ہم نے بڑے محدث، علمی اور ادبی  شخصیت کو کھودیا۔مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

143
پٹنہ ١٣/مئی (عبد الرحیم بڑھولیاوی) دارالعلوم دیوبند کے نامور استاذ، مشہور محدث، بڑی علمی شخصیت، اسماء الرجال کے ماہر اردو زبان وادب کے رمزشناس اور دارالعلوم رسالہ کے مدیر اعلیٰ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی (ولادت ١٩٤٥)کا آج ٣٠/رمضان ٤٢ھ مطابق ١٣/مئ ٢٠٢١ء کوجگدیش پور اعظم گڈھ میں  انتقال  ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون. ابھی حال ہی میں ہم لوگوں نے حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رح کے انتقال کا صدمہ برداشت کیا تھا، اب یہ دارالعلوم دیوبند کے اور علمی دنیا کے  لیے بڑا حادثہ ہے، کئی اساتذہ یکے بعد دیگرے رخصت ہو گئے، دنیا اہل علم سے خالی ہوتی جارہی ہے، ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم، مجلس اردو صحافت اور  کاروان ادب کے صدر ، اردو کارواں کے نائب صدر اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کیا ، انہوں نے فرمایا کہ مولانا سے میری ملاقات دارالعلوم مؤ کے زمانۂ طالب علمی سے تھی، وہ ان دنوں جامعہ اسلامیہ بنارس میں استاذ تھے، وطن اصلی جگدیش پور اعظم گڈھ تھا، وطن آتے تو اپنی مادر علمی دارالعلوم مؤ بھی آیا کرتے، اسی  زمانہ میں ان کی مشہور زمانہ کتاب تذکرہ علماء اعظم گڈھ آئی تھی، یہ بڑی تحقیقی کتاب تھی، مولانا کی تاریخ پر گہری نظر کا اندازہ اسی کو دیکھ کر ہوا تھا، ١٩٨٢ء میں انقلاب کے بعد جو لوگ دارالعلوم کے مسند تدریس پر فائز ہوئے، ان میں سے مولانا مرحوم بھی ایک تھے، اس سے قبل ١٩٦٢ء میں دارالعلوم سے فراغت کے بعد ١٩٦٥ء میں جامعہ اسلامیہ بنارس سے تدریسی زندگی کا انہوں نے آغاز کیاتھا، مفتی صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے دارالعلوم کے ترجمان ماہنامہ دارالعلوم کی تین دہائیوں تک ادارت کے فرائض انجام دیے، اور اس کو معیاری بنانے کے لئے مسلسل کوشاں رہے، دارالعلوم کے اداریے حالات حاضرہ پر بڑے چشم کشا اور مفید ہوا کرتے تھے، مولانا کے مضامین کا مجموعہ تین جلدوں میں شائع ہوکر مقبول و معروف ہے، اس کے علاوہ امام داؤد کے اساتذہ اور حجیت حدیث پر بھی مولانا کی تصنیفات موجود ہیں۔
رمضان المبارک کے آخری دن اور وباء عام میں سفر آخرت پر روانگی، ہمارے لئے جس قدر سوہان روح ہو،مولانا کے لئے مژدہ مغفرت ہے، مفتی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نیز پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان کے شاگرد، متعلقین اور متوسلین سے تعزیت کیا ہے، اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے،درجات بلند کرے  دارالعلوم دیوبند کو ان کا نعم البدل عطا فرمائےاورپس ماندگان کو صبر جمیل دے۔