بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتہم خیال مسلم چہروں کی تلاش میں سرگرداں آر ایس ایس اور...

ہم خیال مسلم چہروں کی تلاش میں سرگرداں آر ایس ایس اور مسلم قیادت ذکی نور عظیم ندوی– لکھنؤ

ہم خیال مسلم چہروں کی تلاش میں سرگرداں آر ایس ایس اور مسلم قیادت
ذکی نور عظیم ندوی– لکھن

گذشتہ تقریبا ایک صدی سے آر ایس ایس نہایت سنجیدہ اور منصوبہ بند طریقہ پر ملک میں ہندو مذہب کی بالادستی اور ہندو تہذیب و ثقافت کی ترویج و تنفیذ کے لئے سرگرم اور اپنے مشن کی جانب رواں دواں ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے برطانوی حکومت اور اس کے بعد آزاد ہندوستان میں مختلف موقعوں پر پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے اپنے مقصد پر آنچ نہیں آنے دیا اور مختلف موقعوں پر حسب ضرورت اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنے مشن سے کسی حال میں سمجھوتہ نہیں کیا ۔آزادی کےساٹھ سال بعد تک بھی اسے ملک میں عمومی طور پر پسند نہیں کیا جاتا تھا اسی وجہ سے اس کی سرپرستی میں تشکیل شدہ سیاسی پارٹی بی جے پی کو بھی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی لیکن بابری مسجد رام جنم بھومی کے سلسلہ میں لال کرشن اڈوانی کے ذریعہ رتھ یاترا شروع کرنے اور کانگریس مخالفت میں وی پی سنگھ کی سربراہی میں دوسری سیکولر پارٹیوں کے ساتھ بی جے پی کے بھی حکومت میں شامل ہونے کے بعد بی جے پی کے اثر و رسوخ میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ 2014ء  میں اسے اقتدار میں مضبوطی کے ساتھ آنے کا موقع ملا۔ دہائیوں تک حکومت کرنے والی پارٹیاں مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں بھی کمزور نظر آنے لگیں، دیگر چھوٹی چھوٹی صوبائی پارٹیاں بشمول ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس ، نتیش کمار کی جنتادل یو اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی سیکولرازم کے سلسلہ میں بغیر کسی نظریئے اور واضح موقف کےصرف حکومت کے مقصد سے وقتی مفاد کے تحت الگ الگ موقعوں پر الگ الگ محاذ کا حصہ بنتی اور الگ ہوتی رہیں ، لیکن یہ تمام پارٹیاں ملکی سطح پر آر ایس ایس کے ذریعہ طے شدہ سیاسی لائن کو پوری طرح نظر انداز نہ کر سکیں اور اسی وجہ سے ملک میں سیکولر نظریئے کے خلاف ماحول اور اقدام پر محض خاموش تماشائی بنی رہیں یا صرف زبانی بیان بازی کے ذریعہ سیکولر ووٹ بینک کو برقرار رکھنا کافی سمجھتی رہیں، کانگریس پارٹی کی طرف سے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وقفہ وقفہ سے سرگرم ضرورہوئے لیکن داخلی انتشار اور مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ آنے کا امکان نہیں ۔
یوں تو آر ایس ایس ہندو تہذیب و ثقافت کی بالا دستی اور اسکی روشنی میں ملک کی ترقی و اتحاد کے لئے سر گرم اور اس کے لئےپوری طرح وقف تنظیم مانی جاتی ہے لیکن حقیقت میں اس کے مقاصد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں جس کا اندازہ آر ایس ایس کے ایک سینئر مبلغ (وچارک) جناب اشوک سنہا سے ڈبیٹ روم اور کبھی کبھی ٹیلی ویزن مباحثہ سے ایک ہی گاڑی میں واپسی کے دوران ہونے والی گفتگو سے ہوا جس میں ایک دفعہ دیر رات آر ایس ایس کے لکھنؤ دفتر کے پاس اترتے ہوئے انھوں نےکسی وقت وہاں آنے کی پرخلوص دعوت بھی دی، میں ذاتی طور پر وہاں کبھی گیا تو نہیں لیکن ان سے ملکی اور دیگر سماجی و عالمی امور پر کئی بار گفتگو ہوئی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ انھوں نے اپنی تنظیم کے متعلق بتایا کہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ آر ایس ایس کی فکر صرف ہندوؤں اور ہندوستان تک محدود ہے بلکہ اس کا ہندوؤں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مسلمانوں بلکہ تمام طبقات کے تعلق سے ایک واضح موقف ہےجس کے لئے وہ کوشاں بھی رہتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کا پوری دنیا کے تعلق سے ایک نظریہ ہے جس کے حصول کے لئے وہ سر گرم ہے اور اسی وجہ سے دنیا کے تقریبا تمام ملکوں میں اس کا منظم وجود بھی ہے ۔
