے تھے اور جھوٹے الزامات کے شکار تھے مگر حکومت کی جانب سے سپورٹ کے طور پر چپی ہوتی تھی اور بی جے پی کے اقتدار میں کھلم کُھلا اور سپورٹ میں خود حکومت اور اس کے عملہ پولس اہلکار، فوجی اور عدلیہ سمیت سارے راج نیتا شامل ہیں۔ فی الحال کسی بھی گھر میں بھگوا دھاری داخل ہو رہے ہیں اور ان کی بہن بیٹیوں کی آبرو ریزی کرتے ہوئے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ان سے جبری کفریہ کلمات اگلوائے جا رہے ہیں، جے شری رام کے نعرے کے ساتھ مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ جمہوریت پسند ہندو راج یادو سے بات چیت ہوئی باتوں ہی باتوں میں نے پوچھ لیا، کیا کشمیری مسلمان واقعی اڑیل اور دہشت گرد ہیں؟ کہ حکومت ہند ان پر سختی کرتی ہے اور انہیں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرتی ہے۔ اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگیے اور سسکتے لہجے میں کہنے لگا کہ اگر کوئی آپ کے سامنے آپ کی بہن بیٹیوں کی عزت کی دھجیاں اڑائی جائے تو آپ کیا کریں گے؟میں نے کہا جان کی بازی لگا کر روکنے کی کوشش کریں گے، اس نے کہا کہ کشمیری بھی یہی کرتے ہیں کہ ہندوستانی فوج سبھی نہیں ان کے شرپسند افراد ان کے گھروں میں گھنس کر نازیبا حرکات یا جبری بلاتکاری کرنا چاہتے ہیں اور روکنے پر آتنک واد کے الزام میں پھنسا کر گولی وبارود یا جیل کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے یہ دن پچھلے دس سالوں میں بڑھ گئے ہیں۔
    آئے دن پولیس اہلکار کی بہیمانہ رویوں اور مظلوموں سے بدسلوکی ، وہیں مسجدوں میں بھگوا دھاریوں کی پتھر بازی، مناروں پر بھگوا پرچم لہرانا شرپسندوں کا معمول بن گیا ہے ابھی کچھ دنوں پہلے ایسا ہی واقعہ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں بھی پیش آیا کہ بھگوا دھاریوں نے رام مندر کا چندہ زبردستی مسلمانوں سے مانگنے لگے، انکار پر ان پر لاٹھی ڈنڈے حتی کہ گولیاں بھی چلائی اور مسجد کے مناروں پر بھگوا پرچم لہرائے اور پولیس اہلکار خاموشی سے دیکھتی رہی اور کچھ نے شرپسندوں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی حمایت کی۔
     *اسرائیلی مظالم ہندی مسلموں پر*
       آج ہندوستانی حکومت، فوج، میڈیا، حفاظتی دستے، پولیس اہلکار اور خود عدلیہ مسلمانوں پر مظالم اور جبر و تشدد کے معاملے میں اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، فی الحال بی جے پی کی پوری کوشش تمام ہندؤں کو ہندوتوا اور ہندوازم میں شریک کرنے کی ہے اور اسی کوشش میں تقریباً سبھی شرپسند تنظیمیں بھی سرگرداں ہیں کہ اپنے سو سالہ طویل سفر کو پورا کر اپنے عزائم کہ “2022 تک ملک ہندو راشٹر ہوجائے گا” کی تکمیل میں سرگرم عمل ہیں۔
      سوشل میڈیا پر ہزاروں ایسے ویڈیوز گردش میں ملیں گے جس میں گاؤں، دیہات کے کسی چھوٹے یا بڑے پروگرام میں ہندؤں کو مسلمانوں کا خوف دلا کر فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوط کی سازشیں چل رہی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک عورت ایک بڑے مجمع میں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ ملک کے 17فیصد مسلمان 80 فیصد ہندؤں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ کئی ایسے ویڈیوز ہیں جس میں اس سے بھی خطرناک کئی منصوبہ بندی کیے جا رہے ہیں۔
          مذکورہ جمہوریت مخالف کارناموں اور فسادات میں پوری ہندو برادری کو میں قصوروار نہیں مانتا مگر اکثریت اس جانب گامزن ہیں۔
        ایسے میں ضرورت ہے ایسے لائحہ عمل کی جس سے دستور ہند پر منڈلا رہے خطرات ٹل جائے اور ہندوستان دوبارہ تقسیم ہونے سے محفوظ رہے اور یہ کام ہمارے مسلم برادری کے اتحاد و اتفاق پر مبنی ہے، یاد رہے ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہمارے ہی سر ہے نہ کانگریس ہماری حفاظت کر سکی نہ مرکزی حکومت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حکومت کا ہر اگلا قدم ہندو راشٹر کی جانب گامزن ہے۔
اللہ تعالی ہمیں ظالموں کے ظلم، حاسدین کے حسد ، فتنہ پروروں کے پھیلائے اختلاف ، دہشت گردوں کی دہشت گردی سے محفوظ فرمائے۔