ہم ایسے بھی سوچ سکتے ہیں!

64

جمہوریت میں ہمیشہ دو رائے یا کئی رائیں ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں.. دوسرے نظامہائے سیاست سے جمہوری نظام سیاست کو الگ پہچان دینے والی خصوصیت یہی ہے..ورنہ کاروبار زندگی چلانے کے لئے کوئی بھی نظام بہت اچھا یا بہت برا نہیں ہوتا.. سنگاپور میں ڈکٹیٹر شپ ہے، لیکن ملک خوش حال، معیشت مستحکم، سوسائٹی رفاہی ہے. لوگ آسودہ اور ذاتی زندگی میں قابل رشک حد تک آزاد ہیں ، اور ملک ساری دنیا کے سرمایہ کاروں کے پرکشش ہے.. سو فیصد شہری آبادی پر مشتمل، چھوٹا سا ملک ایک پسندیدہ ملک ہے. جس نے اس ملک کا نام نہیں سنا وہ اس گلوب سے باہر کی مخلوق ہے.. اس ملک کا کوئی تمدنی پس منظر ایسا نہیں جس پر بہت فخر کیا جائے.. ڈکٹیٹر شب، عموماً ملک برباد کرتی ہے، اور نظر آنے والی خوشحالی بے دریغ وسائل آمدنی کی مرہون ہوتی ہے،، اگر وہ آمدنی پر عادلانہ تقسیم کی جائے تو عوام انتہائی خوش حال ہوجائیں.. جیسا کہ خلیجی ممالک کی صورت حال ہے،، وہاں عوام بہت خوش حال نہیں.. سعودی عرب کی 50 ٪شہری آبادی ذاتی مکان سے محروم ہے.. دیہی آبادی کا بڑا حصہ زکوٰۃ اور اوقاف پر گزارا کرتا ہے.. ملکی آمدنی میں حصہ نہیں رکھتا..
اصل بات ہوتی ہے، زندگی چلانے کے لئے سوچ فکر اور سنجیدگی کی .. ان کے بغیر صرف نظام سیاست کچھ نہیں کرسکتا.. جمہوریت ایک اچھا طرز حکمرانی ہے اور انسانی تجربوں میں یہ بھی ایک مقبول تجربہ ہے.. لیکن اس کی مثالیت یورپ کے سوا ہر جگہ مفقود ہے.. خاص طور سے ترقی پذیر، سابق کالونیز، ایشیائی ممالک میں اس کا تجربہ از حد ناقص رہا ہے.. مشرق بعید میں جاپان اور جنونی کوریا کے استثنا کے ساتھ.. بر صغیر کے دو بڑے پڑوسی ملک ہندوستان اور پاکستان میں تو صورتحال بد سے بدتر ہے،، پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے اور پس پردہ فوج حکمرانی کرتی ہے.. جمھوری سیٹ اپ اب تک ناپختہ ہے.. ادارے بھی شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں، اور فوج کی گائڈ لائن فالو کرتے ہیں.. ہمارے ملک کی جمہوریت، مذہبی اکثریت کی دادا گیری بن گئی ہے .. اکثریتی مذہبی رجحانات اب عملاً قانون کا درجہ رکھنے لگے ہیں.. آئین میں ترامیم کے بغیر بھی بہت سے متنازعہ امور انتظامی سطح پر انجام دئے جارہے ہیں.. جو جمہوریت اور جمہوری فکری اساس کے لئے ضرررساں ہیں… لیکن ان سب باتوں سے پرے، کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو ملک کے ہر حصے کو اورسماج کے ہر طبقے کو یکساں متاثر کرتے ہیں.. تمام سیاسی، مذہبی اور فکری اختلاف کے باوجود یہ مسائل مشترک، اور بلالحاظ، سب کی زندگی سے منسلک ہوتے ہیں.. ان میں سر فہرست معیشت کا مسئلہ ہے.. جنگ بھی اگر سب کو یکساں متاثر نہ کرے، تو بھی معیشت ضرور کرتی ہے.. اس کی ابتری، کوئی سوسائٹی زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتی..
کووڈ 19 کے بعد ہندوستان کی معیشت جس بری طرح خراب ہوئی ہے، سب لوگ انگشت بدنداں ہیں.. یہ بھی ایک مغالطہ ہے.. کرونا سے پہلے ہی ہماری معیشت کا بھرکس نکل چکا تھا.. جس کو کوئی حکومت چند دن چھپاسکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں.. اب بھی ہماری حکومت کرونا کی آڑ لے رہی ہے.. لے لے، لیکن اب اپنے اہنکار سے باہر آئے.. نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا کچا ڈھانچہ، اور بے ترتیب لاک بندی پر، اپنی ناکامی پر معذرت بھی نہ کرے. کوئی بات نہیں، لیکن اب اہم قومی ایشوز پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی پہل کرے. وسیع تر مشاورت کی راہ اپنائے. سرحدوں کی صورت حال پر لیپاتوتی کے بجائے، شفافیت اپنائے.. قومی سلامتی کے مسئلے پر اگر ملک کی رائے تقسیم ہوتی ہے تو جنگ ملک کو اکٹھا کیسے کرے گی؟ دنیا کا کوئی ملک 24٪ جی ڈی پی کی گراوٹ کیسے برداشت کرپائے گا.؟ . روزگار کی شرح سالانہ 3 سے 5٪ بڑھانے کے بجائے اگر 50 ٪ گھٹ جائے تو ملک میں لاقانونیت اور انارکی پھیل جانے کا اندیشہ بڑھ جائے گا.. پست معیار زندگی کے ساتھ جنگ بھی نہیں جیتی جاتی.. جنگ کے بعد ابتر معیار زندگی قابل قبول ہوتا ہے لیکن جنگ سے پہلے، یہ حوصلہ شکن ہوتا ہے.. ملک کے لئے موجودہ معاشی صورتحال ایمرجنسی کی صورت حال ہے..پارلیمنٹ میں نمایندگی رکھنے والی اور نہ رکھنے والی سبھی سیاسی پارٹیوں کی آل پارٹیز میٹنگ بلائی جانی چاہئے، اور ان سے تجاویز مانگی جانی چاہئے .. کھلے دل سے، تمام ماہرین کو دعوت دی جائے.. اور ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی سربراہی میں ایک وسیع البنیاد کمیٹی بنائی جائے، جس کے ممبران رگھو رام راجن، ارجیت پٹیل راگھون سمیت بڑے ماہرین ہوں.. جی ایس ٹی میں ریاستوں کے مالی حصے فوراً ریاستوں کو جاری کرنا چاہئے.. لاک ڈاؤن سے ریاستوں کی مالی پوزیشن بہت خراب ہے.. خواہ ریزرو بینک سے ایڈوانس ڈیویڈنت لینا پڑے…
حکومت قومی اتفاق رائے کی طرف قدم بڑھائے یہ ملک کی ضرورت ہے.. سیاست کے لئے ہمیشہ بہت وقت رہتا ہے..