مذکورہ بالا امور سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوئی کہ آر ایس ایس ملک کی دوسری بڑی اکثریت اور عمومی طور پر سب سے بڑی اقلیت کو پوری طرح نظر انداز کرکے اپنے مشن کا حصول ممکن نہیں سمجھتی اسی وجہ سے مختلف موقعوں پر مسلم کمیونٹی کے بعض افراد کو قریب کرنے، اور اس کی متعین لائن پر چلنے کے لئےتیارافراد تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہےلیکن اس سلسلہ میں وہ کسی خاص شخصیت اور طریقہ کار کو ہی لازم نہیں سمجھتی بلکہ حسب ضرورت اس میں تبدیلی بھی کرتی رہتی ہے اسی سلسلہ میں چند سالوں قبل جمعیت  علماء کے صدر کا آر ایس ایس کےمرکزی دفتر میں استقبال اور پھر مختلف موقعوں پر مختلف دوسرے طریقہ کار بھی شامل ہیں ۔ گذشتہ چند دنوں قبل مختلف مسلم دانشوروں نجیب جنگ ، ایس وائی قریشی ، شاہد صدیقی اور دیگر لوگوں سے ملاقات اور پھردہلی کے اہم محل وقوع پر عمیر الیاسی کی چھوٹی مسجد اور مدرسہ کی زیارت بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہےجس میں دونوں طرف سے بات چیت کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم ملکوں اور مسلم حکمرانوں سے اچھے مراسم اور کاروبار کی کوشش بھی اسی کا حصہ ہے۔
آر ایس ایس کے اپنے مشن کے لئے سنجیدہ کوششوں کے باوجود یہ خیال بار بار آتا ہے کہ اگر وہ واقعی مسلمانوں کو ہندوستانی تہذیب کا ایسا لازمی حصہ مانتی ہے جس کے بغیر ملک کی تعمیر و ترقی مکمل نہیں ہوسکتی تو آخر کیا وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے سچے نمائندوں سے رابطہ کے بجائے ان میں بے اثر اور کسی حد تک پنے ہم خیال افراد کو ہی ترجیح دیتی ہے اسی طرح ملک میں پیدا صورتحال جو ہندو مسلم تفریق میں اضافہ اور عمومی ملکی فضا کو پراگندہ اور منتشر کرنے کا سبب ہے ان کے اصلاح کی طرف توجہ نہیں دیتی ؟ ہاں آر ایس ایس کے نظریات سے ہر طرح کے اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے ذمہ دار اور کارکنان اپنی تنظیم ، اس کے مقاصد اور اس کے لئے ذہن سازی کےلئےملک کے ہر طبقہ میں سنجیدگی کے ساتھ کوشاں ہیں ۔ انھیں بدلتے حالات اور صورتحال میں پرانے خاکہ میں نیا رنگ بھرنے اور طریقہ کار تبدیل کرنے میں کوئی تامل اور تردد نہیں ہوتا، شاید اسی وجہ سے جمعیت علماء جیسی ملکی سطح کی ملی تنظیم کے صدر کی ضیافت کے بعد ان سے دوبارہ گفتگو کے بجائے بعض نسبتا بے اثر یا تعلیمی، سماجی اور دیگر اعتبار سے قابل ذکر لیکن ملی مسائل سے دور رہنے والے افراد کے ذریعہ ماحول سازی کی کوشش کر رہی ہے ۔
موجودہ حالات کے لئے اگر ایک طرف آر ایس ایس، اس کی ہم خیال دوسری تنظیمیں اور اس کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے تشکیل کردہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اقدامات و پالیسیاں ذمہ دار ہیں تو اس سلسلہ میں مختلف ملی جماعتوں اور تنظیموں سے بھی یہ سوال بیجا نہیں کہ بدلتی صورتحال میں ان کے موقف اور طریقہ کار میں کیا تبدیلیاں آئیں، مسلمانوں کے تئیں تنگ ہوتے ہوئے گھیرے کےوجوہ و اسباب اوراس کے تدارک کے لئے آپ کا اب کیا لائحہ عمل ہے ؟ اور کیا آپ بھی اپنےطریقہ کار میں کسی تبدیلی کو قبول کرنے لئے تیا ر ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بی جےپی کےدوبارہ حکومت میں آنے اور بیشتر صوبوں میں اس کی حکومت اور بڑھتے اثر و رسوخ کے باوجود آج تک ملی رہنما کسی اجتماعی پلیٹ فارم سے اس سےدو ٹوک سنجیدہ گفتگو کے روادار نہیں ہوئے؟ حالانکہ بیشتر بڑے ملی قائدین کا انفرادی طور پرقومی سلامتی کے مشیر، وزیر اعلی،نائب وزیر اعلی، مرکزی اور صوبائی وزرا سے ملاقات اکثر و بیشتر ہوتی رہی ہے لیکن ان ملاقاتوں میں چائے پانی ، رسمی گفتگو اور نجی مسائل کے ساتھ ملی مسائل، ان کے ساتھ ہورہی ظلم و زیادتی، سماجی سطح پر ان کو نظر انداز کرنا،ان کی تنظیموں پر غیر ضروری کاروائیاں، معصوموں کی گرفتاریاں، تعلیمی اداروں اور وقف جائدادوں میں بے جا مداخلت اور غیر ضروری سروے، نماز جیسے شعائر کی ادائیگی میں پیدا کی جارہی رکاوٹیں، مختلف مسجدوں پر حملے، آئے دن عدالتوں میں اپیلیں اور حجاب اور دیگرخالص اسلامی مسائل میں صریح دینی تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہوئے ملکی عدالتوں کی دخل اندازی پران سےسنجیدہ اور بامقصد صاف صاف گفتگو سے پرہیز کیوں اورکب تک؟
zakinoorazeem@gmail.com

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے