بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعت

ہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعت

#امارت شرعیہ پھلواری شریف میں یک روزہ مدارس اسلامیہ کنونشن کے موقع پر حضرت امیر شریعت مدظلہ کا فکر انگیز خطاب

#پھلواری شریف:(رپورٹ رضوان احمد ندوی)امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام بہار،اڈیشہ،جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے علمائے مدارس اور اصحاب فضل وکما ل علماء وفضلاء کا یک روزہ مدار س اسلامیہ کنونشن کا انعقاد ۶/نومبر کو المعہدالعالی لتدریب القضاء والافتاء کے کانفرنس ہال میں زیر صدارت امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ العالی ہوا، اس کنونشن سے صدارتی خطاب میں حضرت امیر شریعت مدظلہ نے فرمایا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مدارس اور علماء مجموعی طور پر ہمیشہ بے داغ رہے ہیں، ان کے کام،مشن اور تحریکا ت صاف وشفاف رہے ہیں۔ یہ وہ مدارس اور علماء ہیں، جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے جد وجہدمیں قائدانہ کردار ادا کیا اور سر فروشانہ حصہ لیا اور جنہوں نے آزاد ہندوستان میں نئی نسل کی تعلیم، تعمیر، اور تہذیب کی بیش بہا خدمات انجام دی۔ حضرت نے فرمایا کہ پچھلی دوصدیوں میں انہیں مدارس کے تربیت یافتہ علمانے برصغیر ہند کو قیادت بھی دی، معاشی فکر کے دائرہئ کا رکو بھی وسیع کیا،نئے سماجی تجربے بھی کئے، سیاست میں اپنی اسلامی فکر کو پوری طرح سامنے رکھتے ہوئے شراکت داری میں حکومتیں بھی قائم کی اور تعلیم کے میدان میں دنیاکی سطح پر انقلاب بھی پیداکیا لیکن آج سیاسی مفاد کی خاطر مدارس پر الزام تراشی کا ماحول بنایا جارہاہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نفرت اور تشددکی آبیاری کرتے ہیں۔ اور معاشرے میں زہر گھولنے کے لیے مدار س کو لگاتار نشانے پر لئے ہوئے ہیں ہمیں ان حالات میں حکمت وبصیرت اور تدبر کے ساتھ مسائل کو سمجھنا ہے اور اپنے مدارس کے نظام تعلیم کو معیاری اور بہتر بنانے پر توجہ دینی ہے،آج کا یہ اجتماع ان ہی مسائل ومعاملات پر تبادلہ خیال کے لیے طلب کیا گیا ہے الحمد اللہ آپ لوگو ں کے قیمتی اور مفید مشورے آئے ہم سب لوگ ان کو عملی شکل دینے کی جد وجہد میں لگ جائیں۔ حضرت امیر شریعت نے اپنے خطبہ ئ صدارت میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پوری پالیسی سے اقلیتوں کا اعتماد مجروح ہورہاہے۔امارت شرعیہ بہار واڈیشہ وجھارکھنڈکے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشادر حمانی قاسمی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ آج ہم جس ادارے کے تاریخی ہال میں بیٹھے ہیں جس میں ہمیشہ ہمارے فلاح وبہبود کی باتیں ہوئی ہیں اور اس کے لئے لائحہ عمل اپنایاہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ یہاں سے ہم سب ایک نئی توانائی اور نئے عزم کے ساتھ اٹھیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مدارس کی پیداکی ہوئی صلاحتیں ہمیشہ ملک وملت کے کام آئی ہیں۔ اس لیے مدرسوں کا وجود ملک کے لیے ایک عظیم نعمت ہے،اس کا ایک سو پچاس سالہ کردار گواہ ہے کہ یہاں سے ہمیشہ ملک کی تعمیر کاکام ہوایہ مدارس آرٹیکل ۰۳/ میں ملے حقوق کے تحت چل رہے ہیں۔ ان میں سرکار دخل انداز نہیں ہوسکتی۔ ملک میں تمام اقلیتوں کو اپنے ادارے قائم کرنے اور چلانے کا آئینی حق حاصل ہے۔ یہ مدرسے ملک کی شرح خواندگی میں اضافہ کررہے ہیں۔ملک میں مدارس جیسی روشن تاریخ اور کسی کی نہیں ہے۔ اس کا خ فقیری میں راجہ رام موہن رائے، ڈاکٹر راجندر پرساد، منشی پریم چند، ڈاکٹر شنکر دیا ل شرما، مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا عبیداللہ سندھی فخرالدین علی احمد اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسی نامور شخصیات کی بنیادی تعلیم ہوئی۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے فرمایا کہ ملک وملت کی تعمیر میں مدارس اسلامیہ نے نمایاں کردار اداکیا ہے اگر یہ مدارس موجود نہ ہوتے تو یہ ملک غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہ ہوتا انہی مدار س کے علماء وفضلاء نے ملک کی آزادی کے لیے جان ومال کی قربانیا ں دیں قید وبند کی صعوبتیں بر داشت کیں اور اس وقت تک دم نہ لیا جب تک ملک آزاد نہیں ہوا ان علمائے کرام کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے مدرسوں میں تعلیم وتربیت پائی۔ انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کی نشأۃ ثانیہ میں ان مدارس کے علمائے کرام کی بڑی قربانیاں رہی ہیں آزادی کے بعد علمائے مدارس نے تعلیمی سماجی اور معاشرتی اصلاحات میں بڑی جدوجہد کی انہوں نے جہاں ایک طرف بڑے بڑے دینی و تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں، عصری علوم کے فروغ کے لیے عصری ادارے بھی قائم کئے امارت شرعیہ نے اس میدان میں بڑاکارنامہ انجام دیا ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، پارامیڈیکل،اور سی بی ایس سی طر ز کے متعدد اسکول بنائے۔جہاں حکومت تک کی نظر نہیں گئی وہاں مدارس کے علماء نے علم کا چراغ جلایا مگر چند مفاد پرست عناصر مدارس پر بے بنیاد الزام لگاکر مدارس کو بدنام کرنے کی ساز ش کررہے ہیں۔ ہمیں ان سے ہوشیار رہنا ہے اور اپنے مدارس کے معیارتعلیم کو بلند کرنے اور قانونی دائرے میں رہ کر اس کے رکھ رکھا ؤ کو بہتر بنانا ہے۔ امارت شرعیہ کے قاضی ئ شریعت حضرت مولانامحمد انظار عالم قاسمی نے فرمایا کہ مدارس اسلامیہ کے نظام تعلیم وتربیت کو ہر جہت سے پرکشش بنانے پر توجہ دیں اساتذہ وطلبہ میں اخلاص وللہیت کا جذبہ ہونا چاہئے اساتذہ وطلبہ دونوں کے اندر ذوق وشوق اور تقریر وتحریر کا ملکہ ہونا چاہئے افہام وتفہیم میں زبان وبیان سادہ اور آسان ہو تاکہ بچے آسانی سے کتابوں کو سمجھ سکیں انہوں نے کہا کہ طلبہ میں اسباق کا مذاکرہ اورتزکیہ اور تصوف کے موضوع پر کسی کتاب کو زیر مطالعہ رہنا بھی مفید ثابت ہو گا۔ انہوں نے انتظامیہ سے اساتذہ کرام کی تنخواہوں کے معیارکو بہتر بنانے اور جس مد کی جورقمیں ہیں اسی مد میں صرف کرنے پر توجہ دلائی۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے مدارس اسلامیہ کودرپیش مسائل اور ان کے حل کی تدابیر پر گفتگوکرتے ہوئے فرمایا کہ مدارس کے دوطرح کے مسائل ہیں۔ایک خارجی دوسرے داخلی اور ان دونوں مسائل پر بہت ہی گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ داخلی مسائل میں بعض ایسی پیچیدگیاں ہیں جن پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مدارس کے دارالاقامہ میں صفائی و ستھرائی کا خاص اہتمام کرنا چاہئے غسل خانہ اور بیت الخلاء کوطلبہ کی تعداد کے لحاظ سے تعمیر کیا جانا چاہئے اور اس کی صفائی کے لیے افراد متعین کئے جانے چاہئے، مولانا مشہود احمد قادری،ندوی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمش الہدیٰ پٹنہ میں کہا کہ مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم ہندی حساب اور انگریزی کی بھی اتنی قابلیت پیداکردینی چاہئے کہ یہاں سے فارغ ہونے والے بچے احساس کمتری کے شکار نہ ہوں۔جناب عبدالوہاب صاحب انچارچ شعبہ اصلاحات اراضی امارت شرعیہ نے کہاکہ مدار س کی زمین وجائیداد کے تحفظ کے لیے ہم سب کو فکر مند رہنا چاہئے قانون کو نہ جاننے کی وجہ سے زمینیں ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جناب انجینئر منظور احمد صاحب نے مدارس کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے نقشہ اور میپ پہلے تیار کیاجائے ہر ریاست کا الگ الگ بائلاز ہوتا ہے جس کا پاس ولحاظ کرنا ضروری ہے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ضروری معلومات حاصل کرلیں تاکہ حکومت کی نظر میں بلڈنگ غیر قانونی نہ ہو۔ جناب سیف اللہ قادری صاحب نے آمد وصرف کے گوشوارے کو آڈٹ کرانے کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جناب مولانا محمد احمد صاحب مدرسہ حسینہ کڈرورانچی نے مولانا ابوالکلام قاسمی شمشی کی مرتب کردہ تحریر مدارس اسلامیہ کے مقاصد کو پڑھ کر سنایا جناب محمد محسن صاحب کویت نے کہا کہ قرآن مجید نے زندگی گذارنے کے طریقے بہت واضح انداز میں بیان کئے ہیں۔ اس سے ہمیں رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔ مولانا محمد ناظم صاحب جنر ل سیکریڑی جمعیۃ علما ء بہار (م)نے کہا کہ جو تجاویزیہاں پاس ہوئی ہیں ان کو عملی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے مولانا محمد اعجاز احمد صاحب سابق چئیر میں مدرسہ ایجوکیش بورڈ پٹنہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام مدارس کے ذمہ داروں کو اپنا مدرسہ مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کنوینشن میں شریک دور دراز کے مقامات سے آئے ہوئے علماء ودانشوراصحاب نے چند مفید تجویزیں پیش کی جناب مولانا محمد ہاشم قاسمی پرولیا بنگال، مولانا اختر صاحب اڈیشہ،پروفیسر محمدفیض صاحب دربھنگہ مولانا ارشد صاحب سلفی چمپارن، مولانا منظور عالم نوری پورنیہ مولانا لطف اللہ قادری صاحب پٹنہ مولانا عبدالواحدقاسمی قاری صہیب صاحب ایم ایل سی جناب انوارالہدیٰ صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کنونشن کے اخیرمیں حضرت نائب امیر شریعت مدظلہ نے ہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعتوضاحت کی کہ اس کنونشن کے لیے چاروں ریاستوں کے نمائندہ علماء کو بلایا گیا ہے۔ اب آپ اپنے اپنے حلقہ اثر میں اس طرح کے تربیتی کیمُپ لگائیں اور مدارس کو اس کنونشن کی روداد اورتجاویز سے واقف کرائیں۔ان شاء اللہ مستقبل قریب میں امارت شرعیہ پچاس پچاس مدارس کے علمائے کرام کے لیے ورک شوپ کا نظم کرے گی۔ اور یہ بھی ارادہ ہے کہ امارت شرعیہ ایک ہیلپ لائن جاری کرے گی تاکہ اس کے ذریعہ آپ کومعلومات بہم پہونچایا جاسکے ۔
اس تاریخ ساز کنونشن کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے بحسن وخوبی انجام دی اور کنونشن کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالی کنونشن کا آغاز مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا مولانا شمیم اکرم رحمانی نے شانِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا جناب فضل رحماں نے لوگوں سے فکرونظر چینل سے جڑ نے کی ترغیب دی اس موقع پر حضرت امیر شریعت مدظلہ کے ہاتھوں دونئی کتابہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعت ”جنرل نالیج“مؤلفہ حضرت نائب امیر شریعت مدظلہ اور”مدارس اسلامیہ اور ہماری ذمہ داریاں“مرتب حافظ محمد امتیاز راحمدرحمانی کا اجرا عمل میں آیا۔پھر نائب ناظم مولانا مفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی نے تجاویز پڑھ کر سنائی جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، اورحضرت امیر شریعت مدظلہ کی دعاپر ہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعتکنونشن کا اختتام عمل میں آیا۔

#پروگرام کے تجاویز:

تجاویز بابت تحفظ مدارس اور نظام تعلیم وتربیت
بموقع مدارس اسلامیہ کنونشن منعقدہ 10/ربیع الثانی 1444ھ مطابق6/نومبر 2022ء
بمقام: المعہدالعالی ہال امارت شرعیہ
زیرصدارت: مفکرملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت امارت شرعیہ ہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعتبہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ

مدارس اسلامیہ نے ہردور میں تعلیم کی ترویج واشاعت میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں، بے حیائی، فحاشی،لادینی اور بے راہ روی کے خلاف اس نے تربیت کا ایک ایسا نظام نافذ کیاکہ طلبہ وطالبات میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ ہوا اور سماج میں صالح اقدار نے رواج پایا۔مدارس اسلامیہ کنونشن کے شرکاء کا احساس ہے کہ ان مدارس کی تعلیمی وتربیتی خدمات کو نظر انداز کرکے مدارس کو غیر قانونی اور دہشت گردی کے اڈے کہہ کر بدنام کرنے کی روش،فرقہ پرستوں کی جانب سے سوچی سمجھی سازش کاحصہ ہے،اس پر پس منظر میں مدارس اسلامیہ کنونشن کے چند درج ذیل تجاویز پر اتفاق کرتے ہیں۔
(۱)مدارس اسلامیہ جہاں کہیں بھی ہیں اور جس معیار کے ہیں وہ اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق دفعہ ۹۲۔۰۳ کے تحت قائم ہیں، انہیں غیر قانونی قرار دینا خود غیر دستوری ہے، اس لئے ان اداروں پر حملے کسی کی جانب سے ہوں اورجہاں کہیں بھی ہوں، کنونشن کے شرکاء کے نزدیک قابل مذمت اور ہمارے حقوق میں دخل اندازی کے مترادف ہے، اس لئے حکومت کو اس قسم کی حرکتوں سے باز رہنا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ مسلمان اسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔
(۲)مدارس اسلامیہ جہاں کہیں بھی ہوں اور جسہمیں مدارس کے تحفظ وبقاکے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا:امیرشریعت معیار کے ہیں انہیں ٹرسٹ یا سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کرالینا وقت کی بڑی ضرورت ہے،اس لئے اس کام کو منصوبہ بند انداز میں جلد از جلد کرالیاجائے۔
(۳) مدارس اسلامیہ کے تعلیمی معیار کو مضبوط کرنے کے لئے نصاب تعلیم مرتب کیاجائے،مدارس کی تعلیم کو اہداف پر مبنی کردیاجائے اورتدریسی آلات تیارکئے جائیں،ایک ایسانصاب جس کی تکمیل کے بعد مدارس کے فارغین کے اندر تدریس کی مضبوط استعداد پیدا ہو اور وہ بہتر مدرس اور اچھے داعی بن سکیں،اس کی تیاری کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم فرمادیں اورانہیں کام کو محدود وقت میں مکمل کرلیاجائے تاکہ اگلے تعلیمی سال سے مدارس میں اس کا نفاذ ہوسکے۔
(۴)اس نصاب تعلیم میں تدریسی آلات کے استعمال کے ساتھ مشاہدہ کرنے پر بھی زور دیاجائے تاکہ ہمارے طلبہ علی وجہ البصیرت ان مسائل کو سمجھ سکیں جو انہیں مختلف کتابوں میں پڑھائے جارہے ہیں، مشاہدہ کے ذریعہ اوقات صلوۃ،بیوع وغیرہ کے مسائل اور کیل واوزان کو بآسانی سمجھانے کے لئے اسے تعلیمی نصاب کا جزبنائیں۔
(۵) مدارس اگر شخصی زمین پر قائم ہوتو اس کی رجسٹری مدرسہ کے نام پر فوری طورپر کرالیا جائے تاکہ سرکاری دخل اندازی اور خود جس کے نام زمین ہے اس کے ورثاء کے خرد برد سے مدارس کی آراضی کو تحفظ حاصل ہو، جن مدارس کی آراضی مدرسہ کے نام ہے لیکن داخل خارج اور سرکار ی ضابطہ کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا نہ کیاگیاہو توفوری طورپر اس طرف توجہ دی جائے۔
(۶)جن علاقوں میں مدارس کی عمارت کی تعمیر کے لئے نقشہ منظور کرانا ضروری ہے،تعمیر سے قبل اس کی منظوری سرکاری محکمہ سے ضرور لی جائے اور اگر منظورشدہ عمارت پر کوئی سرکاری ٹیکس لگتاہے تواسے ضابطہ کے مطابق ادا کیاجائے۔
(۷)مدارس اسلامیہ میں حساب کتاب کا جو قدیم طریقہ رائج ہے وہ یقینا صاف وشفاف اور دیانت کے مطابق ہے لیکن موجودہ حالات میں اسےindia accounting standards، سرکاری ضابطہئ محاسبی کا پابند کیاجائے جس سے شفافیت اور بڑھ جاتی ہے اورسالانہ حساب آڈٹ کراکر رکارڈ میں رکھاجائے۔سوسائٹی یا ٹرسٹ کے ضابطہ کے مطابق اسے سرکاری محکمہ میں جمع کرنا ضروری ہوتو ضابطہ کی پابندی کی جائے۔
(۸)ہرقسم کے کاغذات کے محفوظ رکھنے کا بندوبست کیاجائے اوراس سے کسی حالت میں بھی صرف نظر نہ کیاجائے۔
(۹)طلبہ کے قیام وطعام کے لئے محکمہ بہبودیئ اطفال نے جو پیمانہ مقرر کررکھاہے اس کی پابندی کی جائے، طلبہ کے لئے مناسب غذا اوراچھی رہائش کا انتظام کیاجائے،یہ طلبہ کی جسمانی و دماغی نشو ونما کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے، اس سے طلبہ کا رجوع مدارس اسلامیہ کی طرف بڑھے گا اورامراء بھی اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کرنے لگیں گے۔
(۰۱) طلبہ درس وتدریس میں شفقت ومحبت کاماحول قائم کیاجائے،اس سے بچوں کی رغبت تعلیم کی طرف بڑھے گی۔غیر ضروری تادیب سے پرہیز کیاجائے۔
(۱۱)مدارس میں تعلیم، ورزش، مطالعہ اور تربیت کے لئے ایک نظام الاوقات بنایاجائے تاکہ طلبہ میں ہر کام وقت پر کرنے کا مزاج بنے اور نماز پنج گانہ،تلاوت قرآن اور درس کی پابندی سے کبھی بھی صرف نظر نہ کیاجائے۔
(۲۱)مدارس کے نصاب تعلیم، نظام تعلیم اور نظام امتحان میں یکسانیت پیداکی جائے، مقدار خواندگی تکمیل کے مسابقاتی مزاج پیدا کرنے کی غرض سے اجتماعی نظام کے ساتھ جڑا جائے،امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے زیر اہتمام قائم وفاق المدارس الاسلامیہ اس اجتماعی نظام کی بہترین شکل ہے،اس لئے اس ضرورت کی تکمیل کے لئے امارت شرعیہ کے وفاق سے جڑ جانابھی اس کی ایک شکل ہے۔
(۳۱)بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کے لئے ہرگاؤں میں خود کفیل مکاتب قائم کئے جائیں،ممکن ہوتو قریب کے بڑے مدارس ان مکاتب کی نگرانی کے فرائض انجام دیں اور ان کے میزانیہ میں گنجائش ہوتو بعض ایسے گاؤں کو گود لے لیں جہاں کے لوگ اپنی غربت کی وجہ سے مکاتب کانظام قائم نہیں کرپارہے ہوں، اس سے ان مدارس کا دائرہ کار بھی بڑھے گا اور اس گاؤں کے لوگوں کی توجہ مدرسہ کی طرف بڑھے گی۔
(۴۱)مسلمان لڑکے اور لڑکیوں میں مذہب سے بیزاری اورغیر سے اختلاط کے نتیجے میں ارتداد کے واقعات میں کثرت سے اضافہ ہورہاہے، مدارس اسلامیہ کو اپنے علاقوں میں اس معاملہ پر خصوصی نظر رکھنی چاہئے اور گارجین حضرات کو گھر کے ماحول کو پاکیزہ رکھنے پر آمادہ کرنا چاہئے۔
(۵۱)مدارس اسلامیہ کو اپنے مدرسہ کی دینی تعلیم کو متاثر کئے بغیر عصری تعلیم کے ادارے قائم کرنے چاہئے،ان اداروں کے نصاب میں بنیادی دینی تعلیم اوراسلامیہ ماحول کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہئے۔
(۶۱)مدارس کو اصلاح معاشرہ کے کاموں کے لئے آگے آنا چاہئے اور ہرعلاقہ میں مقامی،سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے،جمعہ کے خطبے اور دینی جلسے اس کام کے لئے انتہائی موزوں ہیں، دعوتی اور تبلیغی سرگرمیاں بھی مدارس میں جاری رہناچاہئے،اس سے بھی اصلاح کا بڑا کام ہوتاہے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